آفات اور اہم امو ر میں رائے دینے کا حق؟

آفات اور اہم امو ر میں رائے دینے کا حق؟

  



”حوادث ونوازل میں کلام کرنے کا حق کبار علماء اور اہل اختصاص کو ہے“۔

چین سے پھیلنے والا کرونا وائرس مختلف ممالک تک پہنچ رہا ہے، اور لوگ اس کا شکار ہو رہے ہیں، ان حالات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے حکمرانوں کی طرف سے بعض احکامات جاری ہوئے ہیں، اور علماء نے شریعت کے اصولوں کے مد نظر رکھتے ہوئے فتاوی دیے ہیں، جس پر بعض جہال اپنی زبانیں دراز کر رہے ہیں اور علماء پر طعن کر رہے ہیں، تو مناسب ہے ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے چند کلمات کہے جائیں تاکہ وہ جہالت کی وادیوں میں بھٹکنے کی بجائے ہدایت کی راہ پر لوٹ آئیں۔واللہ الموفق!

جان لیجیے اسلام دین کامل ہے، اور زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہماری راہ نمائی کے لئے واضح اور روشن اصول بنا دیے ہیں جن پر چل کر دین ودنیا کی بھلائیاں سمیٹی جاسکتی ہیں۔

انہیں قواعد میں سے ایک ذہبی قاعدہ ہے کہ”حوادث ونوازل میں کلام کرنے کے کا حق کبار علماء اور اہل اختصاص کو ہے۔“

اللہ تعالی نے حوادث ونوازل میں امور کو اس کی طرف، اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور علماء کرام کی طرف نہ لوٹانے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:

”اور جب انہیں امن و خوف کی کوئی خبر ملتی ہے تو اسے پھیلاناشروع کردیتے ہیں، حالانکہ اگر اسے رسول اور ذمہ داروں کے سپرد کردیتے، تو ان میں سے تحقیق کی صلاحیت رکھنے والے اس کی تہہ تک پہنچ جاتے اور اگر اللہ کا تم پر فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، تو چند لوگوں کے سوا تم سبھی شیطان کی اتباع کرنے لگتے۔“ ]سورۃ النساء:83[

جھوٹی اور بے بنیاد خبریں پھیلانے والے منافقین کو وعید سنائی۔ باری تعالی نے فرمایا:

”اگر یہ منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں جھوٹی خبریں پھیلانے والے لوگ باز نہ آئے تو ہم آپ کو ضرور ان پر مسلط کردیں گے، پھر وہ آپ کے ساتھ کچھ دن ہی رہ پائیں گے۔ ان پر ہر طرف سے لعنت ہوگی جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور قتل کیے جائیں گے۔“]سورۃ الاحزاب: 60،61[

اس لئے حوادث ونوازل میں امور کو علماء کرام کی طرف لوٹائیں، ان سے راہنمائی لیں ناں کہ بے لگام ہوکر فتنہ بھڑکانے میں شریک ہوں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”قیامت سے پہلے دھوکہ دہی والے سال آئیں گے، ان میں سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور جھوٹے کو سچا، امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار سمجھا جائے گا، اور اس زمانہ میں ”رویبضۃ“بات کریں گے۔“ ]مسند احمد: 8459[

اور سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے آپ ؐسے سوال کیا گیا: ”رویبضۃ“کون ہے، آپؐ نے فرمایا:

”ایسا حقیر اور جاہل شخص جو امور عامہ میں گفتگو کرے۔“

اور سلف صالحین رحمہم اللہ ان مسائل میں گفتگو کرتے ہوئے خوب احتیاط سے کام لیتے اور مسائل کو اکابر کی طرف لوٹاتے، اور عجلت سے کام لینے والوں سے فرمایا کرتے آج تم جن مسائل میں جلد بازی سے حکم جاری کرتے ہو اگر یہ عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھے جاتے تو وہ اہل بدر کو جمع کرلیتے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے کبار صحابہ کی توجیہات پر عمل کرتے،سنن دارمی میں کوفہ کی جامع مسجد میں اجتماعی ذکرکرنے والوں کا طویل قصہ ہے، جن کو اجتماعی ذکر کرتے سیدنا ابو موسی اشعری ؓ نے دیکھا تو اس کام کو دین میں نیا خیال کرکے برا سمجھا اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور ان کو اس کی خبر کی۔ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے ان کو اس کام سے منع کیا اور فرمایا :

”کتنے ہی لوگ خیر کا ارادہ کرتے ہیں مگر (سنت کے موافق عمل نہ ہونے کی وجہ سے) اس خیر سے محروم رہتے ہیں۔“

ذرا قصے پر غور کیجیے سیدنا ابو موسی اشعری ؓ خود بھی علماء الصحابہ میں سے ہیں مگر جب نئے کام کو دیکھا تو سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کی طرف رجوع کیا جو کوفہ میں مفتی کی حیثیت پر تھے اور ان کے سامنے اس مسئلہ کو پیش کیا۔ آج ہمارا حال کیا ہے علماء اکرام کی طرف رجوع کی بجائے ہر بندہ خود مفتی البلاد کے درجے پر فائز ہے، بلکہ کبار علماء کے فتاوی وتوجیہات کو دیوار پر مار دیا جاتا ہے، اور ان کو علمائے سلاطین اور علمائے حیض ونفاس کے القاب دیئے جاتے ہے،اللہ تعالی ہماری اصلاح فرمائے۔

بلا تحقیق و تثبت باتیں پھیلانا مسلمان کا شیوہ نہیں، بلکہ حق اور سچ بیان کرنا اور لا یعنی امور میں نہ پڑنا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: ”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اس کی تحقیق کرلو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچادو، پھر اپنے کئے پر تمہیں ندامت اٹھانی پڑے۔“ ]سورۃ الحجرات: 6[

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے کے جھوٹے ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کردے۔“ ]صحیح مسلم[

اور جھوٹ پھیلانے والے شخص کی وعید میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں اور یہ اتنا شنیع فعل ہے کہ جاہلیت میں بھی لوگ اس سے بچتے تھے۔ اس لئے افواہوں کی پیروی کرتے ہوئے علماء سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کیجیے، اور اہل فتنہ کی بے بنیاد باتوں میں نہ آئیے، بندے کے اچھے اسلام کی یہ نشانی ہے کہ جن معاملات سے اس کا تعلق نہیں ان میں نہ پڑے۔

جب تک حقیقت کا علم نہ ہو محض اندازے اور گمان سے باتیں کرنا جائز نہیں۔

سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آپ نے خیال اور گمان سے بات کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے تو آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”یہ بندے کی بری سواری ہے۔“ ]الادب المفرد[

یعنی وہ خیال اور گمان کی سواری پر سوار ہوکر بے سروپا باتیں کرتا ہے۔

اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم کبار علماء کا دامن تھامیں، حوادث ونوازل میں ان ہی طرف رجوع کریں، اور ان کی توجیہات کو لازم پکڑیں، کیونکہ برکت اکابر کے ساتھ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

”برکت آپ کے اکابر کے ساتھ ہے۔“]صحیح ابن حبان[

اللہ تعالی ہمیں لا یعنی امور سے بچ کر علمائے حق کا دامن تھامنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مزید : ایڈیشن 1