’ضرورت پڑی تو مکمل لاک ڈاﺅن بھی کرسکتے ہیں لیکن ۔۔۔‘ وزیر اعظم نے واضح کردیا

’ضرورت پڑی تو مکمل لاک ڈاﺅن بھی کرسکتے ہیں لیکن ۔۔۔‘ وزیر اعظم نے واضح کردیا
’ضرورت پڑی تو مکمل لاک ڈاﺅن بھی کرسکتے ہیں لیکن ۔۔۔‘ وزیر اعظم نے واضح کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو مکمل لاک ڈاﺅن بھی کرسکتے ہیں لیکن اس طرف مرحلہ وار جانا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کو کرونا وائرس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ درست اعداد و شمار پیش کیے جائیں، آئی ایس آئی اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ہم میپنگ کر رہے ہیں، مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں، ہر روز ڈاکٹر ظفر مرزا میٹنگ کے بعد لوگوں کو صورتحال کے بارے میں بتائیں گے۔میں لاک ڈاﺅن کا سب سے زیادہ مخالف ہوں، ہمیں بڑے پیمانے پر نچلے طبقے کے لوگوں کیلئے سیفٹی قائم کرنا ہوگی، کوشش ہے کہ تعمیرات متاثر نہ ہوں کیونکہ اس میں لوگ جمع نہیں ہوتے، اگر یہ انڈسٹری چلتی رہی تو لوگوں کو روز گار ملتا رہے گا۔

اینکر پرسن کاشف عباسی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم مکمل لاک ڈاﺅن نہیں کرسکتے ، اگر کرفیو لگاتے ہیں تو ہمارے پاس اتنی سہولیات موجود ہیں کہ لوگوں کو کھانا پہنچاسکیں؟ہمیں ضرورت پڑی تو مکمل لاک ڈاﺅن بھی کرسکتے ہیں لیکن ہم مرحلہ وار اس طرف جانا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا سارے ملکوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے لوگوں کو سہولت دی جائے ، امریکہ نے اپنے لوگوں کو ایک ہزار ارب ڈالر جبکہ برطانیہ نے اپنے لوگوں کو 350 ارب پاﺅنڈ کا ریلیف دیا ہے جبکہ ہماری ٹیکس کولیکشن صرف 45 ارب ڈالر ہے، اس کے باوجود ہم لوگوں کو ریلیف پیکج دینے کی پوری کوشش کریں گے۔

مزید : قومی