کرونا سے بچا کر بھوک سے نہ ماریں؟قوم کو متبادل بھی دیں ……

کرونا سے بچا کر بھوک سے نہ ماریں؟قوم کو متبادل بھی دیں ……
 کرونا سے بچا کر بھوک سے نہ ماریں؟قوم کو متبادل بھی دیں ……

  



عالمی وباء کرونا وائرس دنیا بھر کے 166ممالک کے ساتھ پاکستان میں بھی پوری طرح پنجے گاڑ رہا ہے۔ حکومتی اقدامات کو ایک حلقہ حوصلہ افزا اور دوسرا حلقہ بیان بازی تک محدود قرار دے رہا ہے۔ سب سے زیادہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ جو دیکھنے کو مل رہا ہے وہ سوشل میڈیا کا ہے ہزاروں کی تعداد میں نسخے پیش کئے جا رہے ہیں کرونا سے ڈرنے کی بجائے اس سے لڑنے کا درس دینے والے بھی اس کی تباہ کاریاں بیان کرکے خوف کی فضاء پیدا کر رہے ہیں چائینہ میں وباء پر قابو پانے کا موثر ذریعہ دنیا میں عوام کو صرف دو دفعہ حکومتی سطح پر آگاہی کا ہے ہرطرح کے میڈیا پرپابندی ہے۔

امام ابن الجوزی فرماتے ہیں:

آفات مہمان ہوتی ہیں تم (صبر و شکر) سے ان کی اچھی مہمان نوازی کرو تاکہ یہ تم سے قیامت کے دن کی تعریف کرتے ہوئے جائیں ناکہ گلا و شکوہ کرتے ہوئے اس کی تفصیل میں جائیں تو پتہ ہے تکلیف، آزمائش اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ یہ سب مہمان کی طرح آتی ہیں ان کا سامنا اگر صبر اور شکر سے جو کرتا ہے آزمائش، تکلیف، بیماری کو بالآخر چلے جانا ہوتا ہے۔ جو آزمائش تکلیف بیماری پررونا دھونا شروع کر دیتا ہے اس کا علاج نہیں کرتا صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہے اس کو خبر نہیں ملتی، تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے آفات، آزمائش، بیماری اللہ کی طرف سے آتی ہے اور یقینا دور کرنے والی ذات بھی اللہ کی ہے اس لئے حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے روک تھام کرتے ہوئے رجوع اللہ ضروری ہے۔ موجودہ حالات عام حالات نہیں ہیں، نبی مہربانﷺ سے رہنمائی لیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ جو اب ہو رہا ہے یا ہونے جا رہا ہے یہ قربت قیامت کی نشانیاں ہیں اب تو اس بات میں بھی اختلاف نہیں رہا کہ تیسری جنگ فوجوں کے ذریعے نہیں لڑی جائے گی۔ زیادہ امکان یہی ہے تیسری عالمی جنگ بیالوجیکل ہوگی ایک تاثر یہ بھی ہے اس کا آغاز ہو چکا ہے امریکہ چائنہ پر الزام لگا رہا ہے چائنہ امریکہ کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ خوف دونوں اطراف سے یکساں ہے موت کا خوف ہر آنے والے دن میں مسلط ہو رہا ہے مجھے نبی کریمﷺ کا فرمان یاد آ رہا ہے جس میں نبی مہربان ﷺ اصحابہ صفہ سے فرماتے ہیں میرے صحابہ ایسا دور آئے گا کہ برائی کو نیکی سمجھ کر قبول کر لیا جائے گا۔ عام فرد بظاہر نیکی سمجھ کر برائی کا ارتکاب کر رہا ہو گا صحابہ کرام نے پوچھا اے اللہ کے رسولﷺ اس وقت آپ کی امت موجود نہیں ہوگی، اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا میری امت ریت کے زرات سے زیادہ ہو گی صحابہ کرام نے فرمایا پھر ایسا کیوں کر ہو گا۔

فرمایا میری امت وھن کی بیماری کا شکار ہو گی موت سے ڈرے گی اور دنیا پر مرے گی ہم تمام کو میرے سمیت نبی کریمﷺ کے فرمان کا موجودہ حالات میں جائزہ لینا ہوگا۔ ہرطرف موت کا خوف مسلط ہو رہا ہے۔ درمیان میں ایک مختصر سا واقعہ گزشتہ ہفتے کا بیان کروں گا ہم ایک دوست کی صاحبزادی کی شادی کے سلسلے میں دیپالپور گئے براستہ قصور راستے میں ہم تلونڈی کے قریب سردار زبیر خان کے ڈیرے پر نماز کے لئے رک گئے وہاں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی تو وہ کرونا وائرس کے حوالے سے بتا رہے تھے کہ میاں صاحب کرونا تو ایک بہانہ ہے اصل میں کیمیائی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ امریکہ یا چائنہ جلد مسلمان ہوگا اور پھر مسلمانوں کا نیا بلاک بنے گا۔بزرگ کی باتیں سن کر میں گزشتہ ہفتے چائنہ میں نماز اور قرآن پاک پر اٹھنے والی پابندی پر چلا گیا پھر چائنہ کے صدر کے مساجد کے دورے اور پھر کرونا کے چائنہ سے اٹھنے والے طوفان کے اچانک رک جانے کا ہے ذرا سوچئے بات دوسری طرف چلی گئی۔ بیماری کی جنگ ہے یا کیمیائی جنگ ایک بات طے ہے اعصابی جنگ زیادہ ہے۔

بحیثیت مسلمان اس وبائی مرض کے حوالے سے اگر جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ خوف مسلمان ممالک میں پایا جا رہا ہے اس سے بھی بڑھ کر حرمین شریفین میں طواف کا رک جانا یا روک دینا اور پھر کئی ممالک میں مساجد بند کرنا اور اس سے بھی بڑھ کر امت مسلمہ کی واحد امید علماء اکرام کی طرف سے مساجد بند کرانے،نماز کی صفیں توڑنے، نماز مساجد کی بجائے گھروں میں پڑھنے کے فتویٰ دینا قابل غور ہے۔ ہم معمولی آزمائش سے نئی نئی برعات کا آغاز کر رہے ہیں جب دجال آئے گا ہمارا اور ہمارے علماء کا کیا حال ہوگا اس کی تفصیل کسی اور نشست میں صرف اللہ کے نبیؐ کا فرمان جو امام محمد بن عبدالرحمن نے نقل کیاہے۔764 ہجری میں جب طاعون پھیلتا ہوا مصر میں داخل ہوا تو ہلاکتیں ہی ہلاکتیں تھیں پھر لوگوں نے قیام الیل، روزہ، صدقہ، توبہ اور وعظ کو لازم پکڑا ہم نے اپنے بچوں اور بیویوں سمیت گھروں کو چھوڑا اور مساجد میں پناہ لے لی ہمیں بہت فائدہ ہوا حرمین شریفین شفا کا مرکز مساجد اللہ کے گھرہیں اگر جہاں شفاء نہیں دنیا میں کسی جگہ کچھ نہیں مل سکتا۔

آج کی نشست میں بات کرنی تھی کرونا سے بچاتے بچاتے عوام کو بھوک کے کنویں میں نہ پھینک دیں۔ حکومتی اقدامات افراتفری زیادہ پیدا کر رہے ہیں سکول، کالج بند کرکے کیا بچوں کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔ مارکیٹیں شاپنگ مال، انٹرسٹی بسیں اور دیگر ادارے بند کرکے ہزاروں افراد کو بے روزگار کر دیا گیا ہے۔ جناب وزیراعظم پاکستان میں 80فیصد خاندان روزانہ کی بنیاد پر کما کر بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔آپ نے سب کچھ بند کرکے لاکھوں خاندانوں کے لئے متبادل کا انتظام نہیں کیا یہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالیں گے ان کے لئے فوری کابینہ اجلاس بلائیں اور لائحہ عمل دیں۔

اللہ کرے گا ان کی دعاؤں سے آپ کے قرضے معاف ہو جائیں گے اور کرونا سے بھی نجات مل جائے گی۔ حفاظتی اقدامات پوائنٹ سکورننگ کے لئے نہیں ہونا چاہیے۔ بڑی منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے یہ نہ ہو کہ کرونا سے بچاتے بچاتے عوام کو بھوکا مارنا شروع کر دیں۔

مزید : رائے /کالم