خلیفہ مجازحضرت کرماں والا، پیر محمد عنایت احمدؒ  نقشبندی،مجددی 

 خلیفہ مجازحضرت کرماں والا، پیر محمد عنایت احمدؒ  نقشبندی،مجددی 
 خلیفہ مجازحضرت کرماں والا، پیر محمد عنایت احمدؒ  نقشبندی،مجددی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پیر کامل ٗ قطب دوراں ٗ منبع رشد وہدایت حضرت محمد عنایت احمدؒ نقشبندی مجددی18 نومبر  1937ء کو وادی کشمیر کے معروف گاؤں " کلسیاں " کے ایک دینی اور روحانی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ ؒکے والد حضرت میاں صحبت علی قادریؒ  شرافت ٗ دیانت اور روحانیت کے اعتبار سے پوری وادی میں اپنی الگ پہچان رکھتے تھے۔حضرت صحبت علی قادری ؒ بٹالہ شریف انڈیا میں بیعت تھے جن کی شہرت پورے ہندوستان میں تھی۔تبلیغ دین اور روحانی فیض کے ساتھ ساتھ آپ  ؒ کے والد گرامی کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی تھا بلکہ پھلوں کے کچھ باغات بھی آپ ؒ کے خاندان کی ملکیت تھے۔آپ ؒ کی والدہ (حضرت قاسم بی بی) انتہائی نیک سیرت اور پابند صلوۃ خاتون تھیں۔ گھریلو خانہ داری کے ساتھ ساتھ گاؤں کی بچیوں کو قرآن پاک کی تعلیم بھی  دیا کرتی تھیں۔ آپؒ کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد معروف روحانی بزرگ حضرت سید ولایت شاہ ؒ مبارک باد دینے کیلئے آپؒ کے گھر تشریف لائے اور آپ  ؒ کو گود میں لے کر پیار کرتے ہوئے فرمایا: اللہ نے اگر چاہا تو یہ بچہ اپنے وقت کا قطب ٗ عالم دین اور منبع رشد و ہدایت ہوگا اور لاکھوں بھٹکے ہوئے انسانوں کو صراط مستقیم پر گامزن کرے گا۔ اللہ تعالی نے اس ولی کامل کی زبان سے نکلنے ہوئے الفاظ کی لاج رکھی۔ منصب ولایت پر فائز ہوتے ہی آپؒ نے خود کو دین الٰہی کی تبلیغ اور نبی کریمؐ کی محبت کو عام کرنے کے لیے رات دن ایک کردیا۔ جب حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی عظیم جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان دنیا کے نقشے پر وجود میں آیا تو آپ ؒ کا خاندان وادی کشمیر سے ہجرت کرکے گجرات کے نواحی قصبے چک 34 میں آکر آباد ہوگیا۔یہاں آئے ہوئے ابھی کچھ ہی عرصہ گزراتھا کہ آپ ؒکی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوگیا۔ گویا  چھ سال کی عمر ہی میں آپ ؒ شفقت مادر سے محروم ہوگئے۔ والدہ کی کمی کو آپ ؒ  زندگی کے آخری سانس تک شدت سے محسوس کرتے رہے۔جب آپ ؒ نے کچھ ہوش سنبھالا تو والد گرامی نے آپ  ؒ کو اور شیخ القرآن  مولانا غلام علی قادری اشرفی کے مدرسے میں داخل کروادیا۔

کچھ عرصہ تو دینی تعلیم کا سلسلہ چک 34 ہی میں جاری رہا پھر جب استاد العلما مولانا غلام علی قادری اشرفی نے اوکاڑہ شہر میں ایک بڑے دینی  مدرسے  " اشرف المدارس "کی بنیاد رکھی تو آپ ؒ  بھی والد گرامی کے حکم پر حصول تعلیم کے لیے اوکاڑہ تشریف لے آئے اور سالہا سال تک یہاں تعلیمی مدارج طے کرتے رہے۔اوکاڑہ شہر سے شمال مشرق کی جانب حضرت کرماں والا کے نام سے ایک چھوٹا سا قصبہ موجود ہے جبکہ اسی نام سے ریلوے اسٹیشن بھی انگریزوں نے مجبورا بنایا تھا۔ یہ قصبہ ایک ولی کامل اور عظیم درویش، حضرت سید اسمعیل شاہ بخاری ؒ کا مسکن ہے۔جب تک آپؒ "اشرف المدارس" اوکاڑہ میں زیر تعلیم رہے۔ تو ساتھ ساتھ پیر ان پیر حضرت سید اسمعیل شاہ بخاری  ؒ المعروف حضرت کرماں والوں سے والہانہ محبت کا رشتہ بھی استوار ہوتا رہا۔کئی ایک بار آپ ؒ  شیخ القرآن مولانا غلام علی اوکاڑی ؒ کے ہمراہ آستانہ کرماں والا بھی گئے۔ پھر آپ  ؒکے دل میں روحانیت کی منزلیں طے کرنے کا ایسا جنون طاری ہوا کہ ہردوسری تیسری شام اکیلے ہی پیدل چلتے ہوئے حضرت کرماں والا تشریف لے جانے لگے۔ اس کے باوجود کہ ابھی آپ ؒ کی عمر زیادہ نہ تھی پھر بھی آپ ؒکی روحانیت کی جانب بڑھتی ہوئی دلچسپی دیکھ کر حضرت سید اسمعیل شاہ بخاری ؒ نے آپ ؒ کو خصوصی محبت سے نوازا۔ ایک شام بیعت ہونے کا شوق دل میں موجزن ہوا تو آپ ؒ وقت اور موسم کی نزاکت کااحساس کئے بغیر پیدل ہی حضرت کرماں ؒ والا جا پہنچے۔اس وقت مغرب کی نماز ہوچکی تھی اور نماز کے بعد حضرت سید اسمعیل شاہ بخاری  ؒ گوشہ خاص میں وضائف میں مشغول ہوجاتے تھے۔

پھروہاں کسی کو جانے کی اجازت نہ تھی لیکن آپؒ کسی نہ کسی طرح گوشہ خاص میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔جب حضرت سید اسمعیل شاہ بخاری ؒ کی نظر کرم آپ ؒ  پر پڑی تو انہوں نے آنے کی وجہ پوچھی۔ آپ ؒ نے کہا میں آپ  ؒ کا مرید ہونے آیا ہوں۔ یہ سن کر حضرت سید اسمعیل شاہ بخاری ؒ  نے فرمایا کہ تم تو ازل سے ہی میرے مرید ہو،پھر تہجد اور درود شریف کے متعلق ارشاد فرمایا اور اپنا دست شفقت آپ  ؒ کے سینے پر پھیرا اور فرمایا جاؤ۔ تمہیں جملہ علوم حاصل ہونگے تم عالم باعمل اور صالح مرد بنوگے اور تمہارا سینہ قرآن پاک کے نور سے روشن ہو گا۔حضرت سید اسمعیل شاہ بخاری ؒ  کے یہ الفاظ سن کر آپؒ کے بے قرار دل کو قرارآگیا۔پھرزندگی بھر کبھی پیرخانے سے رشتہ کمزورنہ ہوا۔یہ 1969ء کا زمانہ تھا جب آپ  ؒنے اے تھری گلبرگ تھرڈ لاہور میں خستہ حال مسجد کی امامت سنبھالی۔ 1971ء میں اپنے دست مبارک سے اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جس کا نام آپ ؒ نے مسجد طہ رکھا۔ابتدا میں جب آپ ؒ نے نماز جمعہ کااہتمام کیا تو نمازیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن چند ہی سالوں میں عاشقان رسول ؐ کا  رخ مسجد طہ کی جانب ہونے لگا اور ہر نماز کے بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہزاروں لوگوں نے آپ ؒ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔لاہور اومنی بس ورکشاپ میں آپؒ مسلسل14 سال تک درس قرآن پاک دیتے رہے۔


ایک مرتبہ شیخ القرآن حضرت غلام علی اوکاڑوی نے فرمایا۔روزقیامت جب اللہ تعالی مجھ سے پوچھے گا کہ اے غلام علی تو میرے لیے دنیا سے کیا لایا تو میں نہایت ادب سے کہہ دوں گا کہ باری تعالی میں دنیا سے تیرا نیک اور متقی بندہ عنایت احمد ؒ لایا ہوں جس کی ساری زندگی قرآن پاک پڑھنے سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے میں گزر گئی۔ آپ ؒ حضرت کرماں والوں کے خلیفہ مجاز بھی تھے۔آپؒ نے جن بزرگان دین اور اساتذہ کرام سے حصول دین اور منصب ولایت پر فائز ہونے کے لیے رجوع کرکے استفادہ کیا۔ان کے اسمائے گرامی ولی کامل حضرت ابوالبرکات سید محمد احمد قادری ؒ، حضرت سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی  ؒ، شیخ القرآن حضرت مولانا غلام علی اوکاڑی ؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ قصور ی اشرفی  ؒ،حضرت مولانا منظور احمد ؒ،حضرت علامہ مولانا محمد عبداللہ جھنگوی ؒ ہیں۔آپؒ کا 28 شعبان 1432ھ بمطابق 31 جولائی 2011ء کو جسمانی وصال ہوا۔اس اعتبار سے ہراسلامی سال کی 28 شعبان کو آپ کا دو روزہ عرس مبارک کبوترپورہ قبرستان اے تھری گلبرگ تھرڈ لاہور میں عزت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔اس مرتبہ بھی 28 شعبان1444ھ۔20,21مارچ 2023ء کو آپؒ کے سجادہ نشین صاحبزادہ محمد عمر صاحب کی سرپرستی میں دوروزہ عرس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ جس میں ملک بھر سے عقیدت مند اور اولیاء اللہ سے محبت کرنے والے بڑی تعداد میں شریک ہونگے۔ ان شاء اللہ

مزید :

رائے -کالم -