فاٹا میں الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام

فاٹا میں الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام
فاٹا میں الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام

  


الیکشن کمیشن نے پورے ملک سمیت وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں آزاد نہ اورغیر جانبدارانہ شفاف الیکشن کا انعقاد کا اعلان کیاتھا فاٹا کی تاریخ میں پہلی بار پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کے نفاذ کے بعد مختلف سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیااور قبائلی عوام سابق ایم این ایزکی ظلم وجبر اور کرپشن سے تنگ آچکے تھے۔اس تبدیلی کی غرض سے ووٹ پول کرنے نکلے تھے، لیکن ان کاخواب پورا نہ ہو سکا اور فاٹا کی تاریخ مین پہلی بار خواتین نے اپنے حق رائے دہی کے لئے گھروں سے نکل کر ظالمانہ نظام کے خلاف بیلٹ پیپر کے ذریعے آواز اُٹھائی ۔باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک تمام قبائلی علاقوں میں خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،مگر فاٹا میں اس مرتبہ جو دھاندلی کی گئی اس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی،اس کی بڑی وجہ وہاں کے پولیٹیکل ایجنٹس کے جانبدارانہ رویہ سے سابق ارکان پارلیمنٹ کو دوبارہ دھاندلی کے ذریعے منتخب کرانا تھا، الیکشن سے پہلے ملک میں تمام انتظامی افسران کے تبادلے کئے گئے،لیکن فاٹا ملک کا واحد خطہ تھا، جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا سے لے کر پولیٹیکل ایجنٹس، اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹس اور تحصیل داروں کے تبادلے نہیں کئے گئے۔

فاٹا مین پولیٹیکل ایجنٹ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر بھی ہوتا ہے اور الیکشن کمیشن نے تمام اختیارات ان کو تفویض کئے تھے، باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک بدترین دھاندلی کر کے اپنے من پسند امیدواروں کو کامیاب کرایا گیا، سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف ،جماعت اسلامی،جمعیت العلمائے اسلام (ف)کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے نامزد امیدواروں کے پریس کانفرنس کرنے اور بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود بھی الیکشن کمیشن نے پولیٹیکل ایجنٹس تبدیل نہیں کئے اور فاٹا میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیااور پارلیمنٹ میں عوام کے حقیقی نمائندگی کرنے والے امیدواروں کو حق سے محروم رکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا کو تعینات کرکے ایوان صدر سے آٹھ سابق آزاد ارکان کو کامیاب کرانے کا ٹاسک سونپ دیا گیا تھااور باجوڑ کے حلقہ این اے 43 پر گورنر خیبر پختونخوا کے والد حاجی بسم اللہ خان امیدوار تھے،الیکشن سے پہلے تمام امیدواروں نے پریس کانفرنس کرکے دھاندلی کی نشان دہی کی تھی کہ سرکاری مشینری بھی متعلقہ امیدوار کو کامیاب کرنے کے لئے استعمال کی جا رہی ہے لیکن جب بیٹا فاٹا کا چیف ایگزیکٹیو ہو اور باپ فاٹا کے ایک حلقے سے الیکشن لڑ رہا ہو تو اس صورت میں منصفانہ الیکشن کا امید رکھنا احمقوں کے جنت میں رہنے کی مترادف ہے۔فاٹا میں بڑے بڑے سمگلروں نے الیکشن کے میدان میں کود کر کروڑوں روپے خرچ کئے اور فی ووٹ ہزاروں روپے کے عوض خریدے گئے، کیونکہ فاٹا میں کروڑوں روپوں کی سرمایہ کاری اِس لئے کی جاتی ہے کہ آزاد ارکان منتخب ہونے کے بعد اسلام آباد جا کر وزیراعظم کے الیکشن سے لے کر سینٹ کے الیکشن میں ووٹ کروڑوں روپے کے عوض فروخت کرتے ہیںاور فاٹا میں آزاد ارکان چند سال کے بعد ارب پتی بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ فاٹا میں ترقیاتی سکیمیں بھی فروخت کی جاتی ہیں،فاٹا میں آزاد ارکان کے الیکشن کے پابندی کے لئے نئی منتخب حکومت قانون سازی کرے تاکہ فاٹا سے کرپشن کا خاتمہ ہو سکے۔

حلقہ این اے 36- مہمند ایجنسی میں دھاندلی کی گئی اور پولیٹیکل ایجنٹ سے لے کر لیویز کے اہلکار نے سابق رکن پارلیمنٹ کو کامیاب کرنے کے لئے اپنی تمام تر توانائی بروئے کارلائی۔ اس کی واضح مثال یہ بھی ہے کہ الیکشن سے چند روز پہلے سابق ایم این اے نے اثرو رسوخ پر اپنے رشتہ دار کو لیویز صوبیدار میجر تعینات کیا اور الیکشن میں لیوی اہلکاروں نے آزادانہ دھاندلی کی، الیکشن میں کروڑوں روپوں کا آزادانہ استعمال کرکے الیکشن کمیشن کی قوانین کی دھجیاں اُڑادی گئیں۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر خاموش تماشائی کا کردارادا کرتے رہے، تحصیل بائیزئی میں دھاندلی کے خلاف آواز اُٹھانے والے پولنگ ایجنٹ خوشحال خان کولیویزاہلکاروں نے گولی مار کر خاموش کر دیا۔نتائج کو رات دو بجے کے بعد تبدیل کر دئیے گئے۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افیسر کے دفتر میں دو بجے سابق ایم این اے بیٹھاتھا،اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر نتیجہ سنا رہا تھا۔ تمام امیداوارو ںنے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیااور چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کرکے ثبوت پیش کئے اور الیکشن فوج کی زیر نگرانی دوبارہ کرنے کا مطالبہ کیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ فاٹا میں جہا ںجہاں دھاندلی ہوئی ہیں اور نتائج تبدیل کئے گئے نوٹس لے کر نتائج کو کالعدم قراردیںاور دھاندلی میں ملوث پولیٹیکل ایجنٹس کے خلاف قانونی کاروائی کریں۔ایسے افسران کسی رعایت کے مستحق نہیںہوتے،جو چند ٹکوں کے عوض دھاندلی کریںاور عوامی مینڈیٹ کو ہائی جیک کریں۔فاٹا میں آزادانہ اور منصفانہ الیکشن تب ہی ممکن ہیںجب فاٹاکے پولیٹکل ایجنٹس کو تبدیل کر کے ایماندارفرض شناس اور غیر جانبدار افسران کو پولیٹیکل ایجنٹس تعینات کرکے فوج کے زیر نگرانی الیکشن کئے جائیں تو فاٹا سے حقیقی نمائندے منتخب ہوکر فاٹا کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔ ٭

مزید : کالم


loading...