سرکاری دفاتر میں عوام کا داخلہ بند، واہگہ بارڈر سیل، کرونا مریضوں کی تعداد 456ہو گئی، بلوچستان میں انٹرسٹی، لوکل بسیں بند، پنجاب میں گھروں میں شادیوں سالگرہ کی تقریبات پر بھی پابندی، کرونا وائر س کے حوالے سے سرکاری ویب سائٹ لانچ

      سرکاری دفاتر میں عوام کا داخلہ بند، واہگہ بارڈر سیل، کرونا مریضوں کی ...

  



لاہور، کراچی،اسلام آباد،کوئٹہ،پشاور (سٹاف رپورٹر،جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 152 کیسز سامنے آگئے، مجموعی تعداد 456 ہوگئی صوبہ سندھ میں گزشتہ روز مزید 37، پنجاب میں 45، بلوچستان میں 58، خیبر پختونخوا میں 4 اور گلگت میں 8 نئے کیسز سامنے آئے ہیں سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 37 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 245 ہوگئی ہے۔ترجمان محکمہ صحت نے بتایا کہ تمام 37 کیسز کراچی میں رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ایک متاثرہ شخص کے رابطہ میں رہنے والے افراد کے بھی ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ اب تک سکھر میں 151، کراچی میں 93 اور حیدرآباد میں کورونا وائرس کا ایک کیس ہے۔محکمہ صحت حکام کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونیوالے افراد کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔ بلو چستان میں کورونا وائرس کے مزید 58 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 81 ہو گئی ہے۔ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کورونا وائرس کے 58 نئے کیسز کی تصد یق کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں اب تک 81 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔پنجاب کی وزیرصحت یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 78 ہو گئی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمین راشد نے بتایا کہ 384 نمونوں کیٹیسٹ کیے جن میں سے 320 نتائج منفی آئے جب کہ 78 افراد کے کیسز مثبت رپورٹ ہوئے۔ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے مریضوں میں پیپلز پارٹی کے مرحوم سینیٹر کی بیٹی بھی شامل ہیں جو چند روز قبل برطانیہ سے پاکستان پہنچی تھیں۔پنجاب میں سرکاری دفاتر میں ملازمین کی تعدادکم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ صوبے میں دکانیں آج رات 10 بجے بند کردی جائیں گی، اس کے علاوہ شاپنگ مالز اور ریسٹورینٹس بھی رات 10 بجے بند کر دیے جائیں گے تاہم میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے۔گلگت بلتستان میں مزید 8 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد وہاں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 21ہوگئی ہے۔کمشنرگلگت عثمان احمد نے کہا کہ آٹھوں نئے مریض بھی تفتان کے راستے 16 مارچ کوگلگت بلتستان پہنچے تھے، کورونا کے 8 میں سے 4 مریض ضلع گلگت اور 4 مریض ضلع نگر کے رہائشی ہیں۔ اسلام آباد میں 4 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں کورونا کے کیسز کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر کوئٹہ کے تمام بڑے شاپنگ مالز،ریسٹورینٹس اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی حکومت نے ایک ارب روپے سے کورونا فنڈ قائم کردیا جب کہ وزرا، اراکین اسمبلی اور ملازمین اپنی تنخواہیں عطیہ کریں گے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک میں بڑے ہوٹلز کو قرنطینہ سینٹرز میں تبدیل کرنے کیلیے صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو خط لکھ دیا۔این ڈی ایم اے کی جانب سے آزاد کشمیر سمیت تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو 16 مارچ کو خط لکھا گیا جس میں کہا گیا ہیکہ کورونا وائرس کو مزید پھیلاو سے روکنے کے اقدامات کے پیش نظر ملک میں تھری اور فور اسٹار ہوٹلز کو خالی کروا کر قرنطینہ مراکز میں تبدیل کیا جائے، کورونا وائرس کے ایک مشتبہ شخص کیلیے ایک کمرہ کی پالیسی اپنائی جائے۔خط میں مزید کہا گیا کہ این ڈی ایم اے کو قرنطینہ مراکز کی تفصیلات سے فوری طور پر آگاہ کیا جائے کرونا کے مریض بڑھنے کے بعد حکومت بلوچستان نے صوبے میں انٹر سٹی بس سروس 15 روز کے لیے بند کر دی۔ حکام کے مطابق مسافروں کی بین الصوبائی نقل و حرکت 15 دن بند رہے گی جب کہ دارالحکومت کوئٹہ میں بھی لوکل بسوں اور کوچز کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ بین الاضلاعی نقل وحرکت پر بھی 2 روز بعد پابندی عائد ہوگی۔ ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے زیر صدارت کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے اعلی سطح اجلاس میں بتاہا گیا ہے کہ صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 213 ہو چکی ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کے اب تک 41 افراد میں مقامی طور پر وائرس منتقل ہوا۔ شام سے آنے والے 8، دبئی 3، ایران 4، سعودی عرب سے 3 افراد میں کرونا وائرس پایا گیا۔اجلاس میں ایکسپو سینٹر کراچی میں دس ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال اور آئسولیشن سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کمشنر کراچی اور بریگیڈئیر سمیع پر مشتمل کمیٹی یہ کام سر انجام دے گی۔وزیراعلی سندھ نے غریب افراد میں 20 لاکھ راشن بیگز تقسیم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اس میں تین قسم کی دالیں، خشک دودھ، گھی، شکر، مصالحے، آٹا اور چاول شامل ہوں گے۔ کور کمانڈر کراچی نے سندھ حکومت کو مدد کی یقین دہانی کرائی۔خیبر پختونخوا میں بھی کرونا وائرس کے مزید 15 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 34 ہو گئی ہے۔اس وقت ڈی آئی خان سے 3، کرم ایجنسی 5، مردان 3، لوئر دیر 1، ملاکنڈ 1، پشاور اور ہری پور سے ایک ایک کیس کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ متاثرہ افراد کو ڈی آئی خان درہ زندہ آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرہ افراد کے گھر فوڈ پیکیج بھجوانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر پشاور میں مزید قرنطینہ سینٹرز ڈکلیئر کر دیئے گئے ہیں۔ جامعہ پشاور کے ہاسٹل، دیگر جامعات کے سب کیمپس، کیمپس کے اندر واقع تعلیمی ادارے، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان اکیڈیمی فار رورل ڈیویلپمنٹ کو بھی قرنطینہ قرار دیدیا گیا ہے۔بونیر میں کرونا کیس تصدیق کے بعد پورے علاقے کو لاک ڈاؤن کرتے ہوئے قرنطینہ قرار دیدیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے گاؤں کے باشندوں کو 15 دن گھروں میں رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ علاقے میں ہوٹل، چائے خانوں اور حجام کی دکانیں، گاڑیوں کے اڈے بھی سیل کر دیے گئے ہیں۔ متاثرہ شخص کے گھر والوں کے نمونے حاصل کرتے ہوئے انھیں ٹیسٹ کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلا کے خدشے کے پیش نظر وفاقی حکومت نے دوہفتے کے لئے واہگہ بارڈر سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جس کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے، جس میں کہاگیا ہے کہ واہگہ بارڈر دو ہفتے تک سیل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔پنجاب میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث حفاظتی انتظامات مزید سخت کرتے ہوئے تمام سرکاری دفاتر میں عام شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے نوٹی فکیشن کے مطابق دکانیں، شاپنگ مالز، ہوٹل اور ریسٹورنٹس رات 10 بجے بند کردیے جائیں گے جب کہ میڈیکل اسٹورز اور کریانے کی دکانیں معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق کورونا وائرس کے پیش نظرپنجاب حکومت نے تمام سرکاری دفاترمیں عوام کا داخلہ بند کردیا گیا ہے اس کے علاوہ مری سمیت پنجاب بھر کے سیاحتی مقامات کو بھی سیاحوں کے لیے بند کردیے گئے ہیں پنجاب میں کورونا وائرس کے سبب گھروں پر بھی سوشل تقریبات کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے

۔ گھروں پر شادی، سالگرہ اور دوسری تقریبات کیانعقاد پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ تمام جم اور سنوکر کلب بھی بند رہیں گے۔ نوٹی فیکشن جاری کر دیا گیا۔تفصیل کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغا کی ہدایت پر ہر قسم کی تقریبات پر دفعہ 144 عائد کر دی گئی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی ہدایت پر انٹرنل سکیورٹی ونگ کے آفیسر احمد بلال نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغا کا کہنا ہے کہ کوئی بھی فرد اپنے گھر پر بھی کسی قسم کی تقریب منعقد نہیں کر سکتا۔ گھر، دفتر یا کسی بھی پرائیویٹ جگہ پر کسی بھی قسم کی تقریب کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پرائیویٹ جگہ تقریب کرنے پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔دریں اثنا پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لئے افواج پاکستان پوری طرح متحرک ہیں۔ عوام کا اعتمادافواج پاکستان کا اثاثہ ہے۔ ہر کسی کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اسلام آباد میں معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج سول اداروں کے ساتھ مل کر تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ پاک فوج سول اداروں کے ساتھ مل کر قرنطینہ میں مدد کر رہی ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کے 13 مارچ کے اجلاس میں ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وبا سے پاکستان کو محفوظ رکھے۔ پاک فوج حکومت کے ساتھ ملک کر کرونا وائرس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے فارمیشن کو ہر ممکن مدد کی ہدایت کی ہے۔ تینوں مسلح افواج کی میڈیکل سہولتوں کو ہر طرح سے تیار کیا گیا ہے۔ فوج کے تمام ادارے مشترکہ نگرانی کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ قرنطینہ سینٹر بنانے سے متعلق بھی معاونت کر رہے ہیں۔ ملتان کے قرنطینہ سینٹر میں پاک فوج بھرپور مدد کر رہی ہے۔ سکھر میں رینجرز قرنطینہ سینٹرز کے قیام میں معاونت کر رہی ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ لوگوں کو بروقت اور درست معلومات دینا ضروری ہے۔ موبائل کمپنیوں کیساتھ مل کر پیغامات عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے کورونا وائرس کے حوالے سے باضابطہ سرکاری ویب سائٹ لانچ کردی۔اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ عوام کو کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ ترین اور مصدقہ اطلاعات پہنچانے کیلئے حکومت پاکستان نے سرکاری ویب سائٹ تیار کرلی ہے۔انہوں نے بتایا کہ http://covid.gov.pk پر عوام پورے پاکستان میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے حوالے سے معلومات بھی حاصل کرسکیں گی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے حکومت اور اسٹیک ہولڈرز متحرک ہیں، قرنطینہ میں موجود زائرین سے وزیراعظم نے مسائل سنے، وفاقی اور صوبائی حکومت اپنی ذمیداریاں پوری کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم اس کا مقابلہ کرنا ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں معیشت کو دھچکا لگا ہے، پاکستان میں بھی اسکے اثرات ہیں، ڈیلی ویجر عوام کی جان و مال اور صحت کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔فردوس عاشق نے عوام سے اپیل کی کہ وہ میل جول کم کریں، پْرہجوم محفلوں میں جانے سے اجتناب کریں، بدقسمتی سے کچھ مٹھی بھر عناصر مصنوعی بحران اور ناجائز منافع خوری کررہے ہیں، مصنوعی بحران اور ناجائز منافع خوروں کیخلاف وزیراعظم نیصوبائی حکومتوں کو ہدایات دے دی ہیں۔معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ ہمیں کسی قسم کی غذائی قلت کا سامنا نہیں ہے، کھانیکی اشیاء وافر مقدار میں موجود ہیں، مصنوعی بحران اور ناجائز منافع خوروں کیخلاف وزیراعظم نیصوبائی حکومتوں کو ہدایات دے دی ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پوری قوم متحد ہوتی ہوئی نظر ا?رہی ہے، صحت کیشعبیمیں تعاون کیلئے چین سے بات چیت ہوئی ہے، چین نیکورونا وائرس کی وبا کو مزید پھیلنے سیروکا، ا?ئندہ چند روز میں چینی ماہرین کیساتھ وڈیو کانفرنسنگ شروع کررہیہیں۔انہوں نے کہا کہ 176ممالک میں کورونا وائرس کے مریض رپورٹ ہوچکیہیں، جو تشویشناک ہے، پاکستان میں اس وقت 326کورونا وائرس کے کیسز ہیں، ہم کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کے نمبرز ہی شیئر کریں گے، اب سرکاری ویب سائٹ بن گئی ہے، جس سے صورتحال کاجائزہ لیا جاسکتاہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سماجی میل جول میں کمی اور فاصلے کی ضرورت ہے، 326 میں سے زیادہ تر افراد بیرون ملک سے وائرس کیباعث متاثر ہوئے، مقامی سطح پر رابطے سے کورونا وائرس کے کیسز بہت کم ہیں۔ظفر مرزا نے کہا کہ اسپتالوں میں بلا ضرورت نہ جائیں، اگرجاناپڑجائے تو زیادہ لوگوں کو ساتھ لیکرنہ جائیں، جو مریض اسپتال میں داخل ہیں ان کی تیمارداری کیلئے مقررہ اوقات میں صرف ایک شخص کواجازت ہوگی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز میجر جنرل بابر افتکار نے کہا کہ جہاں جہاں ضرورت ہے وہاں قرنطینہ کیلئے مدد کی جارہی ہے۔ڈی جی ا?ئی ایس پی ا?ر نے مزید کہا کہ وبا سے نمٹنے کیلئے میڈیکل پلان آف ایکشن تیارکرلیا گیا ہے، مسلح افواج کی میڈیکل فیسیلٹیز کو ایمرجنسی کی صورت میں استعمال کیاجاسکے گا، پاکستان رینجرز سول اداروں کی معاونت کررہی ہے۔ڈی جی ا?ئی ایس پی ا?ر نے کہا کہ فیس ماسک اور سینیٹائزر بنانے کیلئے پاک فوج کے سائنسدان معاونت کررہے ہیں، ہم کرائسز اور رسک منیجمنٹ اسٹریٹجی بناچکے ہیں، کمیونیکیشن اسٹریٹجی میں سب سے اہم عوام سے رابطہ ہے

کرونا پابندی

نئی دہلی،لندن،واشنگٹن، برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکا اور یورپ کررونا سے نمٹنے میں بری طرح ناکام ہوگئے، اٹلی، اسپین، فرانس اور برطانیہ میں ایک ہی روز میں 700 اموات ہوئی ہیں جبکہ امریکا میں ایک ہی روز میں 41 اموات کے بعد مجموعی تعداد 150 ہوگئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا میں 9000 سے زائد افراد بیمار ہیں جن میں امریکی رکن کانگریس ماریوڈائز بالارٹ بھی شامل ہیں۔ جبکہ بیماروں سے ملاقات کرنے کے سبب ایک درجن سے زائد امریکی اراکین کانگریس قرنطینہ میں چلے گئے۔متاثرہ شہریوں کی امداد کے لیے امریکی سینیٹ نے غیر معمولی بجٹ منظور کرلیا ہے۔برطانیہ میں حفاظت کے لیے 20 ہزار فوجیوں کو تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا، لندن کولاک ڈاون کرنے کا امکان ہے، اسکول آج سے بند ہیں۔ این ایچ ایس، پولیس اور اہم ورکرز کے علاوہ سب گھروں سے کام کریں گے جبکہ مساجد کے حکام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ نماز جمعہ گھروں میں پڑھیں۔متحدہ عرب امارات نے غیر ملکی پروازوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔۔ذرائع کے مطابق پی آئی اے متحدہ عرب امارات میں موجود پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے پانچ فیری فلائٹس چلائے گی۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کرگئی جبکہ ہلاکتیں تقریباً 9 ہزار ہیں۔اس کے علاوہ کئی ممالک سے وائرس سے بچنے کے لیے اپنی سرحدوں کو بند کردیا اور غیر ملکی فلائٹس کے ملک میں داخلے بند کردیے ہیں۔ایران میں وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور نے کہا ہے کہ "ایران میں ہر 10 منٹ میں ایک شخص کورونا وائرس کووِڈ۔19 کی وجہ سے ہلاک ہو رہا ہے۔ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں جہانپور نے کہا ہے کہ" ایران میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہر 10 منٹ میں ایک شخص ہلاک ہو رہا ہے۔انہوں نے ایرانی شہریوں کو بہار کے تہوار 'نوروز' کی تعطیلات کے دوران سفر سے پرہیز کرنے اور ایک دوسرے سے ملنے ملانے سے بچنے کی تنبیہ کی ہے۔دوسری طرف دارالحکومت تہران کے شہدائے پاکدشت ہسپتال کی ڈاکٹر شیریں روحانی راد کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو گئی ہیں۔ملک میں کورونا وائرس کے آغازسے لے کر اب تک 10 ڈاکٹر اور 4 نرسیں ہلاک ہو چکی ہیں۔بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک شخص نے کورونا وائرس کے شبے کی وجہ سے اسپتال کی ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک 35 سالہ بھارتی شخص سڈنی سے سفر کرکے بھارت آیا تھا جسے ایئر پورٹ حکام نے کورونا وائرس کے شبے میں نئی دہلی کے ایک اسپتال منتقل کردیا تھا۔جرمنی میں متعین اسرائیلی سفیر اپنے نائب سمیت کرونا وائرس کا شکار ہوگئے۔عبرانی اخبار کی رپورٹ کے مطابق برلن میں متعین اسرائیلی سفیر جیرمی یساکاروف اور ان کے نائب کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں امریکی ویزہ سروس معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ اعلان کورونا وائرس کے پھیلا کے تناظر میں کیا گیا۔ان ہدایات کے مطابق دنیا بھر میں قائم امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے اب آئندہ ہدایات تک ویزہ سروس بند رکھیں گے۔ محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک میں غیرامریکی شہریوں کے لیے عمومی ویزہ سروس بند کی جا رہی ہے۔ محکمہ خارجہ نے تاہم ان ہدایات سے متاثرہ ممالک کی فہرست یا ویزہ سروس کی بحالی سے متعلق تاریخ کا اعلان نہیں کیابھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے 22 مارچ کو پورے ملک میں کرفیو لگانے کا فیصلہ، جنتا کرفیو نامی لاک ڈاؤن میں عوام کو صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک گھروں میں رہنے کہ ہدایت کی گئی ہے۔ جمعرات کو قوم سے خطاب میں نریندر مودی نے کہا کہ 'میں عوام سے درخواست کرتا ہوں وہ جنتا کرفیو میں ہمارا ساتھ دے جو 22 مارچ کو صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک نافذ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ کرفیو خود پر قابو رکھنے کی علامت ہوگا، ہر شخص 10 لوگوں کا انتخاب کرے اور انہیں کسی بھی ذریعے سے اس کرفیو سے متعلق آگاہ کرے اور زور دے کہ وہ اتوار کے روز گھر پر رہیں۔مریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے مزید 13 فوجیوں کے کرونا کا شکار ہونے کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد فضائیہ کے 7 اہلکاروں سمیت 49 امریکی فوجی کرونا وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ کرونا کا شکار ہونے والے دو ہوابازوں کو قرنطینہ منتقل کردیا گیا ہے۔ ان کے درجہ حرارت کی مسلسل چیکنگ کی جا رہی ہی ہے۔امریکی فضائیہ کے کمانڈر ڈیوڈ گولڈفن کا کہنا تھا کہ کرونا کی وجہ سے کچھ فوجی مشقیں ملتوی کی جا رہی ہیں۔مریکہ میں گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 42 افراد ہلاک ہوئے اورایک روز میں اٹھائیس سو پچاس کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔وائرس کے سبب امریکہ میں تیل کی قیمتیں گرنے سیا سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی ہے اور امریکہ نے معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے ایک ٹریلین ڈالر پیکج کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔کرونا وائرس نے دنیا بھر سے 9 ہزارسے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ دولاکھ پچیس ہزار 237 افراد متاثر ہوئے۔ سب سے زیادہ اموات ایران میں ہوئیں جہاں ایک سو انچاس افرادوائرس کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ روس میں مہلک بیماری سے ایک شخص زندگی کی بازی ہار گیا۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو نہیں پایا گیا تو اس سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ اگر کورونا وائرس کو جنگل کی ا?گ کی طرح پھیلنے سے نہ روکا گیا تو اس سے اندازوں سے زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے جب کہ اس وبا سے سب سے زیادہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امیر ممالک خاص طور پر جی 20 ممالک سے اپیل ہے کہ وہ افریقی ممالک سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کو موجودہ صورت حال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

کرونا ہلاکتیں

مزید : صفحہ اول