” ایک دن کا مجسٹریٹ ہوتا تو استاذ ہی ہے “

” ایک دن کا مجسٹریٹ ہوتا تو استاذ ہی ہے “
” ایک دن کا مجسٹریٹ ہوتا تو استاذ ہی ہے “

  



نمل نامہ (محمد زبیراعوان )بچپن میں کہیں پڑھا یاد ہے کہ نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان ۔۔۔ نیم حکیم کے بارے میں توآزما یابھی جاچکاہے جب میرے بچپن کے دنوں میں والد صاحب فوج سے ریٹائرڈ ہوکر گھر آگئے تھے لیکن اُن کا”فوجی “معمول ابھی باقی تھا ۔ہم بہن بھائیوں پر بھی فوجی نظم و ضبط نافذ تھا جیسے صبح پانچ بجے اُٹھنا ، نماز پڑھ کر قرآن کی تلاوت کرنا، سات بجے ناشتہ کرنا،پونے آٹھ بجے سکول کے لیے چلے جاناوغیرہ وغیرہ۔ ایک مرتبہ دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نکلاتو واپسی پر دیر ہوگئی اور ہوم ورک کا” فوجی“ وقت گزر چکاتھا۔ والدصاحب کے ڈر کی وجہ سے طبیعت کی ناسازی کا بہانہ بنایاتووہ میرے انکار کے باوجودمجھے ایک دیہاتی ڈاکٹر کے پاس لے گئے جس نے جاتے ہی تھرمامیٹر لگایااور ادویات دینے کے ساتھ ساتھ ایک عدد ٹیکہ بھی ٹھونس دیا۔مجھے ادویات کے پیسوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ باپ کی جیب سے گئے تھے لیکن ٹیکہ نوش فرمانے سے ہونیوالی درد کا احساس تھا۔اُس درد سے زیادہ مجھے اپنے اُس ”ڈاکٹر “کی فکر ہورہی تھی جس نے میرے بہانے کافائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی دکان چمکالی لیکن کسی مریض کے ساتھ اُس کے ممکنہ سلوک کا سوچ کرآج بھی دل پریشان ہوجاتاہے اور اللہ کا فضل ہے کہ تاحال ڈاکٹر فیض کی دکانداری چل رہی ہے ۔۔ ۔ نیم ملا کا معقولہ اب کسی کسی وقت جھوٹا محسو س ہوتاہے ۔ 23مارچ 2013ءکو منہاج القرآن کے سربراہ پانچ سال بعد پاکستان آئے اور سیاسی میدان میں طوفان برپاکردیا۔اُن کے ”ملا“میر امطلب عالم ہونے میں تو کوئی شک نہیں لیکن اُن کی ماضی کی سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ نیم سیاسی محسو س ہوئے۔ اُن کے منہ سے نکلی باتیں آج سچ ثابت ہوئی ہیں ۔طاہرالقادری نے کہاتھاکہ الیکشن کمیشن بے اختیار اور مختلف جماعتوں سے وابستہ ہے ، انقلابی جماعتیں ہاتھ ملتی رہ جائیں گی اوراُن کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ ۔۔ گیارہ مئی 2013ءکے تاریخی دن کے نتائج پوری قوم بلکہ دنیا کے سامنے ہیں ، بیلٹ پیپر گندے نالوں اور سڑکوں سے مل رہے ہیں جو کہ الیکشن کمیشن اورریٹرننگ افسران کے قبضے میں ہونے چاہیے تھے ۔ پورے پاکستان میں انتخابی دھاندلی کیخلاف احتجاجی مظاہرے اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے اور کھلے دل سے شاید کوئی جماعت ہی انتخابی نتائج تسلیم کرنے کو تیار نہیں توسوال پیداہوتاہے کہ پھر اتنے بڑے پیمانے پر دھاندلی کس نے اور کیسے کرائی ؟ کچھ لوگ ڈھکے چھپے الفاظ میں ریٹرننگ افسران پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں جو کہ زیادہ تر شاید عدلیہ سے وابستہ تھے ۔ ۔۔ میرے علم کے مطابق تاحال دھاندلیوں کے خلاف ہونیوالی احتجاج پر سپریم کورٹ کی طرف سے بھی کوئی ازخود نوٹس نہیں لیاگیاکیونکہ بہت سارے سوالات کے جوابات عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران ہی مل جاتے ہیں اور بڑے بڑے لوگ وہاں جاکر سچ اگل دیتے ہیں ۔میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ پنجاب میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی اور اگر بات مان لی جائے تو این اے 126سے شکست یافتہ لیگی امیدوار خواجہ حسان دھاندلی کی درخواست لے کر ریٹرننگ افسرکے پاس کیوں گئے تھے ؟ علامہ طاہرالقادری کے” کھوجی “ خطاب کا منتظر ہوں کہ اتنے وسیع پیمانے پر دھاندلی کس نے اور کیسے کی ؟ عوام کے ساتھ ہونیوالے دھوکے کے ڈرامائی سین کا سکرپٹ رائٹر کون تھا اور اُس کا کیامفاد ہے ؟ ۔ ۔۔الیکشن کمیشن پر اعتماد کی وجہ سے حیران کن ٹرن آﺅٹ آیالیکن افسوس ۔۔۔ صد افسوس کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات استعمال کرنے سے قاصر رہا، اُس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پریذائیڈنگ آفیسر ایک ہائی سکول کا استاذ ہوتاہے اور اُس کے اندر مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی یا کرنا آتے ہی نہیں ۔بے چارے نے الیکشن کے بعد رہنا تو وہی اُستاذ ہی ہے اور اُنہیں امیدواروں سے اپنے کام ہی نکلوانے ہیں ۔قوم کو معلوم ہوناچاہیے کہ ہمارے ووٹوں کے ساتھ کیاکھلواڑ ہوا؟ اب تو صدر مملکت بھی چلا اُٹھے ہیں کہ پیپلزپارٹی ملکی و بین الاقوامی سازش کا شکار ہوئی ، 40سے 45نشستیں انتخابات میں حاصل کرسکتے تھے۔. . سوشل میڈیا پر موجود ایک روتے ہی بچے کی تصویر کیساتھ لکھی تحریر یاد آگئی ہے ۔”تبدیلی کے لیے پہلی مرتبہ ووٹ دیاتھا،،، ووٹ ہی تبدیل ہوگیا۔۔۔

مزید : بلاگ


loading...