کردستان امریکہ کا خواب

 کردستان امریکہ کا خواب
 کردستان امریکہ کا خواب

  

تقریباسوسال قبل استعمارنےاپنے مذموم اہداف کی خاطر مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی کی جوآگ بڑھکائی تھی عرب بہار (جسے عرب خزاں کہنا زیادہ موزوں ہے )کے بعدخانہ جنگی کی یہ آگ آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔خانہ جنگی کی اس آگ کی آڑ میں استعمار کا  مرکزی ہدف شروع سے مشرق وسطیٰ کی تقسیم اور یہاں کے وسائل پر قبضہ  جمانا رہاہے۔چنانچہ خلافت عثمانیہ کے بخیے ادھیڑنے کے بعد استعمار نے مشرق وسطیٰ کی جب پہلی تقسیم  کی  بنیاد رکھی تو قدرتی وسائل سے مالامال علاقوں کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کیا،تاکہ انہیں ہمیشہ سیکورٹی رسک کے نام پر اپنے قبضے میں رکھا جائےاورمن مانی شرائط پر ان کے وسائل کولوٹاجائے۔خلیجی اور مشرق وسطیٰ کی دیگر عرب ریاستوں کے قیام ،ان میں پائے جانے والے قدرتی  وسائل اور ان کے ارد گرد بڑھکائی گئی خانہ جنگی کی موجودہ آگ  کوسامنے رکھ کر استعمار کی سوسال قبل کی گئی  مکارانہ چال کوآج باآسانی سمجھاجاسکتاہے۔

دیکھاجائے تو مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم کا عملاآغاز نائن الیون کے بعد عراق پرحملے سے  کردیاگیا تھا،جس میں عرب بہار بالخصوص داعش کے فتنے اور شامی خانہ جنگی  کے بعداس وقت  بہت تیزی آچکی ہے۔جب کہ اس تقسیم کااصل نقشہ ایک صدی قبل تھیوڈور ہرزل اور پھر سائیکس پیکونامی معاہدے کے صورت کھینچاگیاتھا۔مشرق وسطیٰ کی اس نئی تقسیم میں فی الوقت ہدف مشرق وسطیٰ کےتین اہم ممالک یعنی عراق،شام  اور ترکی ہیں۔اس کے لیے ان چارممالک میں بسنے والے کردوں کوکردستان بنانے کے لیےآزادی کانعرہ دےکر ابھاراجارہاہےجس کامقصددرحقیقت لسانیت اور قومیت  کےنام پر مشرق وسطیٰ کو مزید تقسیم کرناہے۔چنانچہ کرد اور کردستان اس وقت مشرق وسطیٰ میں شامی خانہ جنگی اورفتنہ داعش کے بعد دوسرابڑا ایشوبناہواہے۔کرددراصل مشرق وسطیٰ کے شمال میں رہتے ہیں۔کردوں کی کل تعداد25 سے 30ملین کے لگ بھگ ہے،جن میں سے 56فیصد کرد ترکی،16فیصد ایران،15فیصد عراق اور 6فیصد شام میں  رہتے ہیں،جب کہ لبنان،آرمینیا،کویت اور یورپ سمیت دنیا بھر کے30 مختلف ممالک میں بھی کرد وں کی کثیر تعداد رہائش پذیرہے۔

زیادہ تر کرد ترکی میں  رہتے ہیں جو ترکی  کی آبادی  کا 20 فیصد بنتے ہیں ۔خلافت عثمانیہ کے دور میں کرد نہ صرف خوشحال تھے بلکہ خلافت عثمانیہ کے ماتحت رہنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد سیکولرمصطفی ٰکمال اتاترک نے جہاں ترکی سے اسلام کا جنازہ نکالا وہیں اقلیتوں اور دیگر قوموں  کے ساتھ جڑی ہوئی قدیم اخلاقی حدود وروایات کو بھی پامال کردیا۔چنانچہ مصطفیٰ کمال اتاترک نے عربی کی طرح کردی زبان پر بھی پابندی لگادی،جو کوئی کردی میں بات کرتے ہوئے پکڑا جاتا اسے سزادی جاتی ۔1991تک یہ پابندی برقراررہی،لیکن نجم الدین اربکان اور اردگان کی کوششوں سے اب  کردوں کوترکوں کے برابرحقوق حاصل ہوگئے ہیں۔دوسری طرف ماضی میں بعض کرد استعمار کے آلہ کار بننے لگے،جنہیں مختلف حیلے بہانوں سے شدت پسندی اور ملکی یک جہتی کے خلاف ابھاراجانے لگا۔چنانچہ27نومبر1978 کوترکی میں اشتراکی نظریات کے حامل چندکردوں کواقتدار کالالچ اور کردقومیت کا نعرہ دے کر ابھاراگیا، یوں انہوں نے PKK کے نام سے ایک شدت پسند جماعت کی بنیاد رکھ دی۔اس جماعت کابظاہرہدف ترکی سے کردوں کو علیحدہ کرنااور دنیا بھر کے کردوں کو ایک جگہ جمع کرکے بڑاکردستان بناناہے۔لیکن پس پشت کارل مارکس اورلینن ایسےاشتراکیوں کے نظریات کوفروغ دے کرکردوں اورترکوں کو تقسیم کرنا اورمشرق وسطی ٰ میں خانہ جنگی کی آگ کو بڑھکاناہے۔

 امریکا اور برطانیہ کی چالاکی کی انتہاء دیکھئے کہ ایک طرف اس جماعت کو دہشت گرد ڈیکلئیرکررکھا ہے،دوسری طرف شام میں نہ صرف  اسی دہشت گرد جماعت کےدہشت گردامریکی کمانڈروں کو بریفنگ دیتے ہوئے دیکھےگئے ہیں،بلکہ ترکی کی PKKکے خلاف کاروائیوں میں امریکہ کی بھرپورسپوٹ بھی اسی دہشت گرد جماعت کے ساتھ رہی ہے۔

ترکی اورPKKکا تنازعہ 1978 سے آج تک چل رہاہے۔ اپنے قیام ہی سے PKKنے ترکی کے خلاف دہشت گردانہ کاروایاں کیں جس کے نتیجے میں کئی  ترک اور کردشہری مارے گئے۔ترک حکومت کی طرف سے اس جماعت کے خلاف بھرپورایکشن بھی لیا گیااور کئی باران سے مذاکرات بھی کیے گئے،لیکن عمومااس گروپ کی طرف سے امن معاہدوں کو توڑا جاتارہا۔چنانچہ آخری بار2012 میں طیب اردگان کی کاوشوں سےترک حکومت اورPKKکےمابین امن معاہدہ  ہوا لیکن زیادہ عرصہ چل نہ سکا اور 2015میں اردگان پارٹی کے دوبارہ الیکشن جیتنے کے بعد PKKجماعت مذاکرت سے منحرف ہوگئی اور ترکی کی سلامتی کے خلاف کارروائیاں کرنے لگ گئی۔یہ کہنا کہ ترکی کردوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتا اس لیے PKKکردوں کے حقوق کے لیے ترکی سے جنگ لڑرہی ہے قطعاغلط ہے۔

ترکی سے راقم کے دوست عمرفاروق جواصلاً کردی ہیں ،18زبانوں پرعبوررکھتے ہیں اورکافی عرصہ پاکستان میں بھی زیرتعلیم رہے،ان سے جب ترکی میں رہنے والے کردوں کے متعلق پوچھا توان کا یہ کہنا تھا کہ "ترکی میں کردوں کو وہی  حقوق حاصل ہیں جو ترکوں کو حاصل ہیں۔لیکن چند باغی لوگ کردوں کے نام پر ترکی میں ترک اور کردوں کو تقسیم کرکے خانہ جنگی اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہیں برطانیہ،امریکا،جرمنی اورفرانس سمیت کئی دیگر ملکوں کی حمایت بھی حاصل ہے"۔

یہی وجہ ہے کہ  جب کبھی ترکی نے ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی امریکا سمیت ان ممالک نے ترکی کی ہمیشہ مذمت کی۔بالکل یہی صورت حال عراق میں رہی۔چنانچہ1973میں یہ بات منظرعام پرآئی کہ عراقی حکومت کے خلاف امریکا اور شاہ ایران کے درمیان خفیہ معاہدہ ہے جس کے تحت وہ کردباغیوں کو خفیہ طریقے سے سپوٹ فراہم کرتے رہےاور امریکی خفیہ ادارے اور موساد جیسی تنظمیں بھی اس میں شامل رہیں۔بعدازاں مذاکرات کے بعد کرد باغی ایران اور امریکا چلے گئے۔لیکن وقتافوقتایہ باغی انہیں آقاؤں کی شہہ پر عراق میں انتشار پھیلاتے رہے اور امریکاانہیں سپوٹ کرتارہا،یہاں تک کہ 2003میں امریکا نے عراق پر جنگ مسلط کردی اور صدام حسین حکومت کے خاتمے کے بعد عراقی کردوں کو تیل سے مالا مال خطہ دے کر خودمختارکردیا۔چنانچہ اس وقت شمالی عراق میں کردوں کی علیحدہ حکومت قائم ہے ۔جسے ایک طرف داعش کا خطرہ ہے،دوسری طرف عراقی حکومت اور کرداپوزیشن جماعتوں کاخوف،جب کہ امریکا کی محتاجی الگ ہے،جوشایدہمیشہ رہے۔

بہرحال عراق کوتقسیم کرنے کے بعداستعمار کا اگلا ہدف ترکی اور شام کو تقسیم کرنا ہے۔چنانچہ اس وقت ترکی میں PKKاور دیگر کرددہشت گرد تنظیموں کو امریکا کی طرف سے بھرپور سپوٹ کیا جارہاہے۔جس کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ امریکا PKKکو داعش کے خلاف لڑنے کے لیے مددفراہم کررہاہے۔دوسری طرف گزشتہ ماہ کے آخرسے ترکی اور PKKکے درمیان زبردست قسم کی جنگ چھڑی ہوئی ہےاورترکی امریکا کیPKKکے ساتھ بڑھتی ہوئی قربتوں سے سخت نالاں ہے۔ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی کے صدررجب طیب اردگان15مئی سے 17مئی کواپنے حالیہ  امریکا کے دورے کے دوران یہ معاملہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ ضروراٹھائیں گے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ترکی PKKکواپنے سابقہ مدعاسے دستبردار کراسکے گااور کیا ترکی PKKکوشام میں مضبوط ہونے سے روک پائے گا؟حالاں کہ PKKامریکا، روس اور شامی کردوں کی حمایت سے شام کے بیشتر حصوں میں مصروف ہے اور داعش کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے رہی ہے۔

شامی کردوں کے مطابق ان کا اگلاہدف بحرمتوسط تک رسائی حاصل کرناہے۔جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ترکی شامی کردوں اور PKKکردباغیوں کے گٹھ جوڑسے سخت پریشان ہےا ور ان دونوں کے خلاف مل کرآپریشن کررہاہے۔اس سلسلے میں عراقی کردحکومت کے ساتھ بھی ترکی نے مذاکرات کیے ہیں تاکہ وہ PKKکوعراقی کرد حکومتی علاقوں سے بے دخل کرے،بلکہ گزشتہ سال ان علاقوں میں رپوش PKKباغیوں پر ترکی نے بمباری بھی کی۔یہاں ایک اور سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ  کیا عراق،ایران ،ترکی اورشامی کرد مشترکہ طور پر ایک ہی کردستان کا مطالبہ کرتے ہیں ؟چاروں ملکوں میں بسنے والے کردوں کی تہذیبی وثقافتی کلچراورسیاسی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سارے کرد مشترکہ طور پر متحدہ کردستان کے حامی نہیں ہیں۔کیوں کہ ان کی زبان اور دیگر ثقافتی روایات ایک دوسرے سے الگ ہیں۔چنانچہ عراق کردوں میں 1973سے 2006 تک مسلسل اختلاف چلاآتارہا،نوبت یہاں تک بھی پہنچی کہ عراقی  کردوں کے لیے دوعلیحدہ علیحدہ کرد ملک بنادیے جائیں۔اسی سے یہ بات اچھی طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ ترکی میں PKKجو کردوں کے نام پر کردستان کا مطالبہ کررہی ہے اس میں کتنا دم ہے۔کیوں کہ ترکی کے بیشتر کرد PKKکے مخالف اور ترک حکومت کے ساتھ ہیں۔پھر کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے جب کہ PKKاشتراکی نظریات کی حامل ہے جس کے خود کردسنی خلاف ہیں۔بہرحال مستقبل قریب میں استعمار کا ہدف عراق کی طرح ترکی میں بھی کردستان بنانے کا ہے،لیکن اگر ترکی اپنے سلامتی کی خاطر استعمار کے سامنے ڈٹارہااور کردوں کو ترکوں کے برابرحقوق دیتارہاتو استعمار کا ترکی کو تقسیم کرنے کاخوا ب  شرمندہ تعبیر  ہوگا،نہ مشرق وسطیٰ کو لسانیت اور قومیت کے نام پرمزیدتقسیم کرکے کردستان بنائے جاسکےگا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -