حضرت علامہ قاری کریم الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت علامہ قاری کریم الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ

  



شیخ التفسیر‘عالم باعمل‘صوفی باصفا‘ابوالمکارم 

ملک محمد سعید مسعودی مجاہدآبادی

شیخ التفسیر‘عالم باعمل‘صوفی باصفا‘ابوالمکارم حضرت علامہ قاری کریم الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ مشرقی پنجاب کی ریاست ”جیند“ میں 1937ء میں پیدا ہوئے آپ کے والد گرامی کا اسم گرامی محمد سلیمان تھاجو دین سے لگاؤ رکھنے والے راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔تقسیم ہند کے وقت (1947ء) علامہ قاری کریم الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ والدین‘اعزاء واقرباء کے ہمراہ ہجرت کرتے ہوئے تقریبا نو سال کی عمر میں پاکستان کے شہر لاہور میں تشریف لائے۔کچھ عرصہ مہاجر کیمپ والٹن میں گزارا‘پھر والدین کے ہمراہ ضلع سکھر کے علاقہ دادلو(سندھ) میں مستقل سکونت اختیار کی۔آپ بچپن ہی سے طبیعت میں استغناء رکھتے تھے‘اپنی ذات میں گم رہنا‘نکھرا نکھرا کلام‘گوشہئ تنہائی‘جذبہئ عشق میں سرشار رہنا آپ کے اوصاف تھے۔آپ کو اسلامی اور صوفیانہ طرزِ زندگی میں راسخ ہونے کے لیے ایک طویل جدوجہد سے گزرنا پڑا‘آپ نے سفر کی صعوبتوں اور کٹھن مراحل سے گزر کر حصولِ علم اور اشاعتِ علم کی منازل طے کیں۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز مدرسہ غوثیہ جامع العلوم خانیوال سے کیا۔ جہاں مولانا عبدالقادر‘ مولانا مفتی عبداللطیف سے درس نظامی کے اسباق کی ابتداء کی یہیں سے قاری علی احمد روہتکی صاحب سے قرآن مجیدکی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔جبکہ قرأت کی تعلیم قاری عبدالرحمن بلوچستانی سے حاصل کی۔قرات وتجوید میں آپ نے دیگر اساتذہ کرام سے بھی کسبِ علم کیا۔اس کے بعد جامعہ انوارالعلوم‘ملتان میں حضرت غزالی زمان رازی دوراں علامہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمۃ کے سایہ عاطفت میں تعلیم حاصل کی۔صرف ونحو کے اسباق یہاں پر مفتی امید علی علیہ الرحمۃ اور دیگر اساتذہ سے حاصل کئے۔یاد رہے آپ نے موقوف علیہ کے کچھ اسباق غزالی زماں سے بھی پڑھے تھے۔عروس البلاد شہر لاہورمیں علم کا چرچا سنا تو اپنی علمی پیاس کو بجھانے کے لیے داتا کی نگری لاہور کیلئے رخت سفر باندھا۔

آپ کے اسا تذہ میں مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ ابوالبرکات سید احمد قادری‘غزالی زمان سید احمد سعید کاظمی‘شارح بخاری علامہ غلام رسول رضوی‘مفتی محمد حسین نعیمی‘مفتی محمد حسین سکھروی‘تفتازانی دوراں علامہ مہر دین‘مفتی عبدالقیوم ہزاروی‘ علیھم الرحمۃاور دیگر شامل ہیں۔

حضرت علامہ قاری کریم الدین سیالوی علیہ الرحمۃ انتہائی متقی اور پر ہیز گار تھے آپ نے اپنی زندگی کا کوئی لمحہ بھی یاد الہی کے بغیر نہ گزارا‘آپ کی ہر سانس یاد الہی اور یاد رسول ﷺ سے لبریز تھی‘آپ کی ذات میں اسلاف کا عکس جمیل تھا‘رمضان المبارک کی پہلی رات سے لے کر آخری رات تک کبھی اپنی کمر بستر سے نہیں لگنے دیتے۔آپ کی ذات میں عشق رسول ﷺ کی دولت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی‘آپ کی زندگی اتباع رسول ﷺ میں اس طرح ڈھلی ہوئی تھی کہ آج بھی ہر شخص آپ کے نام کے ساتھ عالم باعمل لکھنا ضروری سمجھتا ہے۔پس اتباعِ رسول ﷺ کسی عاشق کے لیے سختی نہیں ہوا کرتی بلکہ عاشق کے لئے محبوب کی ہرہر ادا گلاب کے پھول سے کہیں زیادہ حسین ہوا کرتی ہے‘آپ کی اسی اتباع کو بعض افراد سختی سے تعبیر کرتے تھے مگر آپ فرماتے تھے کاش یہ لوگ بھی عاشق رسول ﷺ ہوتے اور محبوب کی ہرہر ادا کو اپناکر اپنے بے قراردل کی تسکین کا سامان کرتے۔ اسی عشق رسول ﷺ کا نتیجہ تھاکہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے محبوب آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور تین کروڑ سے زائد مرتبہ درودپاک کا نذرانہ پیش کیا۔آپ کی بیعت شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ قمرالدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ سے تھی۔ان کی نظر کرم سے آ پ انتہائی حلیم مزاج اور نرم خو تھے آپ کے اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہو کر کئی لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں۔آپ نے مملکت خداداد پاکستان میں مختلف تحاریک میں بھی حصہ لیا‘تحریک ختم نبوت،نظام مصطفی ونفاذ مقام مصطفی کے تحفظ کی خاطر جمیعت علماء پاکستان کے پلیٹ فارم سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور قید وبند کی صعوبتوں کو بھی برداشت کیااور اپنے علاقہ میں قیادت کرتے ہوئے بے باک اور مجاہدانہ کردار ادا کیا۔آپ کی سیاست عین دین تھی‘آپ نے جمیعت علماء پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ پاکستان کی بقاء کے لیے حق وصداقت کی بات کی‘جابر حکمران کے سامنے ہمیشہ کلمہ حق کو بلند کیا اورطویل عرصہ حلقہ مغل پورہ کی صدارت پرقائم رہے۔‘آپ نے ۳۱ سال کے عرصہ میں جامع مسجد حنفیہ رضویہ مجاہدآباد میں پورے قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیرنہایت جانفشانی سے مکمل کیاجو فجر کی نماز کے بعد شروع ہوجاتا‘ اس تکمیل پر عظیم الشان ”علم وعرفان کی بارش“ کے عنوان سے کانفرنس ہوئی اور علامہ سید محمود احمد رضوی‘علامہ غلام رسول سعیدی صاحب تبیان القرآن‘مفتی عبدالقیوم ہزاروی اور دیگر علماء نے خطاب کرتے ہوئے آپ کی خدمات دینیہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔آپ کو طب وحکمت وعملیات میں خصوصی مہارت تھی‘طب میں آپ سند یافتہ تھے جبکہ مخفی علوم میں آپ نے مجاہدات‘چلہ کشی سے روحانی منازل طے کیں۔آپ بہت زیادہ اسمائے الہیہ کے عامل وکامل تھے اوربہت سے بزرگوں سے اجازت بھی حاصل تھی۔آپ کی ساری زندگی دین اسلام کی آبیاری کرتے ہوئے گزری شیخ الحدیث والتفسیر‘عالم باعمل علامہ قاری کریم الدین سیالوی علیہ الرحمۃ 25مارچ 2002ء بمطابق۰۱ محرالحرام ۳۲۴۱ ھ شب عاشورہ بروز پیر رات سوا ایک بجے اپنے خالق حقیقی سے جاملے‘ آپ کے جنازے میں خلقت کا ہجوم تھا مغلپورہ کی پی آر گراؤنڈ میں آپ کی نماز جنازہ مفتی اعظم پاکستان علامہ عبدالقیوم ہزاروی صاحب نے پڑھائی اور حضرت حافظ محمد اسماعیل سہروردی المعروف درس بڑے میاں رحمۃ اللہ علیہ کے ملحقہ قبرستان میں آپ کی تدفین کی گئی‘ آپ نے جامع مسجد حنفیہ رضویہ مجاہدآباد میں 37برس دین کی خدمت کرتے ہوئے بسر کیے۔اور اب آپ کے ہونہار فرزند صاحبزادہ ڈاکٹر محمد علی کریمی صاحب آپ کی ہی جگہ پر دین اسلام کی آبیاری میں مصروف عمل ہیں‘فیض کریمانہ کا سلسلہ آج بھی جاری وساری ہے اور اہل علاقہ آج بھی اس فیض سے مستفید ہو رہے ہیں۔اللہ تعالی ان کے اس علمی‘روحانی فیوض کو دوام عطا فرمائے۔ آمین

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

آپ کے وصال پرعلماء کے تاثرات

مزید : ایڈیشن 1