مریم نواز۔ مسلم لیگ کا مستقبل

مریم نواز۔ مسلم لیگ کا مستقبل
مریم نواز۔ مسلم لیگ کا مستقبل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان کی سیاست بہت غیریقینی اور پیچیدہ ہے اکثر کہا جاتا ہے کہ یہاں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بڑا جامع لیکن خطرناک تبصرہ ہے۔ اب بھی ایک انہونی سی ہو گئی ہے یعنی مریم نواز پنجاب کی وزیراعلیٰ بن گئی ہیں۔ جب انتخابات کا نتیجہ آ چکا تھا تو قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں۔ غالب خیال یہی تھا کہ نوازشریف وزیراعظم بنیں گے لیکن اُن کو بڑے چیلنج درپیش ہوں گے یہ چیلنج معیشت اور سیاست کے میدان میں تھے لیکن میں سوچا کرتا تھا کہ میاں صاحب کو ایک فیملی چیلنج بھی ہو گا۔ وہ یہ کہ وہ اپنے خاندان کے افراد شہبازشریف، حمزہ شریف اور مریم نواز کو کہاں ایڈجسٹ کریں گے لیکن ہوا یہ کہ مریم نواز اور شہباز شریف تو ایڈجسٹ ہو گئے لیکن وہ خود آؤٹ ہو گئے اب انہیں مستقل آؤٹ کرنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔

مریم نواز کا چیف منسٹر بننا اور وہ بھی پنجاب کاخاصا انہونا واقعہ ہے اس پر لوگ طرح طرح کے اعتراضات اُٹھائیں گے اور اُٹھا رہے ہیں۔ سب سے بڑا الزام موروثیت کا ہے ایک زمانے میں نوازشریف پر دو بڑے الزام لگائے جاتے تھے ایک کرپشن اور دوسرا انڈین ایجنٹ۔ اب کچھ عرصے سے انڈین ایجنٹ والا الزام غائب ہو گیا ہے کیونکہ انڈیا سے سلام دعا بھی ختم ہو گئی ہے اور میاں صاحب بھی سیاست سے کافی دیر آؤٹ رہے ہیں۔ اب انڈین ایجنٹ کی جگہ موروثیت نے لے لی ہے۔ موروثیت کا الزام کم از کم ثابت ہوتا ہے۔ مخالفین نے ایک دوسرے پر کوئی نہ کوئی الزام تو لگانا ہوتا ہے لیکن غور کریں تو موروثیت کا مسئلہ کسی حد تک عالمی ہے اور ایشیائی کلچر میں تو یہ ایک بڑی حقیقت ہے۔یہ الزام شریف خاندان تک محدود نہیں بلکہ بھٹو خاندان اور چوہدری خاندان پر بھی لگتا ہے۔ بہت سارے لوگوں کو شاید یہ یاد نہ ہو کہ ذوالفقار علی بھٹو شملہ مذاکرات جیسے سنجیدہ دورے پر بینظیر کو ساتھ لے گئے تھے۔ وہ اُسے سیر کے لئے نہیں لے گئے تھے بلکہ وہ اُس کی تربیت کر رہے تھے۔ ایوب خان بھی اپنی بیٹی نسیم کو اہم مواقع پر اپنے ساتھ رکھتے تھے حتیٰ کہ اُسے فرسٹ لیڈی بھی بنایا گیا۔پھر بنگلہ دیش،سری لنکا اور بھارت جیسے ملکوں میں موروثیت کا عنصر بہت نمایاں ہے۔

موروثیت سے ہٹ کر سوچیں تو مریم نواز کا چیف منسٹر بننا معاشرے میں خواتین کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی طرف ایک اہم قدم۔ بینظیر بھٹو کو وزیراعظم بنا کر پاکستان نے عالم اسلام میں ایک اعزاز حاصل کیا، یہ اُس کے بعد دوسرا اعزاز ہے اور کیا عجب کہ وہ آئندہ وزیراعظم بھی بن جائیں۔ اپنے ایک کالم میں لکھ چکا ہوں کہ آئندہ وزیراعظم کے عہدے کے لئے مقابلہ شاید مریم نواز اور بلاول بھٹو میں ہو گا۔

مریم نواز کو کامیابی کیلئے بہت کچھ کرنا پڑے گا کیونکہ مریم کو یہ عہدہ دے کر مسلم لیگ نے بڑا رسک لیا ہے، اب ایسا لگتا ہے کہ آئندہ مسلم لیگ (ن) کی کامیابی یا ناکامی مریم نواز کی کارکردگی سے منسلک ہے۔ مریم نواز اگرچہ اچانک چیف منسٹر نہیں بنیں بلکہ انہوں نے بڑے مشکل وقت میں عملی سیاست میں چھلانگ لگائی اور سیاستدانوں کے لئے ضروری کورس یعنی جیل یاترا بھی کرکے آئی ہیں لیکن پھر بھی سیاستدان ہر وقت ایک امتحان سے گزر رہا ہوتا ہے وہ بازاروں میں جا کر معاملات خود چیک کر رہی ہیں وہاں خواتین انہیں مل کر بہت خوش ہو رہی ہیں یہ سب بہت اچھا ہے لیکن میرا مشورہ ہے کہ اگر وہ سیاست میں عوامی روپ نمایاں کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اپنے لباس میں بھی عوامی ٹچ دینا پڑے گا۔ سیاست میں خصوصاً پاکستان جیسے ملکوں میں ڈرامے کو حقیقت سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔یہاں مجھے جرمنی کی سابق چانسلر آنگلہ مرکل یاد آ گئی ہیں۔انہیں ایک صحافی نے پوچھا کہ میڈم آپ ہمیشہ ایک کوٹ پہنچتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں چانسلر ہوں اداکار نہیں ہوں کہ روز نیا سوٹ پہن کر آؤں۔

مریم کو ایک Advantage حاصل ہے وہ یہ کہ انہیں بیوروکریسی کا تعاون حاصل رہے گا اور عملی طور پر یہ فیکٹر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ مسلم لیگ نے بیوروکریسی کے قابل لوگوں کو اپنے ساتھ رکھا ہے مثلاً نوازشریف کے پرنسپل سیکرٹریوں کے ناموں پر غور کریں۔ انور زاہد، شیردل، سعید مہدی سب ایسے قدآور لوگ تھے جن کا پوری بیوروکریسی میں احترام کیا جاتا تھا لہٰذا مریم نواز کے دور میں پی ٹی آئی والے ڈرامے نہیں ہوں گے جب ساڑھے تین سال میں پانچ پانچ چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس لگائے جاتے رہے۔مریم کے ساتھ پرویز رشید جیسے منجھے ہوئے سیاستدان اور دو خواتین مریم اورنگزیب اور عظمیٰ بخاری بھی ہروقت ساتھ ہیں۔ یہ سارے پارٹی ورکرز ہیں۔ مسلم لیگ کو چاہئے کہ ورکرز سے ہٹ کر کچھ پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل ایک تھنک ٹینک بنائے جو وفاقی اور صوبائی سطح کی لیڈر شپ کو معاشرے میں نئے رحجانات سے آگاہ کرے اور حکومتوں کی کارکردگی کا بھی غیرجانبدارانہ تجزیہ پیش کرے، ویسے مریم نواز کو میرا مشورہ ہے کہ انہیں دنیا کی کامیاب حکمران خواتین جرمنی کی مرکل، نیوزی لینڈ کی جیسینڈا آرڈن اور برطانیہ کی مارگریٹ تھیچرکے حالات زندگی کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

مریم نواز کی تقرری مجموعی طور پر معاشرے اور سرکاری پالیسی امور میں خواتین کی شرکت کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔

مزید :

رائے -کالم -