چلتی بس میں نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے چار افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا

چلتی بس میں نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے چار افراد کو ...
چلتی بس میں نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے چار افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا

  



نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت میں چلتی بس میں زیادتی کے تہلکہ مچانے والے نربھیا زیادتی کیس کے ملزمان کو 7 سال بعد  جمعہ کی صبح پھانسی دے دی گئی،2012 میں زیادتی کے بعدمضروبہ طالبہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چند روز بعد انتقال کرگئی تھی ، اس واقعے کے بعد بھارت میں زیادتی کیخلاف قانون بھی لایاگیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ملزمان اکشے ٹھاکر، وینے شرما، پون گپتا اور مکیش سنگھ کو ٹرائل کورٹ نے 2013 میں پھانسی کی سزا سنائی تھی جہیں بلآخر طویل مدت کے بعد نئی دہلی میں پھانسی دی گئی، چھ افراد کو مجموعی طورپر حراست میں لیاگیا تھا جن میں سے ایک نے مبینہ طورپر 2013 میں ہی جیل میں خودکشی کرلی تھی، ایک ملزم کو واردات کے وقت 17 سال عمر ہونے کی وجہ سے تین سال سزا بھگتنے کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے کا بتانا ہےکہ بھارت میں 2015 کے بعد یہ کسی بھی کیس میں ملزمان کو پھانسی دی گئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ملزمان کو صبح ساڑھے پانچ بجے پھانسی دی گئی اور اس موقع پر نئی دہلی میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے جب کہ تہاڑ جیل کو پوری طرح لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پھانسی سے چند گھنٹے قبل ملزمان کے وکیل نے نئی دہلی کی ہائیکورٹ میں ایک اپیل بھی دائر کی جس میں کورونا وائرس کی وجہ سے تمام دستاویزات جلدی میں جمع کرانے کا حوالہ دیا گیا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی سے قبل ملزمان کو الگ سیل میں رکھ دیا گیا تھا جہاں انہوں کھانا کھانے اور آخری خواہش بتانے سے بھی انکار کردیا۔

ملزمان کی پھانسی کے بعد زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس دن کے لیے طویل انتظار کیا، آج بھارت کی بیٹیوں کے لیے ایک نئی صبح طلوع ہوئی ہے، اب ہم اپنے گھر میں نربھیا کی تصویر آویزاں کریں گے۔واضح رہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں میڈیکل کی 23 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی کا یہ واقعہ دسمبر2012 میں پیش آیا تھا جب وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ فلم دیکھنے کے بعد  شام ساڑھے آٹھ بجے بس میں سوار ہوئی تھی ، اسی بس میں سوار چھ افراد نے ان دونوں پر حملہ کردیا اور لڑکے پر بھی تشدد کیا تھا، بعد میں ویرانے میں پھینک دیا تھا جس پر راہگیروں نے انہیں برہنہ حالت میں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی  ، واقعہ کے بعد بھارت میں شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔

مزید : بین الاقوامی /جرم و انصاف