بے نظیر قتل کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت منظور ہوگئی

بے نظیر قتل کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت منظور ہوگئی
بے نظیر قتل کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت منظور ہوگئی

  


 راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) بے نظیر قتل کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت منظور کرلی گئی ہے اور عدالت نے اُنہیں دس ، دس لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ بے نظیر قتل کیس میں پرویز مشرف کی درخواست ضمانت کی سماعت انسداددہشتگردی کی عدالت کے جج حبیب الرحمان نے کی ۔ وکیل صفائی بیرسٹرسلمان صفدرنے موقف اپنایاکہ سابق صدر کو ملزم نامزد کرنے سے دنیا میں بدنامی ہوئی ،پرویز مشرف سابق صدر اور مشہور شخصیت ہیں ، عالمی سطح پر اُن کی پہچان ہے ، مشرف نے اگست 2008ءمیں استعفیٰ دیا،اپریل 2009ءمیں بیرون ملک گئے اور گارڈ آف آنر کیساتھ رخصت کیاگیالیکن 2010ءمیں پیش کیے گئے چالان میںسابق صدر کو ملزم نامزدکردیاگیا، نامزدگی کیلئے بیرون ملک جانے کا انتظار کیوں کیاگیا؟غیر موجودگی میں اشتہار ی قراردیدیاگیا۔وکلاءکاکہناتھاکہ بیرون ملک جاتے ہوئے مشرف کیخلاف کوئی کیس باقی نہیں تھا، زخمیوں یا بے نظیر کے ورثاءنے ملزم نہیں ٹھہرایا، تحقیقاتی اداروں نے اُنہیں ملزم قراردیا، ایف آئی اے کا مینڈیٹ فنانشل کرائم ، بینکنگ اور سائبر کرائم وغیرہ ہے ، قتل کی تفتیش دائرہ اختیار میں نہیں۔بیرسٹرسلمان صفدر نے کہاکہ بے نظیر قتل کیس اس لیے بنایاگیاکہ مشرف کو ملک اور سیاست سے دور رکھاجائے ، مجرمانہ نہیں سیاسی کیس ہے ،پوسٹمارٹم نہ کرانے کا فیصلہ زرداری نے کیا، مشرف پر ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی ،اگر قتل سازش تھا تو عدالت کو بتایاجائے کہ اِس سازش میں اور کون کون ملوث تھا؟اُنہوںنے کہاکہ مارک سیگل کے خطوط کی بنیاد پر پرویز مشرف کا نام شامل کیاگیا،مارک سیگل کو حکومت نے سیکیورٹی فراہم کرناتھی اور وہ اب شاید نہیں آرہے ۔ ایف آئی اے پرسکیوٹرچوہدری اظہر نے کہاکہ مشرف کے وارنٹ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے نہیں ، عدالت نے جاری کیے ، دلائل توہین آمیز ہیں اوراپنے مختصر دلائل میں کہاکہ اُنہیں ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ضمانت کی صورت میں بھاری رقم نقدی کی صورت میں وصول کی جائے کیونکہ ملزم کی سیکیورٹی پر بھاری اخراجات آرہے ہیں ۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...