جسٹس محمد قاسم خان نے بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عہدے کا حلف اٹھا لیا

      جسٹس محمد قاسم خان نے بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عہدے کا حلف اٹھا لیا

  



لاہور (نامہ نگار خصوصی)مسٹرجسٹس محمد قاسم خان نے لاہورہائی کورٹ کے 50 ویں چیف جسٹس کے طور پر اپنے عہدہ کا حلف اٹھا لیا۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے ان سے حلف لیا۔ گورنر ہاؤس میں حلف برداری کی تقریب میں شرکاء مکمل سکریننگ اور ہینڈ سینی ٹائزنگ کے بعد تقریب میں شامل ہوئے،شرکاء نے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے بھی گریز کیا۔حلف برداری کی تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد امیر بھٹی، جسٹس شہزاد احمد، جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس علی باقر نجفی سمیت دیگر فاضل ججز، وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان اشتیاق اے خان، قائمقام ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ بہادر علی خان، سینئرایڈیشنل رجسٹرار ہائیکورٹ ڈاکٹر عبدالناصر،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور قیصر نذیر بٹ، سیکرٹری قانون پنجاب نذیر احمد گجانہ، ممبران پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ اور احسن بھون سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ چیف سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان نے چیف جسٹس محمد قاسم خان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن پڑھا۔ حلف برداری کے بعد لاہور ہائیکورٹ پہنچنے پر چیف جسٹس محمد قاسم خان کا پرتپاک استقبال کیا گیااور انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیاگیا۔ لاہورہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان 6جولائی 1959ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گیلانی لاء کالج ملتان سے ایل ایل بی کیا۔ 2000ء سے 2009ء تک اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رہے۔19فروری 2010ء کو لاہورہائی کورٹ کے جج مقررہوئے۔ وہ اس فل بنچ کے سربراہ تھے جس نے انتخابی تنازعات کے حوالے سے عدالت عالیہ کے دائرہ اختیار کا تعین کیا تھا،وہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت کرنے والے فل بنچ کے بھی سربراہ تھے،انہوں نے ضابطہ فوجداری کے سیکشن 22(اے) کے حوالے سے جو فیصلہ دیاتھا اسے عدالتی نظیر کے طور پر قبول کیا جاتاہے،انہوں نے محمد آصف نواز بنام ایڈیشنل سیشن جج کیس میں قراردیاتھا کہ جو معاملات فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فنانس) آرڈیننس مجریہ 2001ء کے تحت آتے ہیں ان کی بابت ایف آئی آر درج کرنے کاحکم نہیں دیاجاسکتا،مسٹر جسٹس محمد قاسم خان انسداد دہشت گردی اور کسٹم کی عدالتوں کے انتظامی جج بھی رہے ہیں،5جولائی2021ء تک چیف جسٹس رہیں گے۔

جسٹس قاسم خان

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے عہدہ سنبھالتے ہی عدالت عالیہ کے رجسٹرار،جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ اورلاہور کی احتساب عدالتوں کے انتظامی جج سمیت 54سیشن جج،9ایڈیشنل سیشن جج اور 7سول جج تبدیل کر دیئے۔ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان کے چیف جسٹس بننے کے بعدپہلے ہی روز جن مذکورہ 70ججوں کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے نوٹیفیکیشن جاری ہوئے ہیں ان میں سے 41ججوں کو لاہور ہائی کورٹ انتظامیہ کو رپورٹ کرنے کی ہدائت کی گئی ہے،جن ججوں کو ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کے لئے کہا گیا ہے ان میں 25 سیشن جج، 9ایڈیشنل سیشن جج اور 7سول جج شامل ہیں۔نوٹیفیکیشن کے مطابق بہادر علی خان کو لاہور ہائی کورٹ کا نیا رجسٹرار مقرر کیا گیاہے جبکہ ان کے پیش رو اشتر عباس کو مزید تعیناتی کے احکام کے لئے ہائی کورٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدائت کی کئی ہے،بہادر علی خان اس سے قبل فیصل آباد میں سینئرسپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ کے طور پر کام کر رہے تھے،سیشن جج ملک مشتاق احمد اوجلہ کوڈائریکٹر جنرل ڈسٹرکٹ جوڈیشری جبکہ سردار طاہر صابر کو ایچ آر ڈسٹرکٹ جوڈیشری تعینات کیا گیاہے جبکہ سابق ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری ریحان بشیر اور ایچ آر ڈسٹرک جوڈیشری محمد ساجد علی کو ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،ملک مشتاق احمد اوجلہ تعیناتی کے منتظر تھے جبکہ سردار طاہر صابر راولپنڈی کی بینکنگ کورٹ میں فرائض انجام دے رہے تھے،لاہور کی احتساب عدالتوں کے سینئر ترین اور انتظامی جج امیر محمد خان کو تبدیل کرکے جھنگ کا سیشن جج تعینات کردیاگیاہے، نوٹیفکیشن کے مطابق جن سیشن ججوں کے تبادلے کئے گئے ہیں ان میں سجاد حسین کا لاہور(اوایس ڈی)سے بطور سیشن جج اٹک،محمد سلیم کا بینکنگ عدالت لاہور سے بطور سیشن جج بہاولنگر،مشتاق الہٰی کا انسداد دہشت گردی عدالت ڈیرہ غازی خان سے بطور سیشن جج بھکر،سہیل اکرام کا ملتان سے چکوال، سید نوید رضا بخاری کا سپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ سے بطور سیشن جج چنیوٹ،شاہ زیب سعید کا پنجاب جوڈیشل اکیڈمی لاہور سے بطور سیشن جج ڈیرہ غازی خان،رانا مسعود اختر کا لاہور(اوایس ڈی) سے بطور سیشن جج فیصل آباد،جاوید اقبال وڑائچ کا پنجاب سروس ٹربیونل لاہور سے بطور سیشن جج حافظ آباد، محمد شیراز کیانی کاراولپنڈی (اوایس ڈی) بطور سیشن جج جہلم، طارق محمود باجواہ کا پنجاب لیبر کورٹ ملتان سے بطور سیشن جج خانیوال،پرویز اقبال سپراء کا بینکنگ کرائم کورٹ ملتان سے بطور سیشن جج لودھراں،عبدالرضوان عابد کا بینکنگ کورٹ گوجرانوالہ سے بطور سیشن جج منڈی بہاؤالدین،نسیم احمد ورک کا سپیشل کورٹ سینٹرل فیصل آباد سے بطور سیشن جج میانوالی، رانا زاہد اقبال کا بینکنگ کورٹ لاہور سے بطور سیشن جج ملتان،عبدالرحمن کا لودھراں سے مظفر گڑھ،محمد اعظم سورایا کا لیبر کورٹ لاہور سے بطور سیشن جج ننکانہ صاحب،محمد ارشد علی کا سپیشل بینکنگ کرائم کورٹ لاہور سے بطور سیشن جج نارووال، محمد خلیل نظر کا احتساب عدالت لاہور سے بطور سیشن جج راجن پور، چودھری محمد طارق جاوید کا سیالکوٹ سے راولپنڈی، جواد الحسن چشتی کا میانوالی سے ساہیوال، رائے محمد ایواب کا نارووال سے سرگودھا، محمد اعظم کا بینکنگ عدالت لاہور سے بطور سیشن جج شیخوپورہ، علی نواز کا بینکنگ عدالت ساہیوال سے بطور سیشن جج سیالکوٹ، غلام عباس کا سپیشل کورٹ سینٹرل گوجرانوالہ سے بطور سیشن جج ٹوبہ ٹیک سنگھ، اورسلمان بیگ کا انسداد دہشت گردی راولپنڈی سے بطور سیشن جج وہاڑی تبادلہ کردیاگیاہے،نوٹیفکیشن کے مطابق جن سیشن ججوں کو لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،ان میں سجاد احمد (اٹک)،محمد علی گل (بہاولنگر)،ملک خضر حیات خان (بھکر)،محمد یار ولانہ (چکوال)، راجہ پرویز اختر (چنیوٹ)، چودھری عبدالرشید عابد (ڈی جی خان)،مسمات عظمیٰ اختر (فیصل آباد)، شبیر حسین اعوان(حافظ آباد)،محمد تنویر (جھنگ)، محمد اکمل خان (جہلم)، سید داور ظفر علی (خانیوال)، ملک علی ذوالقرنین (منڈی بہاؤالدین)، صہیب احمد رومی (مظفر گڑھ)،آصف مجید (ننکانہ صاحب)، برکت فخر(راجن پور)،محمد یوسف اوجلہ (راولپنڈی)، شکیل احمد (ساہیوال)،مشتاق احمد تارڑ (سرگودھا)، راؤ عبدالجبار خان (شیخوپورہ)، امجد اقبال رانجھا(ٹوبہ ٹیک سنگھ)، عاقل حسن چوہان (وہاڑی) اور شاہدہ سعید ڈائریکٹر پنجاب جوڈیشل اکیڈمی لاہور شامل ہیں۔جن 9ایڈیشنل سیشن ججوں کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیاہے ان تمام کو مزید تعیناتی کے احکامات کے لئے لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کے لئے رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،ان ایڈیشنل سیشن ججوں میں خالد سعید وٹو، نظیر احمد،شوکت علی، محمد فیصل احمد، محمد خالد خان، محمد ابوبکر صدیق بھٹی،شعیب انور قریشی،میاں مدثر عمر بودلہ اور سمعیہ اسد شامل ہیں،جن 7سول ججوں کے تبادلے کئے گئے ہیں انہیں بھی مزید تعیناتی کے احکامات کے لئے لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کے لئے کہاگیاہے،ان میں رانا انیل ارشد،آصف طاہر، میاں عثمان طارق، محمد وقاص ثناء، محمد قیصر جمیل، شازیہ منور مخدوم اور اسد ساجد شامل ہیں،لاہورہائی کورٹ نے جن ایڈیشنل سیشن ججوں اور سول ججوں کو ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے وہ مختلف انتظامی عہدوں پر کام کررہے تھے۔

تبادلے

مزید : صفحہ اول