” پی پی پی کے نوحے“

” پی پی پی کے نوحے“
” پی پی پی کے نوحے“

  


سندھ میں پی پی پی کے نوحے کار گر ثابت ہوئے۔ پارٹی قیادت کو چاہئے کہ وہ نامور صحافی، کالم نگار اور شاعر سید عباس اطہر مرحوم کی قبر پر حاضر ہو کر اُن کے درجات کی بلندی کی دُعا کرے اور بھٹوز کے ساتھ ساتھ سید عباس اطہر کی برسی بھی جماعتی سطح پر منانے کا اہتمام کرے۔ بلاشبہ سید عباس اطہر نے بھٹوز کے جو نوحے لکھے، ان میں بہت جان تھی۔ انہوں نے بھٹوز کی محبت میں ایسے نوحے لکھے کہ سندھ کے دیہی علاقوںمیں پیپلزپارٹی کے کارکن کو باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے۔ پی پی پی کے میڈیا سیل نے اُن کے نوحوں کو مختلف چینلوں کے ذریعے گھر گھر پہنچایا، لیکن دیگر صوبوں کے عوام اور پی پی پی کے کارکنوں نے ان نوحوں سے کوئی اثر قبول نہیں کیا۔ سندھ کے شہری حلقوں میں ایم کیو ایم والے الطاف بھائی کے گیتوں پر جھومتے رہے۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے ترانے بھی کراچی کے شہریوں کی زبان پر تھے اور امید یہی تھی کہ جہاں ایم کیو ایم کا گیت گایا جائے گا، وہاں ان جماعتوں کے ترانے بھی اپنا کام دکھائیں گے، مگر ایم کیو ایم والوں نے جب محسوس کیا کہ الطاف بھائی کا گیت اپنی کشش کھو رہا ہے، تو انہوں نے اپنی روایتی سیاست کے ذریعے مخالف حریفوں کو دبانا شروع کر دیا۔

 جماعت اسلامی جو کراچی میں ایم کیو ایم کی حقیقی حریف ہے، اُس نے الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے میدان خالی چھوڑ دیا، البتہ تحریک انصاف، اے این پی اور مسلم لیگ (ن) اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ میدان میں ڈٹی رہیں اور ابھی تک ڈٹی ہوئی ہیں۔ کراچی کے عوام ان جماعتوں کا ساتھ دے رہے ہیں، سیاسی آزادی کی اس سیاسی جنگ میں آگے جا کر مزید تیزی آئے گی، تادم تحریر سندھ کے دیہی علاقوں میں پی پی پی اور شہری علاقوں میں ایم کیو ایم نے برتری حاصل کر لی ہے۔ اُدھر خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے میدان مار لیا ہے۔ میاں نواز شریف نے بھی تحریک انصاف کے مینڈیٹ کے احترام کی بات کرتے ہوئے عمران خان کے حق کو تسلیم کیا ہے۔ انتخابات کے دوران مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان زبردست سیاسی جنگ لڑی گئی۔ عمران خان نے تقریباً ہر جلسے میں میاں نواز شریف پر سخت تنقید کی، الیکشن کے دوران دونوں جماعتوں کے درمیان بیان بازی سے اندازہ ہوتا تھا کہ سیاسی مخالفت کہیں ذاتی مخالفت میں نہ بدل جائے، مگر اس دوران تحریک انصاف کے رہنما عمران خان جلسے کے دوران گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے فوری بعد مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف نے نہ صرف راولپنڈی کے جلسے سے اپنے خطاب کو مختصر کر دیا، بلکہ اعلان کیا کہ مسلم لیگ(ن) ایک روز کے لئے اپنی سیاسی انتخابی مہم روک دے گی۔

 میاں نواز شریف کے اعلان نے ثابت کیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ سیاسی جنگ کو ذاتی جنگ میں نہیں بدلنا چاہتے۔ انہوں نے اسی روز اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کو عمران خان کی عیادت کے لئے ہسپتال بھی بھیجا، پھر خود بھی عمران خان کی عیادت کی۔ عمران خان نے بھی میاں نواز شریف کے لئے اچھے لفظوں کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان اس عیادتی ملاقات کو پاکستان کے عوام نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں مل کر پاکستان کے حالات کو بدل سکتے ہیں۔ عمران خان نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ اخباری سطح پر نہیں، خود میاں نواز شریف کو مبارک باد دیں گے۔ انہوں نے گزشتہ روز بھی یہی الفاظ دہرائے، جس پر میاں نواز شریف نے ان سے کہا کہ وہ ایک بار پھر عمران خان کے پاس آئیں گے۔

مبارک باد تو الطاف بھائی نے بھی میاں نواز شریف کو دی ہے، مگر اس مبارک باد کے پیغام میں شرارت بھی موجود ہے۔ الطاف بھائی نے میاں نواز شریف کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام نے پنجابی لیڈر کو کامیاب کرایا ہے، یعنی اُن کی نظر میں مسلم لیگ(ن) اور میاں نواز شریف پنجابی لیڈر ہیں، حالانکہ حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے پورے پاکستان میں اپنے وجود کو ثابت کیا ہے۔ میاں نواز شریف نے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ میں بھی کامیابی حاصل کی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب اور مرکز میں اپنی حکومت کی بات ضرور کی ہے، مگر دیگر صوبوں میں جہاں دوسری جماعتوں کی نشستیںزیادہ ہیں، وہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی بات نہیں کی، حالانکہ خیبر پختونخوا میں مولانا فضل الرحمن میاں نواز شریف سے حکومت بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر میاں نواز شریف عمران خان کے حق کو تسلیم کرنے کی بات کر رہے ہیں اور امید ہے کہ میاں نواز شریف خیبرپختونخوا میں عمران خان کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

 اِدھر پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت بغیر کسی سہارے کے بننے جا رہی ہے۔ مرکز میں میاں نواز شریف کی خواہش ہے کہ دیگر صوبوں سے بھی اتحادی بنائے جائیں تاکہ ایک قومی حکومت بنائی جا سکے۔ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد بھی میاں نواز شریف بہت مطمئن ہیں، وزیراعظم کے منصب کو وہ اب شائد اتنی اہمیت نہیں دیتے، جتنی اہمیت وہ پاکستان کو دے رہے ہیں، ان کے الفاظ اور باڈی لینگوئج سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اب پہلے والے میاں نواز شریف نہیں ہیں، وہ ایک نئے میاں نواز شریف کے روپ میں پاکستان کے عوام کے لئے واقعی کچھ کرنے کے موڈ میں نظر آتے ہیں۔ وہ پاکستان کے مسائل کے حل اور عام آدمی کی خوشیوں کے لئے کیا کرتے ہیں، اِس کا اندازہ آنے والے دِنوں میں ہو گا، البتہ میاں نواز شریف کو بین الاقوامی سطح پر جس انداز سے خوش آمدید کیا جا رہا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے مفادات کو فائدہ پہنچانے کی پوزیشن میں ہیں۔ امریکی صدرباراک اوباما نے جس انداز میں میاں نواز شریف سے جلد از جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے، امید یہی ہے کہ دونوں رہنماﺅں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی کوئی اچھی خبر آ سکتی ہے اور اگر میاں نواز شریف ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکہ کو قائل کر لیتے ہیں تو عمران خان کا ایک مطالبہ تو پورا ہو جائے گا۔

 خیر یہ تو آنے والے دِنوں میں ہی پتہ چلے گا کہ کیا ہوتا ہے، مگر میرے میانوالی میں تبدیلی آ چکی ہے۔ مَیں نے اپنے گزشتہ کالم میں پیشین گوئی کی تھی کہ عمران خان میانوالی سے کامیاب ہو جائیں گے۔ عمران خان میانوالی سے مکمل طور پر کامیاب ہوئے ہیں۔ طویل عرصے بعد روکھڑی گروپ سیاسی منظر سے غائب ہو گیا ہے۔ میانوالی کی سیاسی تاریخ میں دوسری بار ایسا ہوا ہے کہ روکھڑی گروپ کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پہلی بار1985ءمیں ڈاکٹر شیر افگن مرحوم کے عوامی محاذ نے روکھڑی اور کالا باغ کے سیاسی بُت پاش پاش کر دیئے تھے۔ اب1985ءکے بعد عمران خان کی قیادت میں روکھڑی گروپ کی سیاست کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ میانوالی کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ 1985ءمیں جب میرے دوست ڈاکٹر شیر افگن قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تو انہوں نے اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کیا۔ جنرل ضیاءالحق کے خلاف انہوں نے زبردست تقریریں کیں ، پھر اسمبلی کی سیٹ سے محروم کر دیئے گئے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ڈاکٹر شیر افگن (مرحوم) کے بیٹے برادرم امجد علی خان کو میانوالی کے عوام نے بہت بھاری ووٹوں سے منتخب کیا ہے۔ امجد علی خان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انہیں بھی اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے گا، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے مرحوم والد ڈاکٹر شیر افگن کی طرح آئین اور قانون کے نکات اُٹھائیں گے۔

 امجد علی خان کو بہرحال پارلیمنٹ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ میانوالی کے عوام پارلیمنٹ میں ”خاموش رکن“ کو پسند نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کا ایم این اے یا ایم پی اے اپنی موجودگی کا احساس دلائے۔ امجد علی خان کو ابھی سے اپنی تیاری کر لینی چاہئے۔ ادھر تحریک انصاف کو بھی ایک بار پھر میانوالی کے حوالے سے نئے امتحان سے گزرنا پڑے گا۔ تحریک کے چیئرمین عمران خان، میانوالی، پشاور اور راولپنڈی سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ وہ میانوالی کی سیٹ چھوڑ دیں گے، ویسے بھی اگر خیبرپختونخوا میں اُن کی حکومت بنتی ہے تو پھر انہیں پشاور کی سیٹ اپنے پاس رکھنی چاہئے۔ پنڈی کی سیٹ پر وہ کس کو لاتے ہیں، اس کے بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ البتہ میانوالی میں ایک افواہ یہ بھی ہے کہ اگر انہوں نے میانوالی کی سیٹ چھوڑ دی تو وہاں سے معروف لوک گلوکار عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی بھی تحریک انصاف کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی نے انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کی زبردست سپورٹ کی تھی۔ وہ اپنے ریکارڈ شدہ ترانے جب کسی بھی جلسے میں سناتے، ہزاروں لوگ دیوانہ وار جھومتے نظر آتے اور عمران خان جھومتے ہوئے عوام کو دیکھ کر نہ صرف خوش ہوتے، بلکہ عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کے ترانے پر خود بھی تالیاں بجاتے نظر آتے تھے۔      ٭

مزید : کالم


loading...