ڈھیں چھپاکی ڈھم ڈھم خط

ڈھیں چھپاکی ڈھم ڈھم خط
ڈھیں چھپاکی ڈھم ڈھم خط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بھیا میرے یہ جمہوریت ہے کوئی یش چوپڑہ کی فلم نہیں کہ کچھ بھی ہو اینڈنگ شاندار ہوگی اور پھر جمہوریت بھی خالص پاکستانی، دیسی گھیو ورگی۔ پنجاب اسمبلی کے آخری اجلاس میں جو ہوا وہ ہمارے پانچ سال کی کارکردگی کا نچوڑ تھا۔

عوامی پیسوں سے عیاشی کا شاندار اختتام۔ اگر آپ مجھے خلائی مخلوق کا روحانی مرید نہ سمجھیں تو ذرا بتا دیں بھوکے مرنے والے عوام کی خون پسینہ بلکہ صرف پسینہ کی (خون ہوگا تو اس کا ذکر کروں) کمائی پر چلنے والی اسمبلیوں نے پانچ سال ایک دوسرے کو شرم و حیا کے طعنوں، گالیوں اور عیب چھنانے نکالنے کے علاوہ کیا کیا؟ پنجاب اسمبلی کے اختتامی اجلاس میں کاش دونوں جانب سے جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کا شکریہ ادا کرنے کی قرارداد منظور کی جاتی۔

سنتا سنگھ غصے سے بولا: تیری روز روز کی فرمائشوں سے تنگ آ گیا، خودکشی کرنے لگا ہوں۔ سنتا کی بیگم بولیں: مرنے سے پہلے دو تین نئے سوٹ سلا دو، عدت بھی تو گزارنی ہے۔ پنجاب اسمبلی نے جاندے جاندے بھی کوئی اچھا کام نہیں کیا۔

لو جی ابھی ہم پنجاب اسمبلی کا رونا رو رہے تھے کہ سندھ اسمبلی میں جوتیاں چل گئیں۔ پانچ سال میڈیا کو اپنے گرد گھمانے والی نصرت سحر عباسی نے اجلاس میں جوتی اتارنے اور دکھانے کا لائیو مظاہرہ کر ڈالا اور بے چاری شہلا رضا انہیں ایوان سے نکالنے کی دھمکی ہی دیتی رہ گئیں۔

نصرت شہلا لڑائی نہ ہوئی ساس بہو کا ایپی سوڈ ہوگیا۔

شہلا رضا سارجنٹ ایٹ آرمز کو بلاتی رہیں لیکن نصرت عباسی دھڑلے سے بیٹھی رہیں۔ پنجاب اور سندھ اسمبلی میں جو ہوا وہ ایک بہترین مثال ہے کہ 5 سال میں ان اسمبلیوں کے سپیکر اور ارکان اپنا رویہ جمہوری نہ بنا سکے، ووٹ کو عزت دو کا مطلب صرف میاں صاحب کی جانب سے چاند ماری نہیں

کاش کوئی ان ارکان کا گریبان نہ سہی دامن کو ہی پکڑ کر پوچھ لے آپ کو ووٹروں نے عزت دی۔ آپ نے ان کے ووٹ کو کیا عزت دی یعنی یا شیخ ذرا اپنے ول ویکھ۔

روزے میں کالم لکھنا اس لئے آسان ہے کہ آپ کے پیٹ، دماغ اور ضمیر پر بوجھ کم ہوتا ہے۔ جسم میں تازگی نہ ہو پر قلم میں روانی رہتی ہے۔ ویسے بھی گنجی نہائے کیا اور نچوڑے کیا۔

ہم کون سے سرے محل، ایون فیلڈ یا بنی گالہ کے رہائشی ہیں، جہاں صرف رحمتیں چھن چھن برستی ہیں۔ شدید گرمی، مٹی گارے، ٹین کی چھتیں، گرمی اور روزے۔ باقی ہمارے پاس کون سے اتنے پیسے ہیں کہ ہم سیب، کیلا، امرود، خربوزے کھانا تو کیا ان کا دیدار ہی کرلیں۔

بھیا میرے اللہ نے کہا ہے یہ رحمتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے، آپ غریبوں کی آہوں کو رحمت سمجھ بیٹھے۔ پھر آپ کہتے ہیں ملک میں اور ہمارے گھروں میں برکت نہیں رہی۔ رمضان میں جب آپ دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے کی حرص میں پاگل ہو جائیں گے۔

غریبوں کی ہمدردی کے مہینے میں انہیں پھلوں سے ترساویں گے۔ تو آپ کیا سمجھتے ہیں باقی گیارہ مہینہ آپ کو آسانیاں ملیں گی۔ جیسا منہ ویسی چپیڑ جب آپ کو اس بابرکت مہینے میں غریب آدمی پر ترس نہیں آتا تو پھر آپ پر ایسے ہی حکمران مسلط ہونگے۔ جو آپ کو بارہ مہینے لوٹیں۔ آپ ٹنڈے ہوسکتے ہیں، لیکن وہ ان کے دونوں ہاتھ سلامت رکھتا ہے اور لٹیروں کے معاشرے میں ڈاکو ہی حکمران ہونگے۔

ڈاکٹر نے بنتا سنگھ سے کہا آپ کا دانت نکالنا پڑے گا، تین سو روپے لگیں گے۔ بنتا بولا یہ لو پچاس روپے، بس تم اسے ڈھیلا کر دو، کڈھ میں آپ لاں گا۔ تین سو روپے دینے کے بجائے ہم پچاس میں کام نکالنے کے عادی ہیں۔

لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ خود غرضی دولت کی ہوس اور اپنی غلیظ خواہشوں کے اسیروں کو نہ دنیا میں سکون نہ آخرت میں راحت ملے گی۔ بڑی تجوریوں والوں کو کیا کہنا، یہاں تو چھوٹے چھوٹے کھیسوں والے مان نہیں۔

پھل، سبزی، گوشت، لباس سب اس رحمت کے مہینے میں غریبوں کیلئے خواب، ساری دنیا میں ذلالت اور رسوائی الگ۔ مقابلہ کرتے ہیں ہم یہود و نصریٰ کا۔ وہ اپنی عید سے پہلے سیل لگاتے ہیں کہ سب خوشیوں میں شریک ہوں اور ہم اہتمام کرتے ہیں کہ رمضان اور عید سفید پوشوں کیلئے امتحان بن کر رہ جائے۔

اور آخر میں ایک خط شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ خط نجانے کس زبان میں لکھا گیا لیکن میں نے ناسا والوں کے ماہرین سے اسے ڈی کوڈ کرایا ہے، آپ خود پڑھ لیں۔

زمین گولے کے واسیو۔ ہماری طرف سے آپ کیلئے ’’امباں‘‘ ایک پپی ادھر کی اور ’’امباں‘‘ ایک پپی ادھر کی۔ بات کچھ یوں ہے کہ ہم خلا میں رہنے والے واسی کچھ دناں سے بہت پریشان ہیں۔

سنت ہیں کہ آپ کے گولے کے ایک گول گول سے دھبڑدھوس (لیڈر) نے ہمکا چیلنج کیت ہے۔ ہم نے اپنے تمام گڑپ گڑول (سائنسدانوں) سے اس لیڈر کا ڈھیں پچک (تحقیقات/تجزیہ) کرایا کہ اناں نے ہم خلائی مخلوقاں کو کیوں چیلنج کیا۔ ہم نے اپنی ڈھیں پٹاس (کابینہ) سے بھی مشورہ کیا۔ سچ بولے کہ ہم سب پریشان ہیں۔

آپ کے گولے کے میاں نواز ہماری ڈھیں پچک (تحقیق) کے مطابق سب لوکاں نے ہمیں کہا ہے کہ ہم ان سے پنگا نہ لیں، کیونکہ وہ انتہائی مہان شکتی شالی ہیں۔ ہماری خلا کے سب سے بڑے کھچڑکھیں (دولتمند) نے ہی کہا ہے کہ ان کے پاس بھی وہ ٹیکنالوجی نہیں جو میاں صاحب کے پاس ہے۔

ہمارے گولے کے سب سے بڑے شکتی شالی زنٹا غضیل (ماہر نفسیات) کہتے ہیں کہ ہم میاں صاحب سے معافی مانگ لیں، کیونکہ انہیں بیس کروڑ جونگیوں (عوام) کو مسلسل بیوقوف بنانے کا فن آوت ہے۔

ان کے پاس ایسا آلہ ہے کہ جس تھالی میں کھاوت، اس ماں چھید کر دویت ہیں۔ ہماری میاں صاحب سے بنتی ہے۔ آپ ہمکا چیلنج کے بجائے اب کسی سونے کی کوٹھریا میں بیٹھ کر رام رام کریں، کیونکہ جن کا آج وہ گالیاں دیوت ہیں، انہیں کی گود میں تو وہ شروع سے کھیلت ہیں اور جس جونگیوں (عوام) کے آج وہ قائد انقلاب بنت ہیں، کبھی ان کی جھگیوں بھنکتی مکھیوں میں سسکتی سانسوں کے درمیان دو منٹ گزار کے دیکھیں۔ انہیں انقلاب کا مطلب سمجھ آجاوت ہے۔

ہم مانت ہیں کہ ضیاء الحق کی گھڑگھڑگھٹ (جسمانی شکل و صورت) ہم جیسی تھی پر وہ تو خود ان کے سٹوڈنٹ رہے ہیں۔ ہم نے جوڈ میں پچک (تحقیقات) کی ہیں، وہ تو پچھلے 35 سال سے خلائی مخلوق کے سر پر ہی حکمرانی کرتے یہاں تک پہنچے ہیں۔

وزیر خزانہ سے لے کر وزیراعظم تک کا سارا سفر انہی پر تکہ رکھا۔ لہٰذا ہماری بنتی ہے کہ آپ اپنے کو سمجھائیں اپنی لڑائی خود ہی لڑیں اور اپنے اٹکل پچو بیانات سے اپنے چھوٹے بھائی کا رستہ کھوٹہ نہ کریں۔ والسلام

ڈھیں چھپاکی ڈھم ڈھم (وزیر اطلاعات خلائی مخلوق)

مزید : رائے /کالم