چین نے شرح اموات کم کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا اورپاکستان میں کرونا کے مریضوں کو کس طرح بچا یا جا سکتا ہے؟ڈاکٹر طاہر شمسی نے طریقہ بتا دیا

چین نے شرح اموات کم کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا اورپاکستان میں کرونا کے ...
چین نے شرح اموات کم کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا اورپاکستان میں کرونا کے مریضوں کو کس طرح بچا یا جا سکتا ہے؟ڈاکٹر طاہر شمسی نے طریقہ بتا دیا

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )چیئر مین این آئی بی ڈی کراچی ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے لیے ویکسین دستیاب نہیں ہے ،جب کسی مریض کو ویکسین لگاتے ہیں تو اس کے جسم میں اینٹی باڈیز بتنی ہیں اور یہ اینٹی باڈیز کسی بھی وائرس کو نیو ٹرلائز کر دیتا ہے جس سے انسان کی جان بچ جا تی ہے۔نجی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتا یا کہ جب کسی وائرس کی ویکسین نہ آئی ہو تو ایک دوسرا طریقہ اپنا یا جاتا ہے اور انفیکٹڈ مریض کو تازہ پلازمہ لگا یا جاتاہے جس سے بننے والے اینٹی باڈیز وائرس کو نیوٹرلائز کردیتے ہیں ۔کسی مریض کو اس کے بلڈ گروپ کے مطابق پلازما لگا یا جائے تو جسم کے کسی بھی اعضا پر حملہ کرنے والے وائرس کو اینٹی باڈیز نیوٹرلائز کردیتے ہیں،اس طریقے کو پیسو امیونائزیشن کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین نے فروری میںکرونا وائرس سے متاثر ہونے والے 245افراد کو پلازما لگا یا جس سے چھیانوے فیصد مریض ٹھیک ہو گئے اور چین میں شرح اموات کم ہے ،دوسری جانب اٹلی نے پیس امیونائزیشن پر عمل نہ کیا جس کے باعث وہاں پر دس فیصد شرح اموات ہے ۔

ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا کہ مختلف وائرس اور بیکٹریاز کو نیوٹرلائز کرنے کے لیے پیسو امیونائزیشن کا طریقہ سوا سو سال پرانا ہے ۔اگر حکومت آج ہمیں ا س طریقے پر عمل کرنے کا کہے تو ہمیں تیاری میں دو ہفتے لگیں گے ،ہمیں پلازما اکٹھا کرنا پڑے گا اس کے بعد جن مریضوں میں کرونا وائرس کی شدت ہے انہیں پلازما لگانا شروع کیا جائےگا۔

مزید : اہم خبریں /قومی