سیاسی دانشمندی

سیاسی دانشمندی
سیاسی دانشمندی

  


الیکشن2013ءکی سب سے خوبصورت بات دینی گھرانے سے تعلق رکھنے والی میاں نواز شریف کی فیملی کی تربیت پر عمل کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا اپنے مخالفین کے لئے عام معافی کا اعلان ہے۔ ظاہر ہے کہ 1400 برس قبل جب ہمارے آخری نبی نے مدینہ سے مکہ ہجرت کی تھی تو فتح مکہ کے اعلان میں دشمنوں کے لئے عام معافی کا اعلان بھی کیا گیا تھا اور ساتھ ہی غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ اب جبکہ میاں نواز شریف پھر سے 12 اکتوبر1999ءکو جاری اپنے سفر کو ٹھیک وہیں سے دوبارہ شروع کرنے لگے ہیں، انہیں بہت سے معاملات کے متعلق سوچنا ہوگا۔ سب سے پہلے تو اُنہیں آزاد اور کسی حد تک بہت ہی آزاد میڈیا کے بارے میں سوچنا ہوگا، کیونکہ اب نہ تو کسی اخبار کا کاغذ آپ روک سکیں گے، نہ ہی اشتہارات، بلکہ بڑے گروپ تو آپ کے سرکاری اشتہارات کی پرواہ بھی نہیں کریں گے، کیونکہ یہ اُنہیں مجبوراً25 فیصد نرخوں پر شائع کرنا پڑتے ہیں۔ آج بھی جہاں میڈیا آزاد ہے، وہاں کسی بھی حکومت یا اس کے کسی ادارے کو کوئی رعایت، بلکہ اُدھار کی رعایت بھی میسر نہیں، یہاں تک کہ بنگلہ دیش، یعنی ہمارے اپنے سابقہ مشرقی پاکستان میں سرکاری اشتہارات ٹھیک اُن نرخوں پر ہی قبول کئے جاتے ہیں جو اخبارات نے پرائیویٹ کمپنیوں اور اداروں کے لئے مخصوص کئے ہوتے ہیں۔ البتہ حکومت سے اتنی رعایت ضرور کی جاتی ہے کہ اُدھار کی سہولت اُنہیں مہیا کر دی جاتی ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ ایم کیو ایم کی جماعت ہے ، جس نے نہ صرف یہ کہ پورے کراچی کو 25، 26 برس سے یرغمال بنا رکھا ہے، بلکہ وہاں اپنے کارکنوں کے کام کرنے اور اُن کے لئے اَن تھک محنت کرنے کے حوالے سے وہ وہاں کی مقبول ترین جماعت ہے، اس نے اپنا دائرہ اب کراچی سے حیدر آباد، سکھر اور اب شاہ عبداللطیف بھٹائی کے شہر تک اندرون سندھ میں پھیلا دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہاں کراچی میں پنجابی بھی ہیں۔ بلوچ بھی، پٹھان بھی ہیں اور سرائیکی بھی اور وہ بھی کاروبار، صنعتیں لگانے اور مزدوری کرنے کے حوالے سے لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ آج وہاں سب جانتے ہیں کہ صوبہ پنجاب سے ہی شفٹ کے گئے کارخانے (جو کہ ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاءالحق دور میں کئے گئے) ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور اب ان کی حالت ایسی ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے یرغمال ہیں، نہ تو وہ وہاں انہیں فروخت کر سکتے ہیں، نہ ہی شفٹ اور نہ ہی ڈیفنس کے اپنے بنگلوں کو فروخت کر سکتے ہیں۔ امن و امان کی صورت حال یہ ہے کہ بوری بند لاشیں ہر روز گلی، محلے میں ملتی ہیں ۔ صورت حال اب خود ایم کیو ایم سے کنٹرول نہیں ہو رہی، ورنہ خود پی پی پی کے ساتھ وہ حکومت میں رہے اور اُن کے گورنر بھی 13 برس سے وہاں موجود ہیں، پھر کسی کی کیا جرا¿ت ہے کہ ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات ہوں۔ یہی نہیں، بلکہ یہ واقعات تو بند ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔

اِن تمام حالات کی ذمہ داری ایک عام پاکستانی کس پر ڈالے؟.... اگر حکومت پر ڈالی جائے تو پھر ایم کیو ایم بھی ذمہ دار ہے۔ اب قائد الطاف حسین کو کیا یہ علم نہیں کہ نوے کی دہائی میں فوج نے ایم کیو ایم کے خلاف جو ایکشن شروع کیا تھا۔ اس کی وجہ کیا تھی؟....یقیناً یہ بھی امن و امان کا ہی مسئلہ تھا اور وہ اس وقت پہلی مرتبہ پنجابی وزیراعظم بننے والے وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ ہی شامل تھے اور انہوں نے دوستی نبھانے کی بجائے اُلٹا اپنی مرضی کرنا شروع کر دی تھی۔ ایسے میں میاں نواز شریف کے پاس کیا آپشن باقی رہ جاتا؟.... یا تو وہ وہاں کراچی کے اس وقت کے کور کمانڈر جنرل آصف نواز کو ایم کیو ایم کے ماتحت کر دیتے یا پھر وہ اپنے دوست الطاف حسین کو سمجھاتے کہ اُن کا فلسفہ بھی صحیح۔ اُن کی عوامی خدمات بھی صحیح، اُن کے غریب ایم این اے بھی صحیح، لیکن کیا وفاقی حکومت کی ”رٹ“ بھی اُن کے حوالے کر دی جائے؟ کیا فوج کا چارج بھی اُنہیں دے دیا جائے؟ کیونکہ سندھ کی پولیس کا تو ایم کیو ایم نے جو حشر کیا، اس میں ہر اس سپاہی، اے ایس آئی اور تھانیدار ہی کو نہیں، بلکہ بڑے افسروں ڈی ایس پی، ایس پی، ڈی آئی جی سب کو مار دیا گیا، جنہوں نے فوجداری کیسوں میں ایم کیو ایم کے کسی کارکن یا کارندے کو گرفتار کیا تھا۔

ایسے میں کون ہوگا جو صرف آپ کا ہی فلسفہ سنے گا۔ محض آپ پر ہی یقین کرے گا۔ یہ ایک عام سی بات تھی۔ آئی ایس آئی ہو یا انٹیلی جنس یا دنیا کی کوئی بھی خفیہ ایجنسی، کیا وہ تمام کی تمام غلط تھیں، غلط ہیں اور محض آپ ہر معاملے میں صحیح ہےں، آپ کا ہر فیصلہ صحیح ہے۔ آپ اگر گیارہ مئی کے کراچی پولنگ سٹیشنوں پر اپنے کارکنوں کی طرف سے پیدا کئے گئے حالات کا خود نوٹس لیں، خود چھان بین کریں تو کیا ضرورت تھی کہ ایک انگوٹھے کے ساتھ سینکڑوں بیلٹ پیپرز کے بیلٹ بکسوں میں بھرنے کی۔ اگر کسی ایجنسی یا پارٹی نے آپ کی جماعت کے ساتھ یہ سب سازش کی ہے تو آپ کو ایسے کسی الیکشن میں جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ آپ کے کارکن آپ کی ایک آواز پر تمام پولنگ سٹیشن سربمہر کر دیتے اور آپ اپنے لئے کراچی میں الیکشن کا الگ انتظام کراتے۔ الگ کوئی دن مقرر کراتے اورآرام و سکون کے ساتھ الیکشن ہو جاتا۔ آپ کی نہ تو کسی ایک نشست کو فرق پڑتا، نہ ہی آپ کاووٹ بینک کم ہوتا اور اگر دو چار سیٹیں کم ہو بھی جاتیں تو آپ کیوں نہیں سوچتے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔

آپ نے 26 برس میں اپنے تمام مخالفین کو کراچی سے نکالا۔ اب آپ دوسرے صوبوں میں بھی پہنچ گئے ہیں، لہٰذا دفع کریں اب ایسی سیاست کو جو ملتا ہے، اس پر اکتفا کریں اور امن و امان، افہام و تفہیم کی سیاست کو اپنائیں۔ آج دنیا اس قدر سکڑ گئی ہے اور چھوٹی ہوگئی ہے کہ اگر کل کلاں آپ کی پاکستان حکومت کو یہاں ضرورت پڑی تو حکومت آپ کو خود عزت و احترام سے یہاں لے آئے گی۔ آپ اگر کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کوئی بات کریں گے تو شاید منتخب حکومت اس سلسلے میں آپ کی مدد بھی کرے، کیونکہ سرائیکی صوبے، بہاولپور صوبے، ہزارہ صوبے کا مطالبہ کرنے والے بھی یہاں موجود ہیں، لہٰذا یہ تو ایسی کوئی بات نہیں، لیکن ایسے اقدام سے اپنے کارکنوں کو سختی سے منع کر دیں، جنہیں فوراً ہی قانون نادرا کی پکڑ میں لا سکتا ہے اور جس سے ایک اچھی بھلی بھرم والی ایم کیو ایم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 اگر آپ نواز شریف کو بھی آصف علی زرداری خیال کرتے ہیں تو یہ آپ کی بہت بڑی بھول ہوگی۔ آصف علی زرداری تو آپ کو 113 مرتبہ چھوڑنے پر بھی 5 برس میں روز منا کر لاتا تھا جبکہ پنجابیوں کی عادت ذرا مختلف ہے۔ کوئی اُن سے نظریں پھیرے تو پنجابی اپنا دل ہی ایسے لوگوں سے پھیر لیتا ہے۔

 خبردار رہنے کا تو خیر مَیں کسی کو بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، لیکن چونکہ مَیں خود ایک غریب صحافی کارکن ہوں، لہٰذا میری ہمدردیاں بھی کروڑوں غریبوں کے ساتھ ہیں۔الطاف حسین کا یہ کہنا کہ کوئی ان کے خلاف جلوس نہ نکالے، دھرنا نہ دے، جمہوری عمل کے منافی ہے۔ خود ایم کیو ایم 26 برس میں کتنی ریلیاں نکال چکی ہے۔ کتنے ہزار دھرنے دے چکی ہے، لہٰذا اب یہ کہنا کہ علیحدگی ہو جائے گی۔ کراچی الگ ملک بن جائے گا۔ میرے الطاف بھائی یہ کوششیں تو بھارت پہلے دن سے کر چکا ہے اور ناکام رہا ہے۔ امریکہ کو بھی سازش میں منہ کی کھانا پڑے گی۔ اس قسم کی الگ ملک کی خدانخواستہ باتیں کریں گے تو آپ کے کارکن خود کو آپ سے الگ کرنا شروع کر دیں گے، لہٰذا اس گیم سے الگ ہو جائیں۔ میاں نواز شریف کے ہوتے ہوئے ایسی کوئی خونریزی کراچی میں ممکن نہیں ہوگی۔ اگر وہ ایک مرتبہ پھر آصف نواز جنجوعہ مرحوم کور کمانڈر کراچی کو آواز دینے کے خواہش مند ہیں تو یہ ہرگز ہرگز سیاسی دانش مندی نہیں ہوگی، نہ ہی کوئی سیاست دان اس ضمن میں اُن کی مدد کو آئے گا۔ خواہ وہ آصف علی زرداری ہی کیوں نہ ہو۔ الطاف بھائی اپنے خلاف سازش نہ ہونے دیں۔   ٭

مزید : کالم


loading...