بول جمورے....!

بول جمورے....!

استاد:جمورے جو پوچھوں گا بتائے گا ۔

جمورا:ہاں استاد جی بتاﺅں گا ۔

استاد: تم الیکشن میں کھڑے تھے، کیا بنا ۔

جمورا: ہار گیا ہوں ،دھاندلی ہوئی ہے ۔

استاد:جیتنے والے نے کتنے ووٹ لئے ۔

جمورا:ایک لاکھ پندرہ ہزار،دھاندلی ہوئی ہے ۔

استاد:تمہیںکتنے ووٹ ملے ۔

جمورا: تین ہزار،دھاندلی ہوئی ہے ۔

استاد:اتنی بڑی دھاندلی کیسے ہو گئی ؟

جمورا: میرے سپورٹرز کہتے ہیں دھاندلی ہوئی ہے۔

استاد:عوام نے تمہیں پسند نہیں کیا ہو گا۔

جمورا: جب وزیر تھا تو آگے پیچھے پھرتے تھے۔

استاد:تم تو کہتے تھے میری آبائی سیٹ ہے ۔

جمورا :استاد جی لوڈ شیڈنگ نے مروا دیا ۔

استاد: اب کیا بنے گا تیرا کالیا ۔

جمورا:مقبرہ، وہ بھی چوراہے میں،دھاندلی ہوئی ہے۔

استاد:تمہارے کپڑے کیوں پھٹے ہوئے ہیں ۔

جمورا:پبلسٹی کا بل لینے والے آئے تھے، دھاندلی ہوئی ہے ۔

استاد:تمہیں پسینہ کیوں آ رہا ہے ۔

جمورا: شہبا ز شریف نے بڑا سخت بیان دیا ہے ۔

استاد:تمہیں کیا فکر، تم نے کوئی کرپشن کی ہے ۔

جمورا:کی نہیں، کروائی گئی ہے ۔

استاد:تو پھر بھاگ جاﺅ، ورنہ مارے جاﺅ گے ۔

جمورا:ای سی ایل میں نام آ گیا ہے ۔

استاد: فیڈرل لاجز سے تم صوفے بھی اٹھا لائے تھے ۔

جمورا:بیگم نے کہا تھا ۔

استاد: تیرا کیا بنے گا کالیا۔

جمورا: تبدیلی کے نعرے نے مروا دیا ہے استاد جی ۔

استاد: تبدیلی کے نعرے والے تو نہیں جیتے ۔

جمورا: جنون نے مسلم لیگ(ن) کو جتوا دیا ، دھاندلی ہوئی ہے ۔

استاد: تم کانپ کیوں رہے ہو ۔

جمورا: وہ دیکھو پولیس کی گاڑی آ رہی ہے ۔

استاد: وہ تیزی کے ساتھ گزر گئی ہے ۔

جمورا: معمولی سی آہٹ پر بھی دل گھبرا جاتا ہے، استاد جی۔

استاد: جمورے مَیں جاﺅ ں، مجھے ضرور ی کام ہے ۔

جمورا: نہ استاد جی مجھے اکیلے نہ چھوڑنا ۔

استاد: اقتدار میں تو لفٹ نہیں کراتے تھے ۔

جمورا: اب آنکھ کھل گئی ہے، دھاندلی ہوئی ہے ۔

استاد :دھاندلی دھاندلی یہ کیا بکواس ہے ۔

جمورا: پی ٹی آئی والے بھی کہتے ہیں ۔

استاد:پی ٹی آئی تو پٹ گئی ۔

جمورا: پی پی پی کا بھی یہی حال ہے ۔

استاد: جیتا کون ۔

جمورا: پی والے نہیں، این والے جیت گئے ۔

استاد: اور کون کون ہارا ہے ۔

جمورا:ہمارے سبھی اتحادیوں کو یہی حال ہے ۔

استاد: مسلم لیگ(ق) کا کیا بنے گا ۔

جمورا: پرویز مشرف سے پوچھو،دھاندلی ہوئی ہے۔         ٭

مزید : کالم


loading...