اہم بات یہ ہے چین میں طلبہ زیادہ محفوظ ہیں ،اگرادھر ہوتے تو زیادہ خطرے میں ہوتے ،اسلام آبادہائیکورٹ کی حکومتی اقدامات کی تعریف

اہم بات یہ ہے چین میں طلبہ زیادہ محفوظ ہیں ،اگرادھر ہوتے تو زیادہ خطرے میں ...
اہم بات یہ ہے چین میں طلبہ زیادہ محفوظ ہیں ،اگرادھر ہوتے تو زیادہ خطرے میں ہوتے ،اسلام آبادہائیکورٹ کی حکومتی اقدامات کی تعریف

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین سے پاکستانی شہریوں کو واپس لانے کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آبادہائیکورٹ نے حکومتی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اہم بات یہ ہے کہ چین میں طلبہ زیادہ محفوظ ہیں ،طلبہ ادھر ہوتے تو زیادہ خطرے میں ہوتے ،برطانیہ اور امریکا نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے شہریوں کو نکال کر غلط کیا،دنیا بھر میں کورونا پرقابو پانے کی واحد مثال چین ہے ۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں کورونا وائرس کے باعث چین سے پاکستانی شہریوں کو واپس لانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،وزارت خارجہ امور اور کابینہ ڈویژن کی جانب سے جواب عدالت میں پیش کردیاگیا،ڈی جی خارجہ امور مدثر ٹیپو عدالت میں پیش ہو کر حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔

ڈی جی خارجہ امور نے کہاکہ چین میں کورونا کے باعث خراب صورتحال میں بہتری آرہی ہے،چین نے بتایا ہے کہ 2 ہفتوں میں چیزیں مزید بہت ہو جائیں گی،پاکستان طلبہ کو خوراک اورادویات پہنچا رہے ہیں ۔

والدین نے کہاکہ حکومت نے چین میں پھنسے طلبہ کو اپس لانے کیلئے اقدامات نہیں کئے ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومتی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ چین میں طلبہ زیادہ محفوظ ہیں ،طلبہ ادھر ہوتے تو زیادہ خطرے میں ہوتے ،برطانیہ اور امریکا نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے شہریوں کو نکال کر غلط کیا،دنیا بھر میں کورونا پرقابو پانے کی واحد مثال چین ہے ۔

ڈی جی خارجہ امور نے کہاکہ چین میں مقیم 95 فیصد طلبہ میں رقم بھی تقسیم کردی گئی ہے ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ ہم اس کیس کو نمٹا دیتے ہیں ،آپ کو ریاست پر بھروسہ ہونا چاہئے ،نیشنل سکیورٹی کمیٹی بھی اس معاملے کو دیکھ رہی ہے ۔

وکیل درخواست گزار جہانگیر جدون نے استدعا کی کہ کیس نمٹانے کے بجائے زیرالتوارکھا جائے،عدالت نے کیس کی سماعت4 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد