کرونا وائرس اور احتیاطی تدابیر

کرونا وائرس اور احتیاطی تدابیر

  



 کرونا وائرس اور نماز باجماعت و مساجد کے بارے میں احتیاط کی جائز اور ناجائز حدود 

تمام مکاتبِ فکر نے اپنے اپنے طور پر اپنے لوگوں کے لئے احتیاطی تدابیر بیان کی ہیں۔ اسی طرح علمائے اہل حدیث نے بھی ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا ہے کہ

 حصہ اول: حکومتی اداروں اور مساجد کی انتظامیہ کے لیے 

 حکومتی اداروں اور مساجد کی انتظامیہ کا فرض ہے کہ پریشانی کے اس ماحول میں:

 مسلمانوں  کا مورال بلند رکھیں، ایمان و یقین اور اللہ پر توکل کا درس دیں۔ ذکر، اذکار اور انفرادی دعاؤں پر زور دیں۔ اور یہ سمجھیں کہ ایسی آزمائشیں  ہمارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں۔

 مساجد کی صفائی ستھرائی اور دیگر حفاظتی و احتیاطی تدابیر پر خصوصی توجہ دیں۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلے میں مسجدیں بنانے، انہیں پاک صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیا ہے۔

 کسی بھی صورت میں اللہ کے بندوں  پر اللہ کے گھروں  کو بند کرنے کا نہ سوچیں جیسا کہ بعض عرب ممالک میں یہ غلطی سرزد ہو چکی ہے۔ یہ مساجد  تو رحمت کے دروازے ہیں اور امیدوں کے مراکز۔ صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم کے زمانے میں طاعون اور کثرتِ اموات جیسے مصائب میں ان کا تعامل مساجد سے لگاؤ اور تمسک تھا نہ کہ اْنھیں بند کرنا صحت مند افراد پر مساجد کے دروازے بند کرنا بدترین ظلم ہے جو قطعا جائز نہیں۔ 

فرمان باری تعالی ہے:

"اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔"

مساجد کو اپنی ملکیت مت سمجھیں، یہ خالصتاً اللہ کے گھر ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"اور یہ کہ مسجدیں (خاص) اللہ کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔"

 فرض نمازوں  اور نماز جمعہ کے علاوہ دیگر اوقات میں  مقامی حالات کے مطابق امنِ عامہ اور صحت کے لیے مساجد کو بند کیا جاسکتا ہے اور اس کا جواز موجود ہے، لیکن جبرا مساجد کو کلیتاً بند کروا دینا ناجائز اور حرام ہے۔

 حصہ دوم: عوام الناس کے لیے 

 کورونا وائرس کے کنفرم مریض:

 جو لوگ کرونا وائرس کے کنفرم مریض ہیں، ان کے لیے مسجد میں  باجماعت نماز ادا کرنا جائز نہیں  ہے۔

 (¡) کیونکہ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے: 

"کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے صحت مند اونٹوں میں بالکل نہ لے جائے۔"

 جب صحت مند اونٹوں  کی حفاظت کے پیش نظر بیمار اونٹوں  کو ریوڑ میں لانا جائز نہیں تو انسانی جان کی حفاظت اس سے کہیں زیادہ محترم اور مقدّم ہے، اس لیے وبائی مرض سے متاثر افراد نماز باجماعت میں  شامل نہ ہوں۔

(¡) نیز آپؐ کا فرمان ہے:

 جس نے اس درخت (لہسن) میں  سے کھایا ہو، وہ شخص ہمارے پاس ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور لہسن کی بدبو سے ہمیں اذیت نہ پہنچائے۔ (صحیح مسلم: ۳۶۵ - ۵۶۵) اس حدیث کے مطابق لہسن کی بدبو کی وجہ سے مسجد میں  آنا منع ہے جب تک منہ سے بدبو ختم نہ ہو۔ اس لیے جو لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں یا ان میں  متاثر ہونے کی علامات پائی جا رہی ہیں، انہیں  مساجد میں آنے سے اجتناب کرنا چاہیے، جب تک کہ ڈاکٹرز انہیں  کلیئر نہ کر دیں، کیونکہ وائرس کو پھیلانے کا نقصان بہرصورت لہسن کی بدبو سے کہیں بڑھ کر ہے۔(iii) ثقیف کے وفد میں کوڑھ کا ایک مریض بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیغام بھیجا: ہم نے (بالواسطہ) تمھاری بیعت لے لی ہے، اس لیے تم (اپنے گھر) لوٹ جاؤ.(صحیح مسلم، کتاب السلام، باب اجتناب المجذوم، حدیث: ۱۳۲۲)

 کورونا وائرس کے مشتبہ مریض:

ایسے افراد جو کورونا وائرس کی علامات یا سابقہ کسی بیماری کی بنا پر خائف ہوں اور خطرہ محسوس کرتے ہوں کہ باجماعت نماز اور جمعہ میں حاضری سے مجھے نقصان ہو سکتا ہے یا میری وجہ سے کسی اور کو تکلیف ہو سکتی ہے تو ایسے شخص کے لیے مندرجہ ذیل حدیث کی بنا پر باجماعت نماز اور جمعہ میں حاضری سے رخصت ہے: 

سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: نہ نقصان پہنچایا جائے، نہ ہی خود نقصان اٹھایا جائے۔

 بچے، بوڑھے اور عمومی مریض:

چھوٹے بچے، معمر و ضعیف بزرگ اور دیگر امراض میں  مبتلا افراد کے لیے بھی مسجد میں  حاضری سے رخصت ہے۔

 حکومتی ہدایات پر عمل:

حکومت اور بالخصوص محکمہ صحت کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا انسب ہے۔ لہذا حکومتی ہدایات کے مطابق ان دنوں میں عوامی اجتماعات، محافل  اور کانفرنسز سے احتیاط کریں، کیونکہ یہ سب نفلی کام ہیں اور ان کو عارضی طور پر روکنے میں  کوئی حرج نہیں۔ 

مزید : ایڈیشن 1