ماہ صیام میں ہماری ذمہ داریاں 

ماہ صیام میں ہماری ذمہ داریاں 
ماہ صیام میں ہماری ذمہ داریاں 

  

ہمارے ملک میں جہاں ایک طرف مسلمان ماہ رمضان میں فیوض و برکات سمیٹنے میں لگے ہوتے ہیں وہیں دوسری طرف نا جائز منافع خور اور گراں فروش روزہ داروں کو لوٹنے میں مگن دکھائی دیتے ہیں ،جیسے ہی رمضان المبارک شروع ہو تا ہے یہ لوگ عوام کو لوٹنے کیلئے سر گرم ہو جاتے ہیں اور عوام کی جیبیں کا ٹنے کیلئے اپنی چھریاں تیز کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ بعض دوکاندار حضرات ماہ صیام شروع ہوتے ہی 10روپے کی چیز 20روپے میں اور 50روپے کی چیز100روپے میں فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔دوسرے ممالک میں جب کوئی مذہبی تہوار آتا ہے تو اشیائے خوردونوش کے نرخوں میں کمی کر دی جاتی ہے تاکہ عام آدمی بھی آسانی کے ساتھ اپنا مذہبی فریضہ سر انجام دے سکے اور تو اور غیر مسلم ممالک میں بھی رمضان المبارک کے احترام میں اشیائے خوردو نوش سستی کر دی جاتی ہیں تاکہ مسلمان اپنا مذہبی فریضہ احسن طریقے سے سر انجام دے سکیں ،لیکن ہمارے ملک کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں جب بھی کوئی مذہبی تہوار آتا ہے مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہو جاتا ہے ۔

دوکاندار ،پھل فروش ،خوانچہ فروش،ہر کوئی منہ مانگے دام وصول کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ماہ صیام میں شیطان کو تو قید کر لیا جاتا ہے لیکن وہ اپنے پیچھے اپنے چیلوں کو چھوڑ جاتاہے ،جو ماہ صیام شروع ہوتے ہی لوٹ مار کا بازار گرم کر دیتے ہیں ،یہ لوگ ماہ صیام کو حرص دولت کی تکمیل کیلئے ایک مناسب موقع تصور کرتے ہیں بحثیت مسلمان اور ایک ذمہ دار قوم ہمارا مذہبی اور اخلاقی حق تو یہ بنتا ہے کہ ہم اس ماہ مبارک میں اشیاء خوردونوش کے نرخ کم کر دیں تاکہ روزہ دار آسانی کے ساتھ اپنی ضروریات زندگی کی اشیا ء خرید سکیں اور اپنا مذہبی فریضہ با آسانی سر انجام دے سکیں ،لیکن ہمارے ملک میں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے ۔یوں تو منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی عمل میں لانے کے حکومت بھی اعلانات کرتی رہتی ہے مگرمنافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو کنٹرول کرنے کیلئے سخت اقدامات کرنے کے حکومتی اعلانات اور دعوے بس اعلانوں اور دعووں تک ہی محدود رہتے ہیں عملاً کچھ ہوتا نظر نہیں آتا اور منافع خور اپنی من مانیاں جاری رکھتے ہیں شاید یہ لوگ اس قدر با اثر ہوتے ہیں کہ قانون بھی ان پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتا ہے ۔

رمضان المبارک میں عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے حکومتوں کی جانب سے رمضان پیکج بھی دیے جاتے ہیں اور رمضان بازار بھی لگائے جاتے ہیں ان بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام بازاروں کی نسبت کم ہوتی ہیں لیکن یہ اشیا ئے خوردونوش غیر معیاری ہوتی ہیں ،حالانکہ اشیاء کے نرخ اور اشیاء کی کوالٹی چیک کرنے کیلئے مختلف ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں جو بازاروں میں دورے کر کے اشیاء کے نرخ اور معیار چیک کرتی رہتی ہیں لیکن ان سب کے باوجود ان بازاروں میں اشیائے خوردونوش کے معیار کو بہتر نہیں بنایا جاسکا،اس کی ایک اہم وجہ مجسٹریسی نظام کا نہ ہونا بھی ہے جس کے پاس موقع پر جزا و سزا کا اختیار ہوتا تھا۔

حکومتی اقدامات اپنی جگہ لیکن بحیثت مسلمان قوم ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم اس ماہ مقدس کا احترام کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تاجر برادری بھی اپنا منافع انتہائی کم کر کے سخی ہونے کا ثبوت دے ۔رمضان المبارک ہمیں ایثاروقربانی کا درس دیتا ہے ،صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نا م روزہ نہیں ہے ۔ امسال کی طرح اس بار بھی ماہ صیام سخت گرمی میں شروع ہوا ہے ، یہ بھی اللہ تعالی کی طرف سے اپنے بندوں کا امتحان ہے اور ہمارے پاس یہ ایک نادر موقع ہے کہ ہم نہ صرف اس گرم ترین موسم میں روزے رکھ کر زیادہ سے زیادہ اللہ تعالی کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹیں بلکہ اپنے ارد گرد موجود ضرورت مندو ں کی ضروریات کو بھی جہاں تک ممکن ہو سکے پوری کرنے کی کوشش کریں ،اس ماہ مبارک میں ہمیں اپنے اردگرد بسنے والے ان لوگوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے جو اپنی غربت کی وجہ سے اپنی ضروریات زندگی پوری نہیں کر پاتے۔

ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں دے پاتے ،کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو سحری کے وقت روزہ تو کسی طرح رکھ لیتے ہیں لیکن ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ افطاری کے وقت کچھ کھانے کو بھی ملے گا یا نہیں ،گھر میں دسترخوان سجاتے وقت ان جیسے مفلس و مجبور لوگوں کا خیال بھی رکھیں ،اپنے بچوں کو اچھے کپڑے دلاتے وقت ان لوگوں کے بچوں کا بھی خیال رکھیں جو اپنے بچوں کو کپڑے لے کر دینا تو درکنار اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے ان کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں دے پاتے ۔ اپنے ارد گرد غربا اور مساکین کا خیال رکھنا صرف ہماری مذہبی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ قومی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، یہ ہمارے پاس خدا کی طرف سے عنایت کیا گیا ایک سنہری موقع ہے کہ ہم ایک طرف تو اس ماہ مبارک کے فیوض و بر کات سے لطف اندوز ہوں تو دوسری طرف غریب لوگوں کا آسرا بن کر دنیا و آخرت میں خدا کے حضور سر خرو ہو سکیں ۔ 

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -