باجوڑ، غذائی قلت کا شکا ر 1395بچے زیرعلاج، 2000صحت یاب

باجوڑ، غذائی قلت کا شکا ر 1395بچے زیرعلاج، 2000صحت یاب

  



باجوڑ(نمائندہ پاکستان) باجوڑ میں غذائی قلت کے شکار 1395بچے زیر علاج اور2000 سے زائد بچے صحت یاب۔باجوڑ میں غذائی قلت کی شکاربچے تقریبآٓ (4000) چار ہزار سے زائد ہیں جن میں سے3095بچوں کا علاج باجوڑ کے 11نیوٹریشن سنٹر میں ہوچکا ہے اور باقی بچے زیر علاج ہیں۔ضلع باجوڑ کے نیوٹریشن منیجر صلاح الدین نے میڈیا کو بتایا کے ستمبر 2018سے یونیسف کے تعاون سے باجوڑ میں 11اینٹگریٹڈ نیوٹریشن سنٹر قائم ہوئے ہیں اس پروگرام کے تحت باجوڑکے 11سنٹر میں تقریبآٓ غذائی قلت پرقابو پانے میں قریب ہے اور اس پروگرام سے جو بچے صحت مند ہوچکے ہیں وہ معاشرے میں اچھی خدمات سرانجام دینگے۔ لیکن بدقسمتی سے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اپریل کے آخر میں یہ پروگرام بند ہونے کا خدشہ ہے۔جس کی وجہ سے اس پروگرام میں زیر علاج بچوں کے صحت پر بہت گہرا منفی اثر پڑے گا۔ اگر یہ پروگرام ختم ہوگیا تو یہ بچے جو کہ زیر علاج ہے اور ساتھ میں اور بچے جن تک ابھی رسائی نہیں ہوئی ہے ہمیشہ کے لئے جسمانی اور ذہنی صحت سے محروم رہ جائینگے۔اسلئیے علاقائی لوگوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ نیوٹریشن پروگرام بند نہ کریں اور مزید علاقوں تک پھیلائے جس سے غذائی قلت کو جڑ سے ختم کیا جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر