اگر ٹرائل نہ ہوا تو........

اگر ٹرائل نہ ہوا تو........
اگر ٹرائل نہ ہوا تو........

  


مسلم لیگ(ن) کے سربراہ اور متوقع وزیراعظم میاں نواز شریف کی آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ہونے والی ملاقات سے تجزیہ نگار اپنی اپنی فہم کے مطابق معانی و مطالیب اخذ کر رہے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ طاقت کے دو مراکز یعنی اسٹیبلشمنٹ اور مقننہ کے رہنماﺅں کے درمیان مفاہمت اور خیر سگالی کے جذبات کو لئے ہوئے معمول کی ملاقات تھی، جبکہ مجھ جیسے لوگوں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی شدید خواہش ہے کہ افواج پاکستان کے سابق سربراہ جنرل(ر) پرویز مشرف کو ایک بار پھر ملک سے بحفاظت نکال کر دیار غیر میں بھیجنے کا بندوبست کیا جائے اور افواج پاکستان کے موجودہ سربراہ نے اپنے پیشرو سے متعلق یہی پیغام ملک کے آئندہ وزیراعظم کے گوش گزار کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حامی قلم کاروں کی اکثریت اس وقت انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں کا نوحہ لکھنے میں مصروف ہے ان میں سے بعض تو ببانگ دہل یہ اعلان فرما رہے ہیں کہ انہیں پانچ سال کا انتظار منظور نہیں، اِس لئے ابھی کوئی راہ نکالی جائے، حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یورپی یونین کے مبصر مشن برائے انتخابات(جنہوں نے 11مئی کو ہونے والے انتخابات کو مانیٹر کیا) نے اس بات کی توثیق کر دی ہے کہ ملک میں ہونے والے انتخابات بحیثیت مجموعی تسلی بخش رہے اور انہوں نے انتخابات کو100میں سے 90 نمبر دے کر ان کی شفافیت پر مہر ثبت کر دی، لیکن اس کے باوجود میڈیا کا ایک خاص طبقہ دھاندلی کی کا راگ اس لئے الاپ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے خاص مقاصد کے حصول کی خاطر نئی حکومت کی تشکیل سے قبل ہی اس پر اپنا دباﺅ برقرار رکھنے کی خواہش کو پورا کر سکے۔

دوسری جانب انتخابات میں ہارون آباد کے حلقے این اے190سے اپنی پارٹی کے لئے قومی اسمبلی کی واحد نشست جینے والے مسلم لیگ(ضیا) کے سربراہ محمد اعجاز الحق جو اسٹیبلشمنٹ کے خاصے قریب سمجھے جاتے ہیں، کا دعویٰ ہے کہ سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف میاں نواز شریف کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے سے قبل ہی ملک سے کوچ کر جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ملک کے اعلیٰ عسکری حلقے مسلم لیگ(ن) کی انتخابات میں کامیابی کے ساتھ ہی اس بات پر غور کرنے لگے تھے کہ افواج پاکستان کے سابق سربراہ کو ملک سے نکالنے کے لئے کیا حکمت عملی اپنائی جائے۔

مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے حالیہ دنوں میں( انتخابی نتائج آنے کے بعد) ایک بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کارگل کے معاملے پر انکوائری کمیشن بنائیں گے اور اس حوالے سے حقائق کے منظر عام پر آنے کے بعد اس میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز ہو گا، لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں میاں نواز شریف کا یہ دعویٰ درست دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ کارگل کا سارا معاملہ جس ذات شریف کے گرد گھومتا ہے وہ سابق آمر جنرل (ر) پرویز مشرف ہیں اور اگر انہیں ہی باہر کر یا گیا تو پھر باقی کیا رہ جائے گا؟

مسلم لیگ(ن) کے حامی قلم کاروں نے ان دنوں میں جبکہ جنرل(ر) پرویز مشرف نے وطن واپسی کا اعلان کیا تھا ان کے خلاف ایک بھرپور مہم چلاتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اگر وہ (جنرل پرویز مشرف) وطن واپس آئے تو ان کے خلاف غداری کا مقدمہ تو چلے گا ہی ساتھ ساتھ ان کے دیگر جرائم کو بھی ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مسلم لیگ(ن) ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی متمنی ہے۔ آﺅ تو سہی.... جناب عرفان صدیقی کا جنرل (ر) پرویز مشرف کی پاکستان آمد سے قبل کا کالم ہے، جس میں انہوں نے سابق آمر کو دو بار آئین توڑنے، اکبر بگٹی کی شہادت، لال مسجد و جامع حفصہ میں ہزاروں معصوم بچیوں کے قتل عام، عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کے علاوہ لاتعداد دیگر جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ مسلم لیگ(ن) سابق آمر کے خلاف کارروائی (اگر اسے موقع ملا) میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لے گی، مجھ جیسے عامی کو بھی یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ 2013ءکے انتخابات سے قبل میاں نواز شریف کے حامی قلم کاروں نے انہیں اسٹیبلشمنٹ مخالف سب سے بڑا رہنما بنا کر پیش کیا اور ان کے مخالفین کو اسٹیبلشمنٹ کا حمایت یافتہ قرار دیا، خود میاں نواز شریف نے اپنے انتخابی جلسوں میں اس مو¿قف کا بارہا اعادہ کیا کہ ان کے سیاسی مخالفین، یعنی پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور یہ ٹرائیکا آپس میں ملا ہوا ہے۔ انہوں نے بارہا کہا کہ مسلم لیگ (ن) تنہا اسٹیبلشمنٹ مخالف قوت ہے اور اس کے سوا کسی اور سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کا مطلب صدر آصف علی زرداری کی بالواسطہ حمایت ہوگی۔

اب جبکہ مسلم لیگ(ن) مرکز میں حکومت سازی کے لئے سادہ اکثریت کے حصول میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب میں دوتہائی اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کے قابل ہونے کے علاوہ بلوچستان اسمبلی میں بھی ایک بڑی پارلیمانی قوت بن چکی اور قوی امکان ہے کہ یہ بلوچستان میں بھی مخلوط حکومت کے قیام میں کامیاب ہو جائے گی۔ بلوچستان میں وزارت اعلیٰ کے لئے مسلم لیگ(ن) نے ثنا اللہ زہری کو نامزد کر دیا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بھی اسے اتنا مینڈیٹ ضرور دیا ہے کہ وہ صوبے میں موثر اپوزیشن کا کردار ادا کر سکے تو ایسے میں مسلم لیگ(ن) کو عوام سے کئے گئے وعدوں کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ ملکی و بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اس بات کی خواہاں ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی امریکہ کے لئے خدمات کے صلے میں انہیں ان کے خلاف مقدمات سے صرف نظر کرتے ہوئے ملک سے بحفاظت نکل جانے کا موقع فراہم کیا جائے، لیکن دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے دسیوں نہیں سینکڑوں بار 12اکتوبر 1999ءسے اب تک یہ مو¿قف اختیار کیا کہ ملک کے دگرگوں حالات، دہشت گردی، خراب معیشت، مہنگائی، غربت ، بیروزگاری اور اداروں کے درمیان عدم اعتماد کی بنیادی وجہ سابق صدر ہیں، احتساب سب کے لئے یہی وہ نعرہ ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ملک کے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں نواز شریف ، پرویز مشرف کا احتساب کرنے کا وعدہ پورا کرتے ہیں یا یہ بھی اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتہ کر لیں گے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کا معاملہ میاں نواز شریف کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔    ٭

مزید : کالم


loading...