کرونا وائرس: گھبرائیں نہیں احتیاطی تدابیر اپنائیں

کرونا وائرس: گھبرائیں نہیں احتیاطی تدابیر اپنائیں
کرونا وائرس: گھبرائیں نہیں احتیاطی تدابیر اپنائیں

  



کرونا وائرس ایک گلوبل وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ چین کے شہر دوہان سے پھوٹنے والی اس وبا نے 162ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد181290سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 7128 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ چین کے بعد اٹلی میں 2ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ایران میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ کرونا وائرس سے متاثرہ 78486مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ماہرین کے مطاق یہ وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنی یہ تباہی پھیلا چکا ہے۔ کرونا وائرس کی زندگی 12گھنٹے ہوتی ہے۔ یہ وائرس گلے کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچتا ہے۔ یہ پہلے چار دن گلے میں رہتا ہے جس سے انسان کھانستا ہے اور گلے میں درد محسوس کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس سانس کی نالی پر انفیکشن کرتا ہے جس سے اموات کے امکانات تقریباً تین فی صد ہے۔

یہ بات سامنے آئی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہی کرونا وائرس سے بچا جاسکتا ہے۔ لہٰذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کریں تاکہ اس کے اثرات کو زائل کیاجاسکے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ صابن سے اپنے ہاتھ بار بار کم از کم 20سیکنڈ تک دھوئیں کیونکہ بار بار ہاتھ دھونے سے یہ وائرس دُھل جاتا ہے۔اسی طرح ہمیں چاہیے کہ کھانستے وقت اپنا منہ اور ناک رومال، ٹشو پیپر یا کہنی سے ڈھانپ لیں تاکہ جراثیم دوسرے انسان میں منتقل نہ ہوں۔اسی طرح افواہوں پر کان نہ دھریں اور ماسک پہننا ہر فرد کیلئے لازم نہیں۔ماسک صرف متاثرہ شخص ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں۔ کرونا وائرس کے مریض کے ساتھ غیرضروری ماحول سے پرہیز کیاجائے اور مریض کے استعمال کی اشیاء علیٰحدہ رکھی جائیں۔ متاثرہ ممالک سے آنے والے افراد بخار، کھانسی یا سانس کی تکلیف کی صورت میں فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرائیں۔ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے بتایاکہ پنجاب میں صرف ایک کنفرم مریض ہے جبکہ 22مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ ٹیسٹ نیگٹو آنے کی صورت میں انہیں فارغ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایاکہ کنفرم مریضوں کو پی کے ایل آئی میں ٹرانسفر کیا جائے گا۔ حکومت پنجاب نے محکمہ صحت کو ضروری سامان خریدنے کیلئے 24کروڑ روپے کے فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔ کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے 10ہزار کٹس منگوائی جا رہی ہیں۔ پنجاب کابینہ نے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کی منظوری بھی دے دی ہے اور ایک لاکھ لوگوں کیلئے ایک ہفتہ کے اندر علاج معالجہ کی سہولت قائم کی جاسکتی ہے۔

پنجاب میں 3 ہزار چینی باشندوں کی سکریننگ کا کام مکمل کر لیاگیا ہے جبکہ ایران سے آنے والے تقریباً 4ہزار زائرین کی سکریننگ کر لی گئی ہے۔ حکومت پنجاب نے ڈیرہ غازی خان میں 800مریضوں کیلئے قرنطینہ کی سہولت قائم کر لی ہے۔کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے صوبہ بھر کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں ہائی ڈیپینڈینسی یونٹس اور آئسولیشن وارڈز قائم کر دیئے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبہ بھر میں کرونا وائرس سے بچاؤ اور پیشگی سدباب کے لئے تین ہفتوں کے لئے تعلیمی ادارے بند رکھنے اور عوامی اجتماعات نہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں - صوبہ بھر میں تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بشمول سکول، کالج، میڈیکل کالج، ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ، یونیورسٹیزاگلے تین ہفتے کے لئے بند رہیں گے اوراگلے تین ہفتو ں کے دوران ہونے والے تمام امتحانات منسوخ کردیئے گئے ہیں - تمام ٹیوشن سینٹر بھی بند رہیں گے فیصلے کے مطابق تمام دینی مدارس تین ہفتے کے لئے بند رکھے جائیں گے - دینی مدارس میں بند صرف غیرملکی طلبہ کو مدارس کے ہوسٹل میں رہنے کی اجازت دی جائے گی-وزیراعلیٰ کے احکامات کے مطابق صوبہ بھر میں تمام میرج، بینکوئٹ ہال اور مارکی تین ہفتوں کے لئے بند رہیں گی-اگلے تین ہفتوں کے لئے تمام مذہبی اجتماعات اورتقریبات بھی منسوخ کردی گئی ہیں -جشن بہاراں اور دوسرے میلے بھی تین ہفتے کے لئے منسوخ کردیئے گئے ہیں - وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری اور نجی سپورٹس فیسٹیول بھی تین ہفتے کے لئے منسوخ کئے جاچکے ہیں -وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق تین ہفتوں کے لئے جیلوں میں مقیم قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے اورتین ہفتوں کے لئے تمام قسم کے عوامی اجتماعات کے انعقاد پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے-وزیراعلیٰ کی ہدایت پرپی ایس ایل کے میچزشائقین کے بغیر منعقد ہوں گے-وزیراعلیٰ کی ہدایت پرمحکمہ پرائمری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کی مشاورت کے ساتھ محکمہ اطلاعات موثرمیڈیا کمپین کا اہتمام کررہا ہے- تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹ مذکورہ بالا احکامات کی تعمیل کے لئے مؤثر اقدامات اور گائیڈ لائن جاری کردی گئی ہیں -وزیر اعلیٰ کے احکامات فوری طور پر فوری طورپر عمل درآمد کردیاگیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرے سے آگاہ ہیں، نمٹنے کیلئے انتظامی تیاریاں مکمل ہیں۔ وفاقی حکومت کے ساتھ کورونا وائرس کے معاملے پر مکمل ہم آہنگی ہے۔خوف و ہراس پیدا کرنے والے فیصلے نہیں کریں گے۔کوروناوائرس کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لئے وزیرخزانہ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی جبکہ اضلاع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں سول سوسائٹی کے ارکان پر مشتمل کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے مقامی سطح پر اقدامات کرسکیں گی-وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اجلاس میں ماسک، حفاظتی کٹس اور سینی ٹائزرکی مقامی سطح پر تیاری کا جائزہ لینے کی ہدایت کی - این ڈی ایم اے پنجاب کوایک ہفتے میں 10ہزار حفاظتی ملبوسات فراہم کرے گی-ایک ہزار حفاظتی کٹس پہنچ گئی، 5ہزار مزید کٹس جلد پہنچا دی جائیں گی- انہوں نے کہاکہ ہسپتالو ں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حفاظت کے لئے تمام تر اقدامات کریں گے-ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو حفاظتی کٹس اور ماسک وغیرہ بھی فراہم کئے جا رہے ہیں -کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے دستیاب وسائل کو منطقی انداز میں استعمال کیاجائے-فیس ماسک کی صحت مند آدمی کو ضرورت نہیں،طبی عملے کو فیس ماسک اور دیگر ضروریات کی فراہمی یقینی بنائیں گے -انہوں نے کہاکہ ماسک وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا-راولپنڈی اورلاہور میں کارروائیوں کے دوران 90ہزار ماسک برآمد کئے گئے ہیں - ملتان کی لیبر کالونی میں 3ہزار سے زائد مریضوں کے لئے قرنطینہ قائم ہوگا-تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز کے کمروں کو آئسولیشن کے لئے استعمال کیاجائے گا-وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بس سٹینڈز پر دیگر صوبوں سے آنے والے مسافروں کی طبی چیکنگ کی جائے-

مرکزی اورضلعی سطح پرکورونا وائرس کے بارے میں آگاہی کے لئے ہیلپ لائن قائم کی جائے-کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی اور شرکاء نے سفارشات پیش کیں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے کئے گئے احتیاطی و حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے مختلف علاقوں کے دورے شروع کر دیئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے راولپنڈی میں انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی میں قائم کرونا مینجمنٹ سینٹر کا اچانک دورہ کیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی میں 50بستروں پر مشتمل سنٹر قائم کیا ہے خدانخواستہ ضرورت پڑنے پر بستروں کی تعداد میں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایاکہ ائرپورٹس پر سکریننگ کا عمل مزید مؤثر بنایاگیا ہے۔ بزدار حکومت نے پاکستان کڈنی اینڈ لیورٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ میں کرونا کیئر سنٹر قائم کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کرونا کیئر سنٹر کا اچانک دورہ کیا اور ممکنہ مریضوں کو علاج معالجہ کیلئے کئے جانے والے پیشگی انتظامات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایاکہ حکومت نے اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات مکمل کر لئے ہیں اور پی کے ایل آئی میں 30بستروں پر مشتمل کرونا کیئر سنٹر قائم کیاگیاہے جبکہ ممکنہ مریضوں کیلئے پی کے ایل آئی میں بھی تین فلور مختص کر دیئے ہیں اور تین فلور پر بیڈز کی تعداد 75ہے۔ اسی طرح ضرورت پڑنے پر 500مزید بیڈز کی گنجائش موجود ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنا ہیلی کاپٹر کرونا ہیلتھ ایمرجنسی کے پیش نظر محکمہ صحت کے حوالے کر دیا ہے جو کرونا وائرس سے نمٹنے اور دیگر امور کی انجام دہی کیلئے ہیلی کاپٹر استعمال کرسکے گا۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ضروری طبی امداد کیلئے ادویات، آلات اور کٹس کے علاوہ مریضوں کی منتقلی کیلئے استعمال میں لایاسکے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام کی صحت سے زیادہ کچھ اہم نہیں۔ہیلی کاپٹر اور وسائل عوام کی امانت ہیں جو انہی کی سہولت کیلئے استعمال میں لائے جائیں گے۔ کرونا وائرس سے بچاؤ اور پیشگی حفاظتی اقدامات میں کوئی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔سردار عثمان بزدار نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے قیدیوں کی سزاؤں میں دو ماہ کی معافی کا اعلان کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کاکہ بزدار حکومت عوامی فلاح و بہبود کیلئے ہرممکن اقدامات کر رہی ہے۔

کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں حکومت کا ساتھ دینے اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے کھلاڑی، فلم و ڈرامہ کے فنکار میدان میں آ گئے ہیں۔کرکٹر بین ڈنک،لیجنڈی اداکار مصطفےٰ قریشی، غلام محیی الدین، احسن خان، سیمی خان، جنید خان، عمران عباس، علی رحمان، یاسر نواز اور حریم فاروق ”سیلوٹ سلام“ آگاہی مہم میں اپنا متحرک اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے مداحوں کو کرونا سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے ویڈیو پیغام جاری کئے ہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت کے اقدامات کو قابل ستائش قرار دیا ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جنگ میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ اس عفریت پر قابو پایاجاسکے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جاسکے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاہے کہ ڈیرہ غازی خان میں آنے والے زائرین کے پہلے بیج میں شامل 42افراد میں سے 5افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد پنجاب میں متاثرہ افراد کی کُل تعداد 6ہوچکی ہے۔ڈاکٹر یاسمین نے اس موقع پر مزید بتایاکہ اس وقت ڈیرہ غازی خان میں 736افراد زیرنگرانی ہیں جن کو محدود کرکے ہر طرح کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔تمام صورتحال کے بارے عوام کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیاجا رہا ہے۔کورونا وائرس بہت جلدی پھیلنے والی وباء ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ 80فیصد افراد خودبخود ریکورکر جائیں گے باقی 20فیصد افراد کو ہسپتال لا کر ایک سے دو فیصد افراد کو وینٹی لیٹر پر رکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پنجاب میں اس وقت 1250وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں اور مزید 1000وینٹی لیٹرز کی خریداری کا عمل شروع کر دیاگیاہے۔

اہم بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کا ہر مریض وینٹی لیٹر پر منتقل نہیں کیاجاتا۔زائرین کا دوسرا گروپ بہاولپور جا رہا ہے۔ 1200لوگوں کیلئے کورنٹین قائم کردیاگیا ہے۔زائرین کے تیسرے گروپ کو ملتان میں رکھا جائے گا۔اس کے علاوہ کالاشاہ کاکو میں الگ کورنٹین بنا دی گئی ہے۔ کورونا وائرس کی تصدیق یا شبہ والے مریضوں کو الگ محدود مقام پر رکھا جائے گا۔ مریضوں کے پہلے گروہ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ راولپنڈی میں بھی ایک کورنٹین قائم کیا جا رہا ہے۔ محکمہ پولیس کے ملازمین کی سہولت کی خاطر پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ لاہور میں ہسپتال کو کورنٹین سنٹر میں منتقل کرنے جا رہے ہیں۔اسی طرح ہر ڈویژن میں ایک ایک ہسپتال کو مختص کر دیاجائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدان کسی ترقی یافتہ ملکوں کے ماہرین سے کم ہیں۔شاعر مشرق علامہ اقبال کا شعر ہے کہ ”ذرا نم ہو مٹی تو بڑی زرخیز ہے ساقی“ اگر ان کی سرپرستی کی جائے اور مطلوبہ ڈیمانڈز پوری کی جائیں تو یہ ستاروں پر کمند ڈال سکتے ہیں۔ایک خبر کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے سستی کٹ تیار کر لی ہے جس کے تحت کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کا ٹیسٹ صرف پانچ ڈالر یعنی تقریباً آٹھ سو روپے میں ہوسکتا ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے معروف پروفیسر اور سنٹر آف ایکسیلینس ان مالیکولر بائیولوجی کے سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس کی سربراہی میں یہ کٹ تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چند بنیادی اجزاء کی فراہمی پر ایک ہفتے میں حکومت کو ہزاروں کٹس بناکر فراہم کی جاسکتی ہیں۔

شہریوں کو چاہیے کہ وہ حکومت کی طرف سے جاری کی گئی ایس او پیز پر عمل درآمد کریں اور کسی رش والی جگہ پر نہ جائیں اور غیرضروری سفر سے گریز کریں۔ہاتھوں کو بار بار دھوئیں۔اگر کسی کو نزلہ،زکام، کھانسی اور بخار کی شکایت ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اپنے آپ کو قرنطینہ میں رکھیں۔ اس وباء سے صرف اور صرف احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہی بچاجاسکتا ہے۔لہٰذا ہر شہری کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر اپنائیں۔

مزید : رائے /کالم