مریم نواز کی سیاست

مریم نواز کی سیاست
مریم نواز کی سیاست

  


آج سے کچھ ماہ پہلے جب مریم نواز شریف کو لاہور کے گرلز کالجوں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں بھیجا جا رہا تھا تو مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس بی بی کو سیاسی میدان میں اتارنے کی تیاریاں ہوچکی ہیں۔ میاں شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز پہلے ہی سیاسی تقریبات اور جلسوں میں شدید گرمِ عمل رہا کرتے تھے۔ تب بہت سے سیاسی پنڈتوں نے یہ سوال اٹھایا کہ مریم نواز کو کہیں حمزہ کے مقابلے میں تو کھڑا نہیں کیا جا رہا‘ لیکن حالیہ انتخابات کےلئے چلائی جانے والی مہم نے ثابت کر دکھایا کہ یہ صرف ایک اور ایک گیارہ گیارہ والی صورت حال تھی۔ ان دونوں نوجوان سیاست دانوں نے اپنے اپنے انداز میں اپنی سیاسی جماعت کےلئے انتخابی مہم چلائی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ حمزہ شہباز کا لہجہ اپنے والد محترم کی طرح جارحانہ تھا اور مریم نواز کا اسلوبِ گفتگو‘ شاعرانہ تھا۔ اس کی گفتگو میں اپنی والدہ اور والد دونوں کی جھلک تھی۔ حمزہ شہباز‘ اپنے سیاسی حریفوں پر شہباز کی طرح جھپٹتے تھے اور مریم نواز بلبلِ خوش نوا کی طرح چہکتی رہی۔ حمزہ شہباز مخالفوں کا دامن حریفانہ کھینچتے رہے اور مریم نواز‘ مخالفوں کے ضمیر کو شریفانہ جھنجوڑتی رہی۔ یوں کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوتا کہ حمزہ‘ مخالفین کے آشیانوں میں اپنی آتش بیانی سے آگ لگاتے رہے اور مریم‘ گل افشانی کرتی رہی۔ شاید اس کو گل افشانی گفتار کہا جاتا ہے۔

میر تقی میر کا یہ شعر شاید یہاں حسبِ حال ہو۔

گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگِ گل سے میر

بلبل پکاری دیکھ کے صاحب پرے پرے

پھر چشم عالم نے دیکھا کہ انتخابی مہم کے دوران میں‘ مریم نواز جہاں گئی وہاں کسی اور کا چراغ نہ جل سکا۔ کیا یہ حسرت کی بات نہیں کہ میاں محمد نواز شریف لاہور کے جس حلقے سے بہت بڑے مارجن سے جیتے ہیں‘ وہاں وہ ایک دفعہ بھی نہیں گئے۔ اس حلقے میں میاں محمد نواز شریف کی ساری مہم ان کی نرم گفتار اور خوش اور بیٹی مریم نواز چلاتی رہی۔ مریم نواز نے اس حلقے پر اپنی پوری توجہ مرکوز کئے رکھی۔ اس نے ایک ایک دن میں بیس بیس انتخابی دفتروں کا افتتاح کیا۔ اس حلقے کا شاید ہی کوئی ووٹر ہوگا جو مریم نواز سے نہیں ملا۔ نوجوان سیاسی کارکن اور ہاکی کے قومی سطح کے کھلاڑی اور میرے شاگرد عزیز منیر چشتی نے نہرو پارک کے مرکزی دروازے کے سامنے انتخابی دفتر بنایا تو اس کی دھوم سن کر مریم نواز‘ بلال یٰسین‘ ماجد ظہور‘ تارا بٹ اور فرقان غیاث کے ساتھ پہنچیں۔ ماجد ظہور اس حلقے سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے اور ان سے میری پہلی ملاقات پاک ٹی ہاﺅس کے افتتاح کے موقع پر حمزہ شہباز کے ساتھ ہوئی تھی۔ حمزہ شہباز کے تحرک اور فعالیت میں ماجد ظہور جیسے زیرک لیگی کارکن کا بھی ہاتھ ہے۔ اب یہ لیگی کارکن صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہوچکا ہے اور علاقے کے عوام کی خدمت کےلئے ہر دم تیار اور مستعد ہے۔ بلال یٰسین پہلوانوں کے خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ سیاست کا یہ نوجوان‘ اب جوان ہوچکا ہے۔ تارا بٹ کرشن نگر میں لیگی سپاہی کے طور پر مشہور ہے۔ صلہ و ستائش سے بے پروا‘ یہ شخص ہر لمحہ اہل علاقہ کے کام آنے کےلئے تیار رہتا ہے۔ فرقان غیاث کہنے کو تو کیبل آپریٹروں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں لیکن انہوں نے مریم نواز کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی‘ جب مریم نواز‘ سنت نگر کی اس چھوٹی سی گلی میں ایک انتخابی دفتر کا افتتاح کرنے آئیں جس میں میرا غریب خانہ بھی ہے تو فرقان غیاث ایک سپاہی کی طرح ان کے ساتھ کھڑا رہا۔

انتخابی مہم کے دوران میں مریم نواز شریف نے صرف نوجوان نسل ہی کو متاثر نہیں کیا بلکہ خواتین کو بھی اپنی پراثر شخصیت اور دل نشیں اندازِ گفتگو سے قائل کیا۔ حالانکہ اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین ارشد‘ نواز شریف کی مدِ مقابل تھیں جو خود بھی پرکشش شخصیت کی مالک ہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ڈاکٹر یاسمین ارشد‘ میاں نواز شریف کی بجائے مریم نواز سے ہاری ہیں تو شاید غلط نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں‘ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ میاں نواز شریف کی جیت نہیں‘ مریم نواز کی جیت ہے۔ مجھے مسلم لیگ (ن) کی اس پالیسی پر ابھی تک حیرت ہے جس کے تحت مریم نواز کو الیکشن میں کھڑا نہیں کیا گیا۔ مریم نواز اگر کسی حلقے سے الیکشن لرتی تو اسمبلی میں ایک اچھا اضافہ ہوتا۔ اسے اپنی بات کہنا آتی ہے۔ وہ سیاسی سوجھ بوجھ کی مالک ہے۔ ہماری آج کی سیاست کو جن تمام اوصاف کی ضرورت ہے وہ تمام اس بی بی میں موجود ہیں۔

وہ جانتی ہے کہ اپنی عزت میں اضافہ‘ دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے سے نہیں‘ اپنے حسن سلوک اور کردار سے ہوتا ہے۔ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ مریم ناوز نے پوری انتخابی مہم میں اپنے شیر کی بات کی۔ اس نے تیر اور بلے کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔ یہی مثبت رویہ ہے جس نے مریم کو دوسروں سے الگ اور ممتاز بنا دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بیش تر راہنماﺅں نے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کرکے دراصل اپنی کم مائیگی کا اظہار کیا۔ پاکستان کی ترقی ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے میں نہیں‘ اپنی خوبیاں بڑھانے میں پوشیدہ ہے۔ مستقبل کی سیاست کو‘ مریم نواز کی سیاست سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ اس لئے ضروری ہوگیا ہے کہ مریم نواز کو (ن) لیگ کی کسی بھی جیتی ہوئی نشست پر ضمنی انتخاب لڑوایا جائے‘ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ پاکستانی سیاست کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

مزید : کالم


loading...