ہیلتھ سیکٹر کے تمام ٹیکس معاف کئے جائیں: ایف پی سی سی آئی

    ہیلتھ سیکٹر کے تمام ٹیکس معاف کئے جائیں: ایف پی سی سی آئی

  



کراچی (اکنامک رپورٹر)ایف پی سی سی آئی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے انشورنس کے کنوینر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ کرونا وائرس ایمرجنسی پر قابو پانے کے لئے صحت کے شعبہ کا بجٹ بڑھایا جائے اورہیلتھ سیکٹر کے تمام ٹیکس معاف کر دئیے جائیں تاکہ انکی مصنوعات اور خدمات کی قیمت کم ہو سکے۔جن شعبوں کے ٹیکس معاف کرنا مشکل ہو انکی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے، جرمانے معاف کئے جائیں۔ایف بی آرموجودہ حالات سے متاثرہونے والے پیداواری شعبہ کی مشکلات کا تعین کرنے اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی سیل قائم کرے جسکی سفارشات کی روشی میں معیشت کے لئے بھرپور پیکج کا اعلان کیا جائے۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی ایگزیکٹو ممبر اوریونائیٹڈ انشورنس کمپنی کی ڈائریکٹر ہما وحیدسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہیلتھ انشورنس کی حوصلہ افزائی بھی کرے۔

تاکہ عام افراد بھی صحت کی معیاری سہولیات حاصل کر سکیں۔ عوام میں انشورنس کے سلسلہ میں آگہی کی کمی ہے جسے بڑھایا جائے کیونکہ کسی بھی انسان کے اثاثوں میں سب سے قیمتی اسکی اپنی جان ہوتی ہے۔ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے والی کمپنیوں کا فوکس شہری علاقوں پر ہے اس لئے دیہی علاقوں میں ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو خصوصی مراعات دی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ صحت کی معیاری خدمات مہنگی ہونے کے سبب ایک چھوٹے سے طبقہ تک محدود ہیں کیونکہ انکا حصول ملکی آبادی کی اکثریت کے لئے ناممکن بنا دیا گیا ہے جس کا نوٹس لیا جائے۔موجودہ حالات میں ہیلتھ انشورنس کے شعبہ کو ہدف بنانا کسی بھی طور درست نہیں ہے۔ ہیلتھ انشورنس پرٹیکس بڑھانے سے اس شعبہ کی حوصلہ شکنی ہو گی جبکہ ڈبل ٹیکسیشن سے بھی یہ شعبہ متاثر ہو گا۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ساتھ بعض صوبائی حکومتیں بھی اس شعبہ پر نئے ٹیکس لگا رہی ہیں جس سے یہ سیکٹر کمزور ہو جائے گی۔ حکومت پنجاب نے میرین انشورنس پر ٹیکس بڑھا دیا ہے جس سے یہ شعبہ مشکلات کا شکار ہو گیا ہے جبکہ حکومت سندھ نے میرین انشورنس پر ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے۔تمام صوبوں میں یکساں ٹیکسوں کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ انشورنس کے شعبہ پر ٹیکسوں کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے جسے کم کیا جائے۔ بائیس کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک میں لائف انشورنس کا حجم صرف دو سو بیس ارب روپے ہونا افسوسناک ہے۔

مزید : کامرس