نواز شریف سے آرمی چیف جنرل کیانی کی ملاقات

نواز شریف سے آرمی چیف جنرل کیانی کی ملاقات

مسلم لیگ کے صدر میاں نواز شریف سے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے لاہور میں سابق وزیر اعلی شہباز شریف کی رہائش پر ملاقات کی، اس موقع پر محمد شہباز شریف اوراسحق ڈار بھی موجود تھے- باخبر ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں قومی سلامتی سے متعلق امور پرتفصیلی بات چیت ہوئی- چار گھنٹے جاری رہنے والی اس بات چیت میں سرحدوں کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جنگ، طالبان سے مذاکرات اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے مستقبل سے متعلق غور و خوض کیا گیا- جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میاں نواز شریف کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور جمہوریت کے فروغ کے لئے اپنی مکمل حمایت اور ہر طرح کی مدد کا یقین دلایا- آرمی چیف کسی پروٹوکول کے بغیر پرائیویٹ کار میں اس ملاقات کے لئے آئے- آرمی چیف نے آئندہ ماہ کے اوائل میں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھانے والے میاں نواز شریف کو سیکورٹی خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ، امریکہ، بھارت،افغانستان سے تعلقات ، طالبان سے مذاکرات کے متعلق فوجی قیادت کے موقف سے آگاہ اور اس حوالے سے جاری پالیسیوں پر بریف کیا- میاں نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ اس سلسلے میں فوج کے ساتھ مل کر پالیسی طے کی جائے گی- ملکی سا  لمیت اورخود مختاری کے سلسلے میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا- خوشگوار ماحول میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے اکٹھے کھانا بھی کھایا-میاں نواز شریف نے آرمی چیف کو اپنا قومی چارٹر پیش کیا ،اور عام انتخابات میں فوج کی طرف سے فراہم کی گئی سکیورٹی اور تعاون کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا-

مبصرین کی طرف سے آرمی چیف اور میاں نواز شریف کے درمیان اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جارہاہے- نئے آنے والے وزیر اعظم کو آرمی چیف کی طرف سے بریف کرنا ایک معمول کی بات ہے- لیکن یہ ملاقات مختلف اطراف سے آرمی اور مسلم لیگی قیادت میں اختلافات کے سلسلے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں کے پیش نظر زیادہ اہم تھی- جس طرح آرمی چیف کسی پروٹوکول کے بغیر پہنچے اس سے بھی دونوں طرف پہلے سے موجود اچھے تعلقات کا علم ہوتا ہے- خوشگوار ماحول میں تمام اہم قومی معاملات پر بات چیت کے دوران اس پر بھی اتفاق کیا گیا کہ حکومت سیکورٹی اور قومی سلامتی سے متعلق تمام اہم معاملات میں آرمی کو اعتماد میںلے کر آگے بڑھے گی-

سیاسی حکومت او ر آرمی کے درمیان اتفاق رائے ہونا اور باہم صلاح مشورے سے قومی سلامتی کے امور طے کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ساری دنیا میں قومی سلامتی کی سب سے زیادہ ذمہ دار مسلح افواج ہی ہوتی ہیں اور متعلقہ امور میں ان سے مشاورت ضروری سمجھی جاتی ہے- لیکن ہمارے ہاں ماضی میں بعض فوجی سربراہوں کے کردار، بار بار مارشل لاءکے نفاذاور بالخصوص میاں نواز شریف اور سابق آرمی سربراہ کے درمیان معاملات ایسے تھے ، جن کی بناءپر عام لوگ اب تک میاں نواز شریف اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کے صحیح یا غلط خدشات محسوس کررہے تھے، جن کے اس تفصیلی ملاقات کے بعددور ہوجانے کو قومی زندگی میں خوشگوار فضا سے تعمیر کیا جارہا ہے-

اس وقت ملک ایک نہیں کئی اطراف سے قومی سلامتی کو درپیش بڑے چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے- ان میں سب سے اہم ملک میں امن وامان قائم کرنا ، دہشت گردی کے خلاف جنگ،طالبان سے مذاکرات ، مسئلہ کشمیر سمیت بھارت کے ساتھ سیاچن، پانی اور دوسرے تنازعات کا طے کرنا،کشیدگی ختم کرکے تجارت شروع کرنا، افغانستان سے تعلقات اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد وہاں مستحکم حکومت کے قیام میں مدد کرنا، چین ، عالم عرب اور ایران و امریکہ سے تعلقات کے معاملات شامل ہیں- ہر معاملے میں پاکستان نے سب سے پہلے اپنے ملکی مفادات کو پیش نظر رکھنا ہے، اس کے ساتھ اپنی پالیسیوں اور حکمت عملی کو قومی امنگوں اور آرزوﺅں کے مطابق ڈھالنا بھی ضروری ہے- دہشت گردی کا خاتمہ، افغانستان میں پاکستان کے کردار، مسئلہ کشمیر اورپاک بھارت تعلقات اور دوسرے اہم امور خارجہ کے سلسلے میں آئندہ حکومت کی ایک بڑی ذمہ داری تمام اہم سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا اور ان کے علاوہ آرمی کی مشاورت کے ساتھ ایک متفقہ لائحہ عمل یا ایجنڈا تیار کرنا بھی ہے- اپنی پالیسیوں کے لئے رائے عامہ کو ہموار کرنا اور قوم کو اعتماد میں لینا بھی سیاسی حکومت کا کام ہے- خارجہ پالیسی ہو یا اندرونی معاملات عوام عام طور پر زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے صرف خواہشات کرنے کے موڈ میں ہوتے ہیں- لیکن ایک اچھی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کو اندھیرے میں رکھنے کے بجائے انہیں زمینی حقائق سے آگا ہ کرے ، ان میں حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرے- میڈیا بھی اس معاملے میں حکومت کا ساتھ دے - خاص طور پر خارجہ امور کے سلسلے میں میڈیا کا تعاون و معاونت بے حد ضروری ہے - امریکہ جیسے ممالک کا میڈیا بھی امور خارجہ کے سلسلے میں ہمیشہ اپنی حکومت کی پالیسوں کی تائید و حمایت کرتا اور قومی مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے-

مسلم لیگ ن نے انتخابات سے قبل اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کیا تھا ، ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس منشور میں ہر شعبے سے متعلق اپنی ان پالیسیوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جن پر حکومت بننے کی صورت میں عمل کیا جائے گا- انتخابات سے قبل پیش کئے گئے کسی بھی جماعت کے منشور کی حیثیت اس جماعت کے عوام سے کئے گئے وعدے کی ہے- سب سے زیادہ اسمبلی نشستیں جیت کر حکومت بنانے والی جماعت کے منشور پر انتخابات میں عوام نے گویا مہر تصدیق ثبت کر دی ہے ، جس کے بعد اس جماعت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے منشور کی ایک ایک شق پر عمل کرے اور عوام سے کئے ہوئے وعدوں کے سلسلے میں قوم کے سامنے سرخرو ہو- اس حقیقت کے پیش نظر میڈیا اور دوسری جماعتوں کو بھی اخلاقی طور پر اس بات کا پابند سمجھا جاتا ہے کہ وہ حکومت بنانے والی جماعت سے تعاون کریں اور اسے اپنے منشور پر عملدرآمد کرنے کے لئے سازگار ماحول مہیا کریں - نئی حکومت کو اس کے ابتدائی عرصہ میں اس طرح کے تعاون کا مہیا کیا جانا زیاہ اہم سمجھا جاتا ہے- حکومت کی کامیابی ہی قوم وملک کی کامیابی ہوتی ہے- اس کے منصوبے کامیاب ہونے کی صورت ہی میں ملک ہر شعبے میں آگے جاسکتا ہے- اگر ابتدا ہی میں حکومت کی ٹانگ کھینچنے کے لئے اسے مسائل میں الجھا دیا جائے، اس پر ہر طرف سے تابڑ توڑ تنقید کی جانے لگے تو پھر قومی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا- تنقید برائے تنقید سے اجتناب خود مخالف سیاسی رہنماﺅں کی اصابت رائے اور ساکھ کے لئے بھی ضروری ہے- نئی کابینہ تشکیل دینے کے بعد پہلے سے جاری پالیسیوں اور کاموں کا جائزہ لینے اور نئے معاملات کو اپنے منشور کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے نئی حکومت کو کافی وقت دیا جاتا ہے ، اس دوران نقاد حضرات صبر و تحمل کا ثبوت دیتے ہیں - مخالف یا موافق سیاسی قیادت نئی حکومت کوقومی مقاصد آگے بڑھانے کے لئے اپنی طرف سے مکمل تعاون کا جو یقین دلا تی ہے، اس نے اس کا نئی حکومت کی تشکیل کے بعد عملی مظاہر ہ کرنا ہوتا ہے - اکثر اچھی حزب مخالف اپنی طرف سے قومی معاملات میں اپنی آرا کا اظہار تو کرتی رہتی ہے لیکن اس کی طرف سے ایک آدھ سال تک نئی حکومت کے خلاف کسی طرح کے احتجاج یا تیز و تند پراپیگنڈے اورہر طرح کے منفی رویے سے گریز کیا جاتا ہے- یہ اس لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ حکمران جماعت اپنے منشور کے مطابق قوم و ملک کی بہتری کے لئے دلجمعی سے کام کرسکے-

مہذب جمہوری ملکوں میں اپوزیشن کی اس روایت کے علاوہ ہمارے ملک میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں، خالی خزانہ، تباہ شدہ معیشت، بجلی و گیس کا خوفناک بحران اور بیروزگاری و مہنگائی کی سنگین صورتحال بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ سب لوگ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں - وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو قوم وملک کی خدمت کاموقع دیں، جمہوری عمل کے تسلسل میں رخنہ نہ ڈالیں-اس وقت دنیا ہمیں اس نظر سے دیکھ رہی ہے کہ ہمارے ملک میں ایک مستعد اور آزاد عدلیہ موجود ہے ایک آزادالیکشن کمیشن کے ذریعے آزادانہ اور شفاف انتخابات کرائے گئے ہیں( جن کے سلسلے میں بعض جائز شکایات اپنی جگہ ہیں)- نئی بننے والی حکومت آزمودہ مستعد تجربہ کار اور قوم کا اعتماد رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہو گی ،جو اپنے تجربے اور اخلاص کی بنا پر ملکی مسائل تیزی سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں- موجودہ فوجی قیادت جہاں پاکستان کی دفاعی صلاحیت کار کو بہترین سطح پر رکھے ہوئے ہے وہاں ملک میں جمہوریت کے فروغ اور استحکام میں بھی اپنا بھرپور کردار اداکررہی ہے- اس وقت پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ خطے میں قیام امن کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرسکے-

دنیا میں اس وقت ہمارے متعلق اس رائے کا قائم ہوجانا ایک غیر معمولی بات اور ہمارے لئے فائدہ اٹھانے کا ایک اہم موقع ہے- فہم وتدبر کا ثبوت دینا اور پھونک پھونک کر قدم رکھنا اس زمانے میں صرف حکومتوں ہی کا کام نہیں، قوم کے ایک ایک فرد کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنا ہوگی- اوپر کی سطح کے معاملات جتنے آج درست ہیں پہلے کبھی نہ تھے - اوپر والوں سے جتنی آج امیدیں ہیں ان کا پورا ادراک بھی شاید قوم کو نہیں ہے ، لیکن تمام قومی حلقوں پر بھی لازم ہے کہ وہ ذمہ داری اور فہم و تدبر کا ثبوت دیں - ہر کسی کو اپنی اپنی فکر کے بے لگام گھوڑے دوڑانے سے پہلے علامہ اقبال کے اس فرمان پر ضرور غور کرلینا چاہئے کہ

آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی

رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ ! !

مزید : اداریہ


loading...