”ایک بیٹی کی کہانی“

”ایک بیٹی کی کہانی“
”ایک بیٹی کی کہانی“

  

ایک دوست نے مجھے ایک وڈیو کلپ بھیجا۔ میں نے کھولا تو بیس بائیس سال کی پیاری سی بیٹی ایک کشتی میں بیٹھی تھی اورمسکراتے ہوئے کچھ کہہ رہی تھی،جو اس نے کہا،میرے ساتھ آپ بھی سنئے۔ ”ہیلو، السلام علیکم۔میرا نام عائشہ عارف خان ہے اور میں جو بھی کرنے جا رہی ہوں،اپنی مرضی سے کرنے جا رہی ہوں اس میں کسی کا زور اور دباؤ نہیں ہے۔کیا کہیں! یہ سمجھ لیں کہ بس زندگی اتنی ہی ہوتی ہے اور مجھے اتنی ہی زندگی بہت سکون والی ملی ہے۔(اس کے بعد عائشہ اپنے باپ سے مخاطب ہوتی ہے)، او ڈئیر ڈیڈ!کب تک لڑیں گے اپنوں سے، WithDrawکر لو، نہیں لڑنا۔ عائشہ لڑائیوں کے لئے نہیں بنی، پیار کرتی ہوں عارف سے، اسے پریشان تھوڑا کرنا ہے۔ اسے آزاد کردیں، چلو اپنی زندگی تو یہاں تک ہے۔

میں خوش ہوں کہ میں اللہ سے ملوں گی، اللہ سے پوچھوں گی کہ مجھ سے غلطی کہاں ہو گئی۔ماں باپ بہت اچھے ملے،دوست بھی بہت اچھے ملے،شاید کہیں مجھ میں کمی رہ گئی یا تقدیر میں۔میں خوش ہوں، سکون سے جانا چاہتی ہوں،اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ دوبارہ انسانوں کی شکل نہ دکھائے۔ایک چیز ضرور سیکھی ہے کہ محبت کرنی ہے تو دوطرفہ کرو، ایک طرفہ میں کچھ حاصل نہیں۔چلو کوئی محبت تو نکاح کے بعد بھی ادھوری رہتی ہے۔ یہ پیاری سی ندی،دل کررہا ہے کہ مجھے اپنے آپ میں سما لے۔ میری پیٹھ پیچھے جو بھی ہو،پلیز زیادہ بکھیڑا مت کرنا۔ میں ہواؤں کی طرح ہوں،بس بہنا چاہتی ہوں اور بہتے ہی رہنا چاہتی ہوں۔کسی کے لئے نہیں رکنا۔میں خوش ہوں آج کے دن کہ مجھے جن سوالات کے جواب چاہئے تھے،وہ مل گئے اورمجھے جس کو جو سچائی بتانا تھی،وہ میں بتا چکی۔آپ مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا،کیا پتہ جنت ملے یا نہ ملے۔الوداع“

اس وڈیو کو موبائل پر ریکارڈ کرنے کے بعد عائشہ نے یہ کلپ اپنے شوہر کو وٹس ایپ کیا جس کا مطالبہ تھا کہ تم شوق سے مرو لیکن ایک وڈیو کلپ بنا کر مجھے بھیجو تاکہ پولیس مجھے تنگ نہ کرے۔عائشہ نے ایسا ہی کیا۔اس کے بعداس نے اپنا موبائل اور پرس کشتی ہی میں رہنے دیااور 26 فروری کو سابر متی ندی میں کود کر جان دے دی۔ عائشہ کون تھی اور کیوں اس نے ایسا کیا؟ مختصر کہانی یہ ہے کہ غریب درزی باپ کی بیٹی عائشہ احمد آباد انڈیا کی رہنے والی تھی اور ایم اے کی طالبہ تھی کہ اس کا رشتہ آیا۔ یہ اپنی تعلیم مکمل کرنا اور ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، لیکن جیسا کہ اکثر ہوتا ہے رشتہ لینے والوں کا دوہر ا چہرہ ہوتا ہے،رشتہ لیتے وقت بڑا مہربان اور شفقت بھرا،یہاں بھی ایسا ہی ہوا کہ لڑکی والے ان لوگوں کے جھانسے میں آگئے کہ لڑکی اپنی تعلیم بھی پوری کرے گی اور جہاں چاہے ملازمت بھی کرے گی۔ ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سو روپے کی چیز خریدنے کے لئے لوگ سارا بازار چھان مارتے ہیں، لیکن جب رشتہ کا معاملہ آتا ہے تو لاڈاورپیار سے پالی نازک سی بیٹی بغیر تحقیق کئے ظالم اور لالچی لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔

یہاں بھی ایسا ہی ہوا، ان لوگوں پر اعتبار کر کے درزی باپ اور مکینک بھائی نے کچھ قرض لے کر رخصت کر دیا۔ جلد ہی عائشہ کے سسرالیوں کے چہرے پر پڑا نقاب اتر گیا۔پہلے تعلیم چھڑائی گئی اور پھر گھریلو تشدد شروع ہوگیا اور ساتھ ہی ساس اور شوہر نے د س لاکھ کا مطالبہ کردیا۔ اسی بہانے عارف اسے اس کے والدین کے گھر لے گیاکہ جب آپ لوگ دس لاکھ دیں گے،آکر لے جاؤں گا۔کچھ عرصہ بعد عائشہ  کے باپ نے پھر کہیں سے قرض لے کر ڈھائی لاکھ کا بندوبست کیا اور کچھ لوگوں اور رشتہ داروں کو بیچ میں ڈال کر عائشہ کو سسرال بھیج دیا گیا۔ ڈھائی لاکھ ہڑپ کرنے کے کچھ عرصہ گزرنے پر پھر عائشہ کو میکے بھیج دیا گیا کہ جب دس لاکھ ہوں گے تو اطلاع کردینا،آ کر تمہیں لے جائیں گے۔ والدین کے مطابق عائشہ یہ سب برداشت نہیں کرپارہی تھی اور مسلسل روتی رہتی تھی۔ پولیس کو اس کے موبائل سے خودکشی سے ایک دن قبل کی ستر منٹ کی ریکارڈنگ بھی ملی ہے اور یہ وہی ریکارڈنگ ہے، جس میں اس کا شوہر اس سے کہہ رہا ہے کہ تم بے شک مرو لیکن مرنے کی ریکارڈنگ بنا کر مجھے بھیج دینا تاکہ پولیس مجھے تنگ نہ کرے۔ پولیس نے عائشہ کے شوہر کو گرفتار کرلیا ہے، جس کو کسی قسم کی شرمندگی یا پشیمانی نہیں ہے۔

اس کے خلاف خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس پر زیادہ سے زیادہ اسے کچھ ماہ کی قید ہوسکتی ہے۔ وکیل ہوشیار ہوا تو یہ قید بھی نہیں ہوگی۔ دیکھا جائے تو عائشہ کا اصل قاتل اس کا شوہر ہے۔  وہ اس کی خوشیوں اور خوابوں کابھی قاتل ہے جو اس نے لڑکپن میں اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں بن رکھے ہوں گے،لیکن یہ سب قتل ثابت کون کرے؟سو عار ف کچھ دنوں بعد آزاد ہو گا، لوگ بھی یہ سب بھول جائیں گے۔ یہ کہانی یہ ہمارے معاشرے کی مسلسل دہرائی جانے والی کہانی ہے۔  اپنا فرض ادا کیجئے، مظلوموں کا ساتھ دیجئے،عارف جیسے ظالموں کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیے۔ اگر سارا معاشرہ خاموش اور بے حسی کا کردار ادا کرتا رہاتو یقین جانئے کہ آپ کی آج کی ننھی اور پیاری سی گڑیا رانی جب کل دلہن بن کر کسی پرائے گھر جائے گی تو کوئی گارنٹی نہیں کہ  وہ بھی کسی ندی میں نہ کو دے، کیونکہ ظالم کو بھی یقین ہوگا کہ معاشرہ بے حس ہے،میرا کوئی کیا بگاڑ لے گا۔شعور اجاگر کیجئے۔ جہیز لینے سے انکار کیجئے،غریب بچیوں کی شادی کے لئے گروپ بنا کر آگے آئیے اور عارف جیسے خاندانوں کا سوشل بائیکاٹ کیجئے۔ دل اور عمل سے ان کو برا جانئے،ان کی شہرت کیجئے، تاکہ ان جیسوں کو کوئی رشتہ نہ دے۔

مزید :

رائے -کالم -