ٹانک،کروناکے آئسولیشن سنٹرز کی عدم موجودگی کے باعث قبائلیوں میں تشویش

ٹانک،کروناکے آئسولیشن سنٹرز کی عدم موجودگی کے باعث قبائلیوں میں تشویش

  



ٹانک(نمائندہ خصوصی) جنوبی وزیرستان کی متعدد تحصیلوں میں کرونا وائرس کے ایسولیشن سنڑز کی عدم موجودگی کے باعث قبائلیوں کو تشیویش لاحق، اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلا ت کے مطابق گیا رہ تحصیلوں پر مشتعمل قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانہ اور سروکئی میں کرونا وائرس کے ایسولیشن سنٹر زقائم کیے گئے ہیں تاہم محکمہ صحت ذرائع کے مطابق تحصیل سروکئی میں قائم کردہ سنٹر میں آکسیجن سلینڈز، گلوز، سینیٹائزز اور کرونا وائر س سے نمٹنے کے لئے دیگر ضروری سامان اور ادویات تک میسر نہیں جبکہ باقی نو تحصیلوں بشمول تحصیل سراروغہ، مکین، شوال، شکتوئی، لدھا، شکئی، برمل، طوئی خلہ اور تیارزہ میں محکمہ صحت جنوبی وزیرستان اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کرونا وائرس سے آگاہی اور بچاوٗ کے لئے کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں جہاں مواصلات کے محدود وسائل کے باعث قبائلیوں کو کرونا وائرس کے بارے میں محدود آگاہی ہے وہیں دوسری جانب محکمہ صحت کی جانب سے نو تحصیلوں میں کرونا وائر س سے بچاوٗ اور علاج کے لئے کوئی میڈیکل یا ایسولیشن سنٹر قائم نہ کیا جانا کرونا وائرس کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ قبائلیوں نے کرونا وائرس سے بچنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم عمرا ن خان اور صوبائی وزیر صحت سے جنوبی وزیرستان میں فوری طور پر کرونا وائرس کے ایسولیشن سنٹرز کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں تنائی گل کچ کے مقام پر صوبہ بلوچستان کے ضلع ژوب اور جنوبی وزیرستان کا سنگم واقع ہے تاہم ذرائع کے مطابق گل کچ کے انٹر ی گیٹ پر کرونا وائرس کے پھیلاوٗ کی روک تھام کے لئے بلوچستان سے وزیرستان داخل ہونے والے افرا د کے میڈیکل چیک اپ کے لئے کسی قسم کا میڈیکل کیمپ قائم نہیں کیا گیا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر