وزیراعلی سندھ کی 20لاکھ راشن بیگ غریب عوام کو بھیجنے کی ہدایت

وزیراعلی سندھ کی 20لاکھ راشن بیگ غریب عوام کو بھیجنے کی ہدایت

  



تجزیا تی رپورٹ/نعیم الدین

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت نے صوبے میں جاری جزوی طور پر لاک ڈاون کے سبب معاشرے کے غریب طبقے میں 20 لاکھ راشن بیگ تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کے مستقل کھانے کا انتظام بدستور جاری رہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلی ہاوس میں منعقدہ ایک اعلی سطح اجلاس میں کیا۔اجلاس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز، ڈی جی رینجرز میجر جنرل عمر بخاری اور کور 5 کے بریگیڈیئر سمیع نے شرکت کی۔ وزیر اعلی کی معاونت صوبائی وزرا، ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سعید غنی، مشیر قانون مرتضی وہاب، چیف سیکرٹری سید ممتاز شاہ، آئی جی سندھ مشتاق مہر، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو اور فوکل پرسن ایم بی دھاریجو نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں وزیراعلی سندھ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاو کے سبب اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ شاپنگ مالز، ریستوران کی بندش یا جزوی لاک ڈاون کرکے ہم نے مزید پھیلاو کو کم کرنے کے لیے کوشش کی ہے تاکہ اس کے مطابق قرنطینہ مراکز اور فیلڈ اسپتالوں کے قیام کے لیے ضروری انتظامات کیے جاسکیں۔کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز نے صوبائی حکومت کی بروقت کاوشوں کو سراہا اور روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدوروں، غریب افراد کو راشن فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کی خوراک کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ انہوں نے مخیر حضرات، این جی اوز جیسے ایدھی، سیلانی اور دیگر سے راشن بیگ کی تیاری کے لیے ان کی مدد اور رہنمائی حاصل کرنے کے لیے متعدد اجلاس کیے ہیں اور ضرورت مندوں اور مستحق لوگوں کو راشن بیگ فراہم کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کرلیا گیا ہے۔وزیراعلی سندھ اور کور کمانڈر نے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل سیکرٹری صحت علیم لاشاری کے ساتھ وزیر لیبر سعید غنی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جبکہ کور 5 سے بریگیڈیئر سمیع اور ان کی ٹیم کے دو ممبران کمیٹی میں شامل ہوں گے۔کمیٹی راشن کے لیے کھانے پینے کی اشیا کی مقدار اور تعداد مقرر کرے گی اور پھر ان کی تقسیم کے لیے ایک طریقہ کار تیار کیا جائے گا۔ راشن بیگ رکھنے کے لیے ایک گودام قائم کیا جائے گا جہاں سے پورے سندھ میں بیگس کی سپلائی کی جائے گی۔کمیٹی کے اتفاق رائے سے اشیائے خورد و نوش کے معیار اور ان کی مقدار کو یقینی بنایا جائے گا تاہم یہ فیصلہ کیا گیا کہ راشن بیگ میں ایک ماہ کی اشیائے خوردونوش ہوں گی۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جس گھر میں راشن بیگ مہیا کیے جائیں گے انہیں بطور سپلائی کردیا گیا مارک کیا جائے گا تاکہ ڈپلیکیشن سے بچا جاسکے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ایک ہیلپ لائن قائم کی جائے گی جہاں مستحق افراد خود کو راشن بیگ کے لیے اندراج کروائیں گے اور پھر ضروری تصدیق کے بعد انہیں راشن بیگ فراہم کیے جائیں گے۔ایکسپو سینٹر اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کور 5 کے تعاون سے ایکسپو سینٹر میں 10 ہزار بستروں پر مشتمل علیحدہ سینٹر اور فیلڈ اسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔کمشنر کراچی اس مقصد کے لیے پاک فوج کے ساتھ رابطہ کریں گے۔ پہلے مرحلے میں ایکسپو سینٹر کے ایک ہال کو قرنطینہ مرکز میں تبدیل کیا جائے گا اور اس کے بعد مزید ہالوں کو حاصل کیا جائے گا۔ پہلے ہال میں بستر، ادویات، ضروری سامان، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف وغیرہ کی پوسٹنگ کی جائے گی۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں 16 ہزار سے زیادہ swabs/ وی ٹی ایمز اور 13 ہزار کٹس کورونا وائرس کے انفیکشن کے ٹیسٹ کے لیے دستیاب ہیں مگر ہمیں اپنے ٹیسٹنگ کی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا جو کہ صرف 600 تک محدود ہے۔

مزید : صفحہ اول