الیکشن2013ءجو بالآخر ہو کر رہے!

الیکشن2013ءجو بالآخر ہو کر رہے!
الیکشن2013ءجو بالآخر ہو کر رہے!

  


پوری قوم 2013ءکے انتخابات بخیر و خوبی ہوجانے پر خوش ہے۔ مسلم لیگ (ن) جو ان انتخابات میں بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے، اس نے تو باقاعدہ یوم تشکر بھی منایا۔ انتخابات کا انعقاد اور اس کے نتائج پوری قوم کی آرزو¿ں، اُمنگوں اور کوششوں کا نتیجہ ہیں اور پوری قوم اس پر مبارکباد کی مستحق ہے۔ امریکی جرنیل مارٹن ڈیمپسی نے خواہ مخواہ ان انتخابات کا کریڈٹ فوج اور پھر خاص طور پر فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دے کر پاکستانی فوج کو پاکستانی قوم سے الگ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔

ان انتخابات تک ہم کیسے پہنچے۔ اس کا جائزہ دلچسپ بھی ہوگا اور سبق آموز بھی۔ 2013ءکی طرح 2008ءمیں بھی انتخابی نتائج ہو بہو وہی برآمد نہیں ہوئے تھے جو کچھ طاقتوں کی خواہش تھی۔ میاں نواز شریف پہلے مرکزی حکومت میں شامل ہوئے اور بروقت محسوس کر لیا کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔ جن دنوں مسلم لیگ (ن) مرکزی حکومت سے الگ ہونے کا سوچ رہی تھی، بہت سے دانشوروں کا خیال تھا کہ یہ بے حد مشکل ہے اور اس کوشش میں مسلم لیگ (ن) ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی کیونکہ وزارتوں پر لات مارنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ وزیر بن جانے والے مسلم لیگی وزارتیں چھوڑنے کی بجائے جماعت سے الگ ہونے کو ترجیح دیں گے۔ پھر مسلم لیگی وزراءمستعفی ہوگئے اور کوئی طوفان نہیں آیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ مسلم لیگ (ن) واقعی ایک سیاسی جماعت بن چکی ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے بطور حزبِ اختلاف ماضی سے مختلف کردار اپنایا تو اُسے فرینڈلی اپوزیشن کا نام دیا گیا، اُسے طعنے دئیے گئے۔ کچھ لوگوں نے اسے ”باری“ مقرر کرنے کا نام دیا، کچھ نے اسے ”مُک مکا“ کہا، بار بار کوشش کی گئی کہ حزب اختلاف کو اشتعال دلا کہ اُسے اُس راہ پر ڈال دیا جائے جو ماضی میں ”ون پوائنٹ ایجنڈا“ حکومت ختم کرو کے طور پر مقبول رہا ہے۔ ایسے مواقع بھی پیدا ہوئے یا پیدا کئے گئے کہ اگر نواز شریف یہ دانہ چُگ لیتے تو حکومت کا بستر گول ہو جاتا، لیکن اُس کے بعد کیا ہوتا۔ یہ کسی کو شاید معلوم نہیں ہے۔ جب حزب اختلاف کو اُکسانے بھڑکانے سے کام نہ چلا تو یہ تاثر دیا جانے لگا کہ قوم جمہوریت اور انتخابات سے مایوس ہو چکی ہے۔ قوم کو سیاست دانوں سے کوئی دلچسپی ہے نہ آنے والے انتخابات سے، قوم سارے سیاست دانوں کو یکساں بُرا اور قابلِ نفرت سمجھتی ہے۔ قوم جانتی ہے کہ انتخابات ہونے سے بھی اُس کی مصیبتیں ختم نہیں ہوں گی۔ کچھ دانشور کچھ کالم نگار بار بار یہ راگ الاپنے لگے کہ غریب آدمی کو روزی روٹی، بجلی اور روزگار چاہئے۔ اُسے انتخابات، آئین اور جمہوریت وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، نہ ہی اُسے انتخابات سے کوئی غرض ہے۔

اس خود ساختہ مفروضے کو بنیاد بنا کر تجویز پیش کی گئی کہ انتخابات وغیرہ کے جھنجھٹ میں پڑنے کی بجائے ٹیکنو کریٹس کی ایک حکومت قائم کی جائے جو بگڑے ہوئے معاملات کو سدھارے اور جب دو تین سال بعد ملک کے معاملات سُدھر جائیں تو پھر دیکھا جائے کہ کیا ہونا چاہئے۔ کچھ لوگوں نے اس کے لئے بنگلہ دیش ماڈل کو رول ماڈل بنایا۔ اس کے لئے بڑی بڑی مثالیں دی گئیں۔ گند صاف کرنے پر زور دیا گیا۔گند کے اوپر مصلیٰ بچھانے اور کُتا نکالے بغیر کنوئیں کا پانی پاک کرنے کی پھبتیاں کَسی گئیں۔ مقصد یہ تھا کہ جمہوریت کو جمہوری راستے سے کسی طرح ہٹا دیا جائے۔ بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی، بلکہ کارنامے ایسے تھے کہ اُنہیں دیکھتے ہوئے مندرجہ بالا بزر جمہروں کے دلائل بعض اوقات حقیقت سے نزدیک تر لگتے تھے۔

سپریم کورٹ کو بھی جی بھر کر اشتعال دلایا گیا، لیکن سپریم کورٹ اور نواز شریف مشتعل نہیں ہوئے۔ سپریم کورٹ نے بعض مواقع پر خاموشی اختیار کر کے اپنے پُرجوش حامیوں کو مایوس کیا، لیکن تدبر کا طرزِ عمل نہ چھوڑا اور بار بار اعلان کیا کہ سپریم کورٹ کسی غیر جمہوری عمل کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ میاں نواز شریف نے اپنے عمل اور اعلانات سے اس کی تصدیق کی کہ وہ حکومت کو کسی غیر جمہوری طریقے سے ہٹانے کے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، بلکہ اس کی بھرپور مخالفت ہی کریں گے۔ آج غور کریں کہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہ کر پاتی تو کیا اس الیکشن میں وہی نتائج نظر آتے جو اس وقت نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان کے تمام نجومیوں نے کم و بیش متفقہ طور پر کہہ دیا کہ 2013ءمیں الیکشن نہیں ہو سکیں گے، اگر الیکشن کرانے کی کوشش کی گئی تو بہت خون ریزی ہوگی اور کچھ بڑے بڑے سیاست دانوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگا۔ یہ پیش گوئیاں اخبارات میں بھی شائع ہو چکی ہیں اور 2013ءکی جنتریوں میں بھی موجود ہیں۔ الیکشن سر پر آگئے تو الیکشن کو ملتوی کرانے کے حیلے بہانے شروع ہوگئے۔ کچھ لوگ علی الاعلان اور واضح طور پر الیکشن کو سال دو سال کے لئے ملتوی کرنے کی بات کرتے تھے اور کچھ بالواسطہ طور پر التواءکے حامیوں کے خدشات، الزامات اور تحفظات کواُچھالنے اور اُجالنے سے اس خیال کو تقویت پہنچاتے تھے۔

جانے پس پردہ کس کس کی خواہش تھی، لیکن حکومت اور حکومت کی اتحادی جماعتوں نے ”دساور“ سے منگوائے ہوئے شیخ الاسلام کی جیسے پذیرائی کی اور جس طرح اُس سے معاہدے کئے، اس سے صاف ظاہر تھا کہ حکومت اور حکومت کے اتحادی بھی الیکشن کے التواءکی خواہش میں شامل ہیں۔ الیکشن کے التواءکی ان برہنہ کوششوں کے علاوہ بھی کچھ کوششیں جاری تھیں۔ تحریک انصاف کو زبردست بڑھاوا دیا گیا۔ اُسے مسلم لیگ (ن) کے لئے ہواّ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اُس کے جلسے جلوسوں کو مدد فراہم کی گئی اور پھر اس کی خوب تشہیر کی گئی۔ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی گویا الیکشن ہوئے تو مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ عمران خان برسراقتدار جماعت اور حکومت کی خامیوں، کمزوریوں کو نشانہ بنانے کی بجائے حزب اختلاف کی ایک جماعت مسلم لیگ (ن) اور اُس کے رہنماو¿ں کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑ گئے۔ اگر نواز شریف اس ماحول سے خوف زدہ ہو کر انتخابات کے التواءپر راضی ہو جاتے تو التواءکے لئے کوشاں طاقتوں کے من کی مراد پوری ہو جاتی، لیکن ہُوا یہ کہ سپریم کورٹ نے شیخ الاسلام کی انتخابات ملتوی کرنے کی رٹ پٹیشن خارج کر دی اور نواز شریف نے التوا کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے تمام سیاسی جاعتوں کو لاہور میں جمع کر کے التوا کے خواہش مندوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو عمران خان، شیخ الاسلام کی بیعت کرنے کو بے قرار تھے۔ متحدہ بھی شیخ الاسلام کی حمایت میں بیانات دے رہی تھی اور مناسب وقت پر اس التوا تحریک سے ملنے کے لئے تیار بیھٹی تھی۔ مسلم لیگ (ق)، شیخ الاسلام کے فرمودات کو حق سچ ہونے کی سند بھی جاری کر چکی تھی اور اُس کی کوششوں سے شیخ الاسلام کو اتنی اہمیت دی گئی کہ پی پی پی کے وزراءشیخ الاسلام کے کنٹینر دربار میں حاضر ہوگئے اور پھر معاہدے طے پا گئے اور معاہدوں پر عمل درآمد کے لئے اجلاس بھی ہونے لگے۔ گویا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) بھی دل سے الیکشن کے التوا کی خواہش مند تھیں، لیکن اس کے لئے دوسرے حالات یا دوسروں کو جواز بنا کر اس مقصد کو حاصل کرنا چاہتی تھی۔ دونوں بالواسطہ التوا کے لئے ماحول ساز گار بنانے کے لئے تمام تر کوششیں کر رہی تھیں۔

ہنگ پارلیمینٹ کی پیش گوئی بھی مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف کو عمران خان فیکٹر سے خوف زدہ کرنے کی ایک کوشش تھی۔ ظاہر ہے ہنگ پارلیمینٹ کا نقصان سب سے زیادہ مسلم لیگ (ن) کو اُٹھانا پڑتا اور کون ہے جو جان پر کھیل کر انتخابات کا خطرہ مول لیتا اور انعام میں ہنگ پارلیمینٹ لے کر بیٹھ جاتا، لیکن نواز شریف بہت باریک بینی سے سارے ماحول کو جانچ رہے تھے۔ وہ انتخابات بروقت کرانے کے مطالبے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے اور پھر انتخابات ہو کر رہے اور قوم انتخابات سے الگ تھلگ ہو کر بیٹھی نہ لا تعلق رہی۔ پوری قوم نے پورے جوش و خروش سے انتخابات میں حصہ لیا اور 54 فی صد کے ٹرن آو¿ٹ نے ثابت کر دیا کہ عوام سیاست سے بے زار نہیں ہیں۔ یہ بات بھی غلط ثابت ہوگئی کہ ٹرن آو¿ٹ میں اضافے کا فائدہ سارے کا سارا عمران خان کی جھولی میں جا پڑے گا۔ یوتھ فیکٹر پر پہلے شاید مسلم لیگ (ن) نے عمران خان کی وجہ سے توجہ دی لیکن الیکشن میں یوتھ ووٹ میں مسلم لیگ (ن) کو تحریک انصاف پر 10 فیصد برتری حاصل رہی۔

الیکشن سے جان چھڑانے کے لئے طالبان کا ہواّ بھی کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ معلوم نہیں یہ طالبان کے پیغامات کہاں سے جاری ہوتے ہیں، لیکن ایک بیان جاری ہوا کہ انتخابات اور جمہوریت غیر اسلامی ہیں اور طالبان انتخابات میں خودکش حملے کریں گے۔ نگران حکومت کے ذمہ داروں نے انتخابات میں پُرجوش حصہ لینے والے سیاسی رہنماو¿ں کو جان کے خطرات لاحق ہونے کا شور بھی مچایا۔ جب اس کے باوجود الیکشن کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی تو اسی ترکیب کو اُلٹ کر بھی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ طالبان کی طرف سے اب ایک نیا پیغام آیا کہ وہ فلاں فلاں جماعتوں پر حملے نہیں کریں گے، تاکہ اس طرح کچھ جماعتوں کو طالبان کا ساتھی قرار دے کر امریکہ وغیرہ کو یہ پیغام دیا جائے کہ انتخابات کے نتیجے میں طالبان کے ہمدرد برسرِ اقتدار آنے والے ہیں۔ اس لئے اگر کچھ ہو سکتا ہے تو اب آپ ہی کچھ کر کے دیکھ لیں۔ ہم نے تو ہر چارہ آزما کر دیکھ لیا۔ لیکن جو لوگ امریکہ کوجانتے ہیں وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ ایک حد تک اپنے ”پیاروں“ کو لانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اگر اس میں اسے کامیابی نظر نہ آئے تو مخالفین کو پیارے بنانے پر لگ جاتا ہے۔ مصر میں یہی ہوا۔ ایران میں بہت پہلے ہی ہو چکا تھا اور یقین مانیں کہ اگر امریکہ کے افغانستان سے نکلنے کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت آگئی تو امریکہ اُن سے بھی ہاتھ ملا لے گا۔ امریکہ، طالبان سے آخر کیوں مذاکرات کرتا رہتا ہے اور کرزئی کی نیندیں کیوں اُڑی رہتی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر الیکشن کے دوران طالبان نے کوئی کارروائی نہیں کی،لیکن اب کچھ لوگ یہ باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ قوم نے طالبان کے خلاف بے خوفی کا مظاہرہ کر کے بڑی جرا¿ت مندی کا ثبوت دیا اور یہ انتخابات طالبان کے خلاف کسی فتح کی علامت کے طور پر اہمیت رکھتے ہیں۔

الیکشن کرانے کے لئے الیکشن کمیشن کے قیام اور عبوری حکومتوں کے قیام میں بھی اس طرح کا بندوبست کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر کی حد تک تو مسلم لیگ (ن) نے اپنی بات تسلیم کرالی، لیکن اس کے بعد الیکشن کمیشن کو جس طرح دباو¿ میں لیا گیا اور جس طرح نگران حکومتیں، پی پی پی حکومت کے دوسرے جنم کی صورت میں ظاہر ہوئیں، وہ سب کچھ ایسا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو الیکشن کے بائیکاٹ پر مجبور کر دیا جائے۔ پیپلز پارٹی بظاہر الیکشن سے لا تعلق ہو کر بیٹھ گئی، لیکن کراچی میں ایم کیو ایم کے بارے میں سابقہ تجربات کی روشنی میں دوسری جماعتوں نے جو مطالبے کئے، اُن میں سے کسی ایک کو بھی پذیرائی نہ مل سکی۔ دوسری جماعتوں کو اس سلسلے میں جو تحفظات تھے۔ انہیں دور کرنے کی کوشش بھی کی گئی، تو نیم دلی سے محض دکھاوے کے لئے جس وقت کراچی کے سلسلے میں دوسری تمام جماعتیں چیخ، چلا رہی تھیں۔ اس وقت تحریک انصاف نے کوئی احتجاج نہیں کیا، اب جبکہ کراچی میں تمام جماعتیں عملی احتجاج کررہی ہیں تو تحریک انصاف بھی اُن کے ساتھ شامل ہے، لیکن کراچی میں دھاندلی کے نام پر ہونے والے احتجاج کو برابر کرنے کے لئے وہ پنجاب میں بھی دھرنے دئیے بیھٹی ہے۔ اگرچہ اب تک جو شواہد سامنے آئے ہیں۔ اُن کے مطابق کراچی اور پنجاب میں کوئی مماثلت ڈھونڈتے سے بھی نہیں ملتی۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی فرمائش پر الیکشن کا عملہ بھی تبدیل کیا گیا۔ صرف پنجاب میں ہی اوپر سے نیچے تک افسر شاہی کو بھی اتھل پتھل کر دیا گیا۔ وہاڑی میں دوبارہ گنتی سے بھی تحریک کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔

 کراچی میں اب بھی ساری جماعتوں کے مشترکہ مطالبات کو نظر انداز کر کے محض ایک حلقے میں دوبارہ انتخابات کرائے جا رہے ہیں، لیکن تحریک انصاف کا سارا زور پنجاب میں ہونے والی دھاندلی پر ہے حالانکہ اگر پنجاب میں وہ چند سیٹیں مزید لے بھی لے تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، تو کیا الیکشن ملتوی نہ کرا سکنے کا دُکھ نکالنے کا کوئی طریقہ ہے؟ آخر کیا وجہ تھی کہ کراچی میں الیکشن کو قابلِ قبول بنانے کے اقدامات سے روگردانی کی گئی اور عین انتخابات کے دوران جو واقعات رونما ہوئے، مثلاً دو بجے تک الیکشن کا عمل شروع نہ ہونا، ووٹنگ شروع ہونے کے بعد بلٹ ٹرین کی رفتار سے بیلٹ ٹرین چلا دینا۔ جعلی ووٹ ڈلوانے والوں کا باقاعدہ سازو سامان کے ساتھ پکڑا جانا اور اس پر جماعت اسلامی اور چند دوسری جماعتوں کا بَر وقت احتجاج آخر کیوں نظر انداز کر دیا گیا۔ کیا اس الزام میں واقعی کوئی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کا ایک ایسا ٹول (TOOL) ہے، جسے کسی بھی وقت استعمال میں لایا جاسکتا ہے اور اگر الیکشن کے التواءاور ہنگ پارلیمینٹ لانے کے خواب شرمندہ بعیر نہ ہو سکے تو اب ایم کیو ایم کو استعمال کر کے پلان بی پر عمل درآمد کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

یاد رہے ”پلان بی“ سے دودھ میں حصہ تو نہیں ملتا، لیکن دودھ میں مکھی ضرور ڈالی جاسکتی ہے۔ قوم نے جس جوش و خروش سے الیکشن میں حصہ لیا۔ اسی جوش و خروش سے بلکہ ہوش و حواس سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے:

چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے

عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں

مزید : کالم


loading...