مشتبہ مریضوں کیلئے معیاری خوراک اور دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، محمود خان

مشتبہ مریضوں کیلئے معیاری خوراک اور دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جمعرات کے روز ڈی آئی خان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے گومل میڈیکل کالج میں تفتان سے آنے والے زائرین کیلئے قائم قرنطینہ مرکز کا دورہ کیا ہے اور مرکز میں فراہم کی گئی سہولیات کا جائزہ لیا۔ کمشنر ڈی آئی خان اور دیگر حکام کی طرف سے قرنطینہ مرکز میں کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کے لیے کئے گئے انتظامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلی کو بتایا گیا کہ فی الوقت مرکز میں 250 سے زائد مشتبہ مریضوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے جس میں ضرورت پڑنے پر اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ مرکز میں ہر مریض کیلئے الگ کمرہ مختص کیا گیا ہے جبکہ مشتبہ مریضوں کے ابتدائی طبی معائنوں کا مکمل انتظام بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے قرنطینہ مرکز میں کئے گئے انتطامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں انتظامیہ کی کوششوں کی تعریف کی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز، سیکرٹری ریلیف محمد عابد مجید، کمشنر ڈی آئی خان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر بتایا کہ مرکز میں سنٹیشن پروٹوکولز اور ایس او پیز پر عمل درآمد کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے اور ہر تین مریضوں کیلئے ایک واش روم کا انتظام موجود ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر سے لے کر عملہ صفائی تک تمام درکار عملہ تعینات کر دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ کو مزید بتایا گیاکہ مفتی محمود ہسپتال ڈی آئی خان میں کورونا کے مریضوں کیلئے 225 الگ تھلگ بستر مختص کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلی محمود خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مرکز میں آنے والے مشتبہ مریضوں کیلئے معیاری خوراک اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو ہر لحاظ سے یقینی بنائی جائے۔ اْنہوں نے اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے میں مرکز میں تعینات عملے کے کردار کو انتہائی اہمیت کاحامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکز میں تعینات عملہ ہمارے اصل ہیرو ہیں جو اس جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں،دریں اثناء میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قرنطینہ مرکز میں بین الاقوامی معیار کے مطابق انتظامات کئے گئے ہیں۔اْنہوں نے کہاکہ حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے نہایت سنجیدگی کے ساتھ کوشاں ہے۔ اْنہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، سماجی رابطوں کو کم سے کم کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔ صوبائی حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے اپنی استعداد سے بڑھ کر اقدامات کر رہی ہے۔ یہ تمام تر اقدامات اْسی صورت نتیجہ خیز ثابت ہو ں گے جب عوام اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کریں گے اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ فی الحال کرفیو لگانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا البتہ جس علاقے میں کیسز سامنے آتے ہیں اْسی مخصوص علاقے کو محدود پیمانے پر لاک ڈاؤن کیا جاتا ہے جس کا مقصد شہریوں کو وائرس سے بچانا ہے۔ قبل از یں وزیر اعلی نے کمشنر ڈی آئی خان کے دفتر میں منعقد ایک اجلاس کی بھی صدارت کی جس میں ڈی آئی خان ڈویڑن میں کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

مزید : صفحہ اول