فیڈملرز، رائس ملزویگر کے ذریعہ گندم خریداری کی اجازت نہ دینے پر اتفاق

  فیڈملرز، رائس ملزویگر کے ذریعہ گندم خریداری کی اجازت نہ دینے پر اتفاق

  



اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی وزیرقومی فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ مخدوم خسرو بختیار نے اسلام آباد میں گندم کی خریداری کے انتظامات سے متعلق ویڈیو لنک کے ذریعے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری این ایف ایس اینڈ آر، صوبائی وزیر زراعت پنجاب کے پی، منیجنگ ڈائریکٹر پاسکو اور پنجاب، سندھ اور کے پی کے محکمہ خوراک کے سیکریٹریوں نے بھی شرکت کی۔پاسکو کے پاس گندم کی خریداری کا ہدف 1.8 میگا ٹن ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور کے پی کیلئے بالترتیب 4.5 ملین ٹن، 1.4 ملین ٹن، 1 ملین ٹن اور 0.45 ملین ٹن خریداری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) 1400روپے فی 40 کلوگرام کی منظوری دی ہے۔بتایا گیا پورے ملک میں گندم کی خریداری کے 1162 مراکز قائم ہوچکے ہیں اور تمام صوبوں میں ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی کو روکنے کیلئے سخت قانونی کارروائی کرے۔ اجلاس کے تمام شرکاء نے اتفاق رائے ظاہر کیا کہ فیڈ ملرز، رائس ملز وغیرہ کے ذریعہ گندم کی خریداری کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔وفاقی وزیر نے خریداری اہداف کا جائزہ لینے کیلئے روزانہ یا ہفتہ وار مانیٹرنگ کا طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔پنجاب اور سندھ کی موسمی صورتحال کے تحت 25 مارچ 2020 ء سے عوامی خریداری کا آغاز کریں گے۔ خریداری پہلے آئیں پہلے پائیں کے اصول پر کی جائے گی۔تمام صوبوں کی جانب سے خریداری کی پوزیشن کو یقینی بنانے کیلئے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے اپریل کے پہلے ہفتہ میں ایک اور اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مخدوم خسرو بختیار

مزید : پشاورصفحہ آخر