آنا میر ا پولیس میں !

آنا میر ا پولیس میں !
آنا میر ا پولیس میں !
کیپشن: m altaf qamar

  

میرے کچھ دوستوں کا بہت دیر سے اصرار تھا کہ میں محکمہ پولیس میں گزرے ہوئے ماہ و سال کے دوران پیش و درپیش آنے والے واقعات ، مشاہدات اور تجربات پر لکھوں، تاکہ دلچسپی رکھنے والے اس سے محظوظ ہوںاور اس راہ پر گامزن موجودہ اور آنے والے مسافر اس سے راہنمائی حاصل کریں ۔درحقیقت حالات و واقعات کا درپیش آنا ، اُن کا حصہ بننا اور اُن سے نمٹنا ایک بات ہے اور اُن کو اُن کی اصل روح اورپیش و پس منظرکے ساتھ ٹھیک ٹھیک، لیکن جامع اور دلچسپ پیرائے میں بیان کرنا ایک بالکل دوسری بات ۔ پہلی کے لئے واقعہ ،حوصلہ ، کوشش ، تجربہ اور فہم وفراست درکار ہوتی ہے،جو وقوعہ ہونے کے بعد خود بخود رُوبہ عمل ہو جاتی ہے،جبکہ دوسری کے لئے ذہن کی آمادگی اور زبان و قلم پر قدرت درکار ہوتی ہے۔ اس لئے دوستوں کی سنتا رہا اور خاموش رہا کہ میں اپنے آپ کو اس مشکل کام کا اہل نہیں پاتا تھا ، لیکن جب میں نے منشیات اور دیگر قومی موضوعات پر یکے بعد دیگرے بہت سارے کالم لکھ ڈالے تو دوستوں کا اصرار بڑھ گیا کہ ادھر اُدھر کی چھوڑو، ان موضوعات پر لکھنے والے بہت ہیں ، تم اپنے اصل موضوع کی طرف آﺅاور پولیس سروس کے تجربات و مشاہدات پر لکھوکہ اس پراب تک بہت کم لکھا گیا ہے۔ حالانکہ وہ کالم بھی زیادہ تر پولیس ، امن و امان اور دہشت گردی وغیرہ کے موضوعات پر ہی تھے ۔ بہرحال اب دوستوں کے بے حد اصرار پر میں نے پولیس سروس کے دوران پیش آنے والے خاص خاص واقعات پر لکھنے کا ارادہ کیا ہے ۔ یہ مضمون اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے ۔میں نے مناسب سمجھا کہ اس پہلے مضمون میں میں اپنے پولیس میں آنے کی روداد لکھوں ۔

یہ غالباً1975کے اگست کی بات ہے۔میں ایم اے کرنے کے بعد گزشتہ ایک سال سے لاہور چیمبر آف کامرس میں بطور ریسرچ آفیسر کام کر رہا تھا۔ ایک روزمیرے ایم اے کے کلاس فیلو اور بہت ہی عزیز دوست میاں اظہر مجید خالد فیصل آباد سے مجھے ملنے لاہور آئے ۔ باتوں باتوں میں انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیاتم نے سی ایس ایس کے امتحان کے لئے داخلہ فارم جمع کروا دیا ہے؟ میں نے کہا "نہیں "۔انہوں نے حیرت ظاہر کی اور کہا کہ اگر تم جیسے اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے لوگ بھی گورنمنٹ کی اعلیٰ ملازمتوں میں نہیں جائیں گے توکون جائے گا؟انہوںنے مزید کہا کہ امتحان میں بیٹھنے کے لئے داخلہ فارم جمع کروانے میں صرف ایک ہفتہ رہ گیاہے ۔ دوست کے چلے جانے کے بعد میں اُس کی بات پر غور کرنا شروع کیا۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ لاہور شہر میں رہتے ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہنے کے باوجود مجھے سی ایس ایس کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہ تھیں۔ بہر حال اگلے روز فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے دفتر سے مطلوبہ درخواست فارم حاصل کیااورپُر کر کے آخری روز جمع کروادیا۔ فارم جمع کروانے والے دن سے کم و بیش ساڑھے تین ماہ بعد دسمبر1975کے آخری ہفتے سے یہ امتحانات شروع ہو کر فروری 1976تک چلنا تھے ۔ میں نے لاہور چیمبر کی صبح 9سے شام 5بجے تک کے دفتری اوقات کے بعد تیاری کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ابھی ٹوٹی پھوٹی تیاری کوڈیڑھ دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ میں نے پانچ چھ ماہ قبل پنجاب پبلک سروس کمیشن کومعاشیات کے لیکچرر کی پوسٹ کے لئے جوانٹرویو دیا تھااُس کا نتیجہ آگیا اور مجھے محکمہ تعلیم پنجاب کی طر ف سے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں بطور لیکچرر تعیناتی کا تقررنامہ موصول ہو گیا۔ میں نے سکھ کا سانس لیا کہ ایک باعزت ، مستقل اور میرے مزاج کے قریب ترین سرکاری ملازمت مل گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی سی ایس ایس کی تیاری کے لئے اکٹھی کی ہوئی ساری کتابیں اور کاغذات سمیٹ کر ایک طرف رکھ دیئے اور نومبر 1975میں نئی ملازمت جوائن کرکے نہایت توجہ ،تیاری اور دلچسپی کے ساتھ طلباءکوپڑھانا شروع کر دیا ۔ تقریباًایک ماہ اسی طرح گذ ر گیا اور میں سی ایس ایس کا امتحان دینے کا خیال تقریباًفراموش کر بیٹھا۔ چند دوستوں اورگھر والوں کے اصرار پر امتحان سے چند روز قبل ایک بار پھر کتابیں کھول لیں ۔ دسمبر1975 کی آخری تین تاریخوں کو مسلسل تین دن صبح و شام ایک ایک پیپر کے ساتھ پانچ سو نمبروں کے چھ لازمی پیپرہو گئے۔ اس کے بعد چھ سو نمبروں کے اختیاری مضامین کے چھ پیپر وقفے وقفے سے تقریباًڈیڑھ ماہ کے اند ر مکمل ہوئے ۔اس امتحان سے پہلے اور اس کے دوران میںنے چیمبر یا کالج سے ایک بھی چھٹی نہیں کی ماسوائے اس دن کے جس دن کوئی پیپر ہوتا تھا۔جولائی اگست 1976کو تحریری امتحان میں پاس ہونے والے امیدواران کے میڈیکل اور نفسیاتی ٹیسٹ اور اُس کے بعد فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سلیکشن بورڈ کے ساتھ انٹرویوشروع ہوگئے ۔ےہ انٹرویوتین سو نمبر کا ہوتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یا د ہے کہ انٹرویوکے دوران ایک ممبر نے نہ جانے کیوں اور کس خیا ل کے تحت مجھ سے پوچھا " کیا آپ پولیس میںجانا پسند کریں گے؟ " میں نے بغیر کسی پس و پیش کے کہا "نہیں "۔انہوں نے پوچھا "کیوں نہیں ؟"۔ میں نے جواباً کہا "مجھے پسند نہیں۔بڑا بدنام محکمہ ہے"۔ حالانکہ اُ س وقت تک مجھے کبھی کسی پولیس افسر یا ملازم سے واسطہ تو کیا ،ایک فقرے کے تبادلے کا اتفاق بھی نہیں ہوا تھا۔یہ صرف پولیس کے بارے میں عوامی رائے اور تصور کا عکس تھا ۔

انٹرویو ختم ہو گئے اور پھر ایک طویل خاموشی چھا گئی ۔اس دوران کبھی کبھار دوست احباب پوچھ لیتے کہ اُس امتحان کا کیا ہوا تو میںجواب دیتا کہ ابھی رزلٹ نہیں آیا۔ یہ بات کہتے کہتے مارچ 1977آپہنچا۔ایک بار پھرکسی نے وہی سوال کیا اور میں نے پھر وہی جواب دیا ۔اُس نے کہا یار! عجیب بے خبر آدمی ہو۔ سی ایس ایس کا رزلٹ آئے دوہفتے گزر چکے ہیں اور تم ابھی تک یہی کہے جا رہے ہو کہ ابھی رزلٹ نہیں آیا۔ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے دفتر پہنچا اور اُن سے رزلٹ مانگا۔ انہوں نے مجھے کامیاب اور منتخب شدہ امیدواران کی میرٹ لسٹ پکڑا دی۔ چونکہ میںاس امتحان کی تیاری ٹھیک طریقے سے نہیں کرسکا تھااور پیپر زبھی میرے اپنے اندازے کے مطابق کچھ اچھے نہیں ہوئے تھے ،بلکہ میں تو تحریری امتحان میں ہی پاس ہونے کی اُمید نہیں رکھتا تھا، لیکن جب پاس ہو گیا تو اب میر ٹ پر کسی اچھی پوزیشن کی ہر گز کوئی توقع نہیں رکھتاتھا۔ اُس سال فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے کوئی اڑھائی سو کے قریب امیدواران کو منتخب کیا تھا۔ میں نے لسٹ پر نظر دوڑانا شروع کردی ۔ایک سے پچاس تک نظر دوڑائی ،میرا نام نہیں تھا۔ معاًخیال آیا کہ کیا میں پہلے نمبروں پر ہونے کی توقع رکھتا ہو ں؟یہ خیال آتے ہی لسٹ کو اُلٹی طرف سے دیکھنا شروع کرد یا۔ اڑھائی سو سے ہوتے ہوتے سو اور پھر پچھتر تک آگیا ،لیکن کہیں نام نظر نہ آیا ۔قدر ے مایوس ہوا،تاہم مزید آگے بڑھا تو 54نمبر پر اپنا نام نظر آگیا ۔یہ آل پاکستان پوزیشن تھی ۔

اُن دنوں وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کی انتظامی اصلاحات کے بعد سے سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہونے والوں کو رزلٹ کے ساتھ ہی محکمے الاٹ نہیں کئے جاتے تھے، بلکہ تمام کامیاب اُمیدواران کو پہلے نو دس ماہ کے ایکCommon Training Programmeسے گزرنا پڑتا تھا ۔ تب سے آج تک سینٹرل سپیر ئیر سروسز کے افسران کی بھرتی اورسینارٹی کا شمار اسی کامن ٹریننگ پروگرام سے ہوتا ہے ۔مثلاً فلاں افسر 1st کامن سے ، فلاں 10th کامن سے تعلق رکھتا ہے وغیرہ۔میرا تعلق4th کامن سے جڑُا ۔وسط مارچ تک مجھے تقرر نامہ موصول ہوگیا اور 22مارچ 1977کو میں نے دیگر سینکڑوں افسران کے ساتھ Academy for Administrative Trainingکے مال روڈ پر واقع ایڈمن بلاک میںسینٹرل سپیرئیر سروسز آف پاکستان کے ایک نو منتخب افسر کے طور پر حاضری دے دی ،اور24مارچ سے اکیڈیمی کے والٹن میں واقع ٹریننگ کیمپس میں ہمارا کامن ٹریننگ پروگرام شروع ہو گیا۔نو دس ماہ کے اس ٹریننگ پروگرام کے بعد دوبارہ چودہ سو نمبروں کا تحریری اور زبانی امتحان ہوتا تھا اور پھر مقابلے کے امتحان کے چودہ سو نمبر اور ٹریننگ پروگرام کے چودہ سونمبروں میں سے حاصل کردہ نمبروں کو ملا کر اٹھائیس سو نمبروں میں سے حاصل کردہ نمبروں سے ایک نیا میرٹ بنتا تھا ،اور پھر اس میرٹ کے مطابق افسران کو سینٹرل سپیر ئیر سروسز آف پاکستان کے مختلف محکموں مثلاً ڈی ایم جی ، فارن سروس ، پولیس سروس، کسٹمز ، آفس مینجمنٹ وغیرہ میں سے کوئی ایک الاٹ کیا جاتا تھا ۔نئے میرٹ کے مطابق میری پوزیشن 54سے بہتر ہو کر 35ہوگئی اور مجھے پولیس سروس آف پاکستان کا محکمہ الاٹ کر دیا گیا ،اورساتھ ہی میری خدمات صوبہ پنجاب کے سپرد کردی گئیں۔اُ س سال کل پچیس افسران کو محکمہ پولیس الاٹ ہوا۔

پولیس کا محکمہ الاٹ ہونے پر میں تذبذب کا شکار ہوگیا ۔ پولیس کبھی میری ترجیح نہ رہی تھی۔ ابتداً تو میں نے سوچ لیا کہ میںیہ ملازمت جوائن نہیں کرونگااوراپنے پسندیدہ شعبہ درس و تدریس کی طرف لوٹ جاﺅں گا۔میں نے دوست احباب سے مشورہ کیا ۔سب نے ہی مجھے مبارکباد دی اور نئی ملازمت جوائن کرنے کا مشورہ دیا ،لیکن مجھے اطمینان نہ ہوا۔ جب تذبذب بڑھا تو میں اپنے محسن اور مربی ّپروفیسر شیخ محمد رفیق کے پاس چلا گیا، جن کی خصوصی توجہ اور رہنمائی سے میں نے انٹرمیڈیٹ اور بی اے ہردوکے امتحانات میں لاہور بورڈ اور پنجاب یو نیورسٹی میں دوسری پوزیشن اور سلور میڈل اور گولڈ میڈل حاصل کیا تھا،اور اپنی پریشانی کا ذکر کیا ۔ انہوں نے میری پریشانی اور تحفظات سننے کے بعد انتہائی شفقت سے پوچھا "کیاآپ نے کبھی پولیس میں آنے کا سوچا تھا ؟ " میں نے جواب دیا "نہیں"۔وہ بولے "کیا آپ نے کبھی کسی سے پولیس میں جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا؟"۔ میں نے کہا "نہیں"۔پھر بولے "کیا آپ نے کبھی اس کے لئے کوئی کوشش کی تھی ؟" میں نے کہا "نہیں"۔ فرمایا "تو پھر خدا کے فیصلوں میں دخل نہ دو ۔ پتہ نہیں اُس نے تم سے کس فرعون کا سر کُچلوانا ہے ۔ اﷲ کا شکر ادا کرو ۔جاﺅ اور جوائن کر و"۔ میں یکسو ہوگیا ۔تمام تذبذ ب جاتا رہا۔

یکم فروری 1978کو میں نے اپنے دیگر پندرہ ساتھیوں سمیت جنہیں پنجاب الاٹ ہو ا تھا آئی جی آفس میں بطور اے ایس پی حاضری دے دی۔اُس وقت پنجاب کے آئی جی الحاج حبیب الرحمن خان تھے۔ ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرجناب مختار احمد گوندل نے ہمیں خوش آمدید کہا ، مبارکباد دی اور دیر تک ہلکی پھلکی اورشگفتہ باتیں کرتے رہے ،جس سے میری بڑی حوصلہ افزائی ہوئی اورمجھے محسوس ہوا کہ میں ٹھیک جگہ ہی آگیا ہوں۔آئی جی آفس سے ہمیں پولیس کی ٹریننگ کے لئے ضروری سازوسامان کی فہرست دی گئی اور پھر اس ساز سامان کے ساتھ 19فروری کو ہم سب نے پولیس کالج سہالہ میں پولیس کی پیشہ ورانہ ٹریننگ کے لئے رپورٹ کردی ۔ اُسی روز ہمارے گروپ کے دوسرے نوساتھیوں نے بھی جنہیں سندھ ،سرحداور بلوچستان الاٹ ہوئے تھے رپورٹ کی اور یوں پچیس نو منتخب اے ایس پی صاحبان کا یہ گروپ زندگی کے ایک نئے سفر کے آغاز کے لئے ایک جگہ اکٹھا ہو گیا ۔اگلی صبح 20فروری 1978کو میں نے پہلی بار پولیس کی یونیفارم پہنی اور اپنے چوبیس ساتھیوں کے ساتھ کالج کی پریڈ گراﺅنڈ میں اُتر گیا اور پھرکبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔اس ادارے کے سربراہ ایک سینئر ڈی آئی جی جناب علی عرفان ملہی تھے۔شفقت اور سختی کا امتزاج ، مدبر اور بہترین منتظم ۔ انہوں نے جس تن دہی اور توجہ کے ساتھ ہماری ٹریننگ کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ دسمبر 1978میں ہم پاس آﺅٹ ہو گئے اور پولیس کی تاریخ میںپہلی بار صدر ِپاکستان جنرل ضیاءالحق نے ہماری پاسنگ آﺅٹ پریڈکی سلامی لی ۔

 ایک ہی دن پولیس سروس کا آغاز کرنے والے ہم پچیس اے ایس پی صاحبان میں سے سات (حاجی محمد حبیب الرحمٰن ، وسیم کوثر، طارق سلیم ڈوگر، ہمایوں شفیع ، جاوید نور، آفتا ب سلطان اور ظفراﷲخان)گریڈ 22 اور چھ (چوہدری عبدالمجید، رانا محمد اقبال، مرزا شمس الحسن، پرویز اختر اعوان، محمد الطاف قمراور فقیر حسین)گریڈ21کے آئی جی کے عہدہ تک پہنچے ۔گریڈ 21میں ریٹائر ہو جانے والے یہ افسران گریڈ 22میںترقی پانے والے اپنے ساتھیوں سے کسی بھی اعتبار سے کم تر نہ تھے ۔شومی ¿قسمت ،کچھ کو گریڈ 21میں ترقی سے مشروط سٹاف کالج کورس کے لئے تاخیر سے بھیجا گیا ، نتیجتاً اُنہیں گریڈ21تاخیر سے ملا ، اور کچھ عمر میں زیادہ ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھیوں سے پہلے ریٹائر ہو گئے۔اس بات سے قطع نظر ،پولیس میں گریڈ21اور22ہم پلہ شمار ہوتے ہیں ۔اسی لئے بالعموم گریڈ21کے لئے مخصوص پوسٹوں پر گریڈ22، اور گریڈ22کے لئے مخصوص پوسٹوں پر گریڈ21کے پولیس افسران تعینات رہتے ہیں ، اور یہ سب آئی جی کہلاتے ہیں ۔دیگر ساتھیوںمیں سے چھ (مرزا ریاض نعیم ، میاں عبدالغفار، میر اکرام الحق، سہیل احمد درانی، مظہر علی شیخ اور میاں باز آفریدی)ایس ایس پی اور ڈی آئی جی کے عہدوں سے ریٹائر ڈ ہوئے ۔بدقسمتی سے ہمارے چھ ساتھی ( محمد افتخار الدین وڑائچ، محمد اشرف مارتھ، عابد سعید، ملک اعجاز حسین، عبدالعزیزبُلواور محمد جاوید)دوران سروس ایس پی ، ایس ایس پی اور ڈی آئی جی رینک میں شہید ہو گئے یا وفات پا گئے ۔

22مارچ 1977میں پولیس سروس میں قدم رکھنے سے28 اپریل 2011میں اِس سے قدم نکالنے تک ، میں نے بے شمار سرد و گرم دیکھے ۔ اچھی سے اچھی اور بُری سے بُری (عرف عام میںکھڈے لائن )تعیناتیاں۔ایک سال میں چار چار بارتک ٹرانسفر۔ سولہ اور بیس دن کی تعیناتیوں سے لے کر تین تین سال تک کی تعیناتیاں ،اور قاتلوں، اشتہاریوں ، اغوا کاروں اور دہشت گردوں سے بڑے بڑے خونی معرکے۔بے شمار جگہوں پر پولیس کا فرسودہ نظام اور طریق کار مکمل طور پر بدل ڈالا۔نئے نئے یونٹ قائم کئے۔ان خدمات اور کارکردگی کے اعتراف کے طور پر پریذیڈنٹ پولیس میڈل اور بے شمار تعریفی اسناد و خطوط سے نوازاگیا،لیکن اس کے ساتھ ساتھ حالات کے جبر کے تحت وقتاً فوقتاً چھ چھ ماہ اور سال سال بھر او ایس ڈی اور حکمرانوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بھی بنا۔بلوچستان کے سوا اسلام آباد سمیت پاکستان کے ہر صوبے میں پولیس اور پولیس جیسے فرائض سرا نجام دینے والے دوسرے محکموں (ایف آئی اے، اے این ایف، اینٹی کرپشن ایسٹیبلشمنٹ وغیرہ)میں خدمات سر انجام دیں۔دو تحصیلوں کا ایس ڈی پی او،پانچ اضلاع کا ڈی پی او، تین ریجنز کا ریجنل پولیس آفیسر، تین صوبائی اور دو وفاقی سطح کے یونٹوں کا سربراہ رہا، لیکن کبھی بھی اور کہیں بھی عزتِ نفس ،آزادیِ کار، اپنے اختیارات کے استعمال اور غیر جانبداری اور سیاسی مداخلت پر سمجھوتا نہیں کیا ۔اورپھر یہی میری شناخت بن گئی،لیکن اس کے لئے قربانیاں دیںاور تکلیفیں اُٹھائیں، اورغیروں کا غصہ اور اپنوں کی بے رُخی بھُگتی ،لیکن اس سب کے باوجود پولیس کی چونتیس سالہ ملازمت کے دوران بھی اور آج بھی میں اپنی اس رائے پر پختگی سے قائم ہوں کہ اگر پاکستان میں کوئی بندہ خدا نیک نیتی سے مخلوق ِ خدا کی خدمت اور داد رسی کے ساتھ ساتھ چیلینجز سے بھر پور اور باعزت ملازمت کرنا چاہتا ہے تو اُس کے لئے پولیس سروس آف پاکستان سے بہتر کوئی ملازمت نہیں ۔میںاگر اﷲتعالیٰ کا ہر ہر سانس کے ساتھ شکر ادا کروں تو بھی شکر گزاری کا حق ادا نہیںکر سکتا کہ اُس نے مجھے میری خواہش اور طلب کے بغیر پولیس جیسی اعلیٰ و ارفع ملازمت عطا کی، جہاں میںرزق حلال کمانے اور باعز ت زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ سینکڑوں ظالموں کی سر کوبی اورہزاروں مظلوموں اور دکھی دلوں کی داد رسی کا موجب بنا۔ بیشک اﷲ تعالیٰ کے فیصلے اُس کی مخلوق کے حق میں بہترین ہوتے ہیں۔

مزید :

کالم -