قومی اسمبلی کا دورہ

قومی اسمبلی کا دورہ
قومی اسمبلی کا دورہ

  


گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں وومن کا کس کے لیگل ہیڈ ذیشان صاحب کی دعوت پر قومی اسمبلی کا دورہ کیا 12سال کے بعد قومی اسمبلی دوبارہ جانے کا اتفاق ہوا گوکہ یہ دورہ ایک مختصر دورہ تھا مگراِس میں کافی کچھ نیا دیکھنے کو مِلا۔ اس دورے کی میرے لئے خاص بات میری 12سالہ بیٹی ایشال حامد کا ساتھ تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہمیں پاکستان کو مورثی سیاست سے نجات دلانی ہے تو اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی سیاست میں دلچسپی لینے کی ترغیب دینی چاہیے۔ اِ سی مقصد کے تحت میں نے اس دورے میں اپنی بیٹی کوساتھ لیا جبکہ اُسے پہلے ہی برطانوی جمہوریت سکول میں پڑھائی جا چکی ہے اور تمام برطانیہ کے سکولوں میں پرائمری میں ہی بچوں کو برطانوی جمہوریت کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ اِسی وجہ سے ایشال کو پارلیمانی نظام میں ایوانِ بالا اور ایوانِ زیر یں کا مکمل علم تھا۔ ہم جب اسمبلی کے اجلاس میں پہنچے تو وفاقی وزیر علی محمد خان حکومتی اقدامات کی تفصیلات بتا رہے تھے ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کی طرف سے وقتاً فوقتاً لقمے دئیے جار ہے تھے۔ اجلاس میں حکومتی بینچوں سے مراد سعید، شیریں مزاری، علی محمد خان نمایاں تھے جبکہ اپوزیشن کی طرف سے آصف زرداری، شازیہ مری، جاوید لطیف، سابق وزیراعظم پرویز اشرف شریک تھے۔

اجلاس میں بہت ساری قرار داد یں پیش کی گئیں لیکن تین اہم قانون سازی کے بل پیش کئے گئے جو بہت اچھے بل تھے لیکن تینوں کے تینوں مسترد کر دئیے گئے۔ پہلا بل بوگس چیک کے حوالے سے تھا جس میں تجویز دی گئی کہ چیک ڈس آنر یا مستر د ہونے پر موجودہ سزاکا طریقہ کار مرحلہ وار کرکے اُن کو چیک کی رقوم سے منسلک کر دیا جائے اور مزید جرمانہ بھی شامل کیا جائے گو کہ پچاس ہزا ر روپے کے چیک پر تھوڑی سزا یعنی 6ماہ یا اس سے زیادہ جبکہ لاکھ سے لیکر 10لاکھ روپے تک تین سال کی سزا اور 10ہزا روپے سے لیکر پانچ لاکھ تک جرمانہ بنیادی رقم کے علاوہ کیا جا سکے گا اِسی طرح بڑے چیکوں یعنی دس لاکھ سے کروڑ یا اس سے زائد رقم پر تین سے سات سال تک کی قید اور کافی زیادہ جرمانے شامل ہیں۔

اِس بل کی علی محمد خان صاحب نے مخالفت تو نہیں کی لیکن معاملہ اسمبلی کی کمیٹی کو بھیج کر مزید نکھار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ میرے نزدیک مرحلہ وار سزاکے تعین کا طریقہ کار بہت اعلیٰ تجویز ہے اِ س سے جہاں بڑے بزنس مین چیک دیتے وقت بہت احتیاط کریں گے اسی طرح اگر کسی شخص سے چھوٹی رقم کا انتظام نہ ہو اور بحالت مجبوری چیک ڈس آنر ہو جائے تو اُسے غیر ضروری سزا کا سامنانہ کرنا پڑے۔

دوسرا بل ڈرائیونگ لائسنس کی عمر میں کمی کے حوالے سے تھا جسے ہماری خاتون رکن اسمبلی نے بل پیش کرتے ہوئے ڈرائیونگ کی عمر لرننگ لائسنس کیلئے 18سال سے کم کرکے 16سال کرنے کی تجویز دی اور اُس کی توجہیہ یہ بیان کی کے ہمارے ہاں بالعموم بچے 15سال کی عمر سے ہی ڈرائیونگ شروع کر دیتے ہیں اور اُس میں اکثر اوقات والدین کی رضا مندی بھی شامل ہوتی ہے۔ اِسی بل کی تمہید میں اُنہوں نے یورپ امریکہ اور بالخصوص انگلینڈ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اِن بیشتر ممالک میں لرننگ لائسنس کی عمر 16سال کر دی گئی ہے لہذا پاکستان میں بھی اِس کو نافذکیا جائے۔ اس بل کو حکومتی نمائندوں نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اس سے کم عمر لائسنس یافتہ نوجوانوں کا ایک بہت بڑا سیلاب آجائیگا اور سٹرکوں پر مزید ایکسیڈنٹس ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے اس بل کو اکثریت کی رائے سے مسترد کر دیا جائے۔ اِس بل میں چونکہ یورپ باالخصوص انگلینڈ کا ذکر کیا گیا ہے۔ لہذاوہاں کے شہری ہونے کی حیثیت سے کچھ حقائق کی تصیح کرنا ضروری ہے۔

بلا شبہ انگلینڈ میں لرننگ ڈرائیونگ لائسنس 16سال کی عمر میں حاصل کیا جا سکتا ہے مگر چونکہ آپ لرنر سیکھ رہے ہوتے ہیں لہذا آپ کو کسی بھی حالت میں اکیلے گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ ایک مکمل لائسنس یافتہ کاساتھ ہونا ضروری ہے اور آپ دونوں کا انشورنس کا حامل ہونا بھی لازم ہے اور اِس انشورنس میں آپ کی غلطی کی صورت میں دوسر وں کے بھی تمام نقصانات کی ذمہ داری آپ کی انشورنس کمپنی پر ہوتی ہے اِس لئے انگلینڈ میں لرنر ڈرائیور کیلئے گاڑی چلانا کافی دشوار ہوتا ہے ماسوائے موٹر ٹریننگ سکول کے کوالیفائیڈ انسٹرکٹر کے ساتھ۔ اِ سی لئے میری ناقص رائے میں پاکستان میں لائسنس کی عمرکم کرنے سے زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ جیسا کہ پاکستان میں ہوتا ہے یعنی رعایت کا غلط فائدہ اُٹھا یا جاتا ہے کچھ بھی ہوابھی 18سال کی پابندی سے ڈرائیور اور اُنکے والدین ایک نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ ایک غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔ اس طرح کے بل پیش کرنے پر معزز رکن اسمبلی سے درخواست کرونگا کہ یورپ اور انگلینڈ کا حوالہ دینے سے پہلے اُس موضوع کے بارے میں مکمل معلومات حاصل رکھا کریں۔

تیسرا بل پاکستان میں ہونیوالی کم عمر لڑکیوں کی شادی پر تھا گو کہ یہ بل پچھلے کچھ سالوں سے مختلف مواقعوں پر زیر بحث آیا ہے۔ مگر ہر گزرتے دِن کے ساتھ اِس کی ضرورت زیادہ محسوس کی جا رہی کہ کم عمر کی شادیوں کو روکنے کیلئے کم از کم عمر کی حد 18سال کر دی جائے اور یہ حد لڑکوں اور لڑکیوں دونوں پر نافذ ہو۔ اِس بِل کو پیش کرتے وقت لڑکیوں کی کم عمر میں شادیوں کے اعدادو شمار بھی پیش کے گئے جس میں سندھ کے دیہی علاقے اور کے پی کے جنوبی پنجاب بالخصوص قابل ذکرتھے۔

سب سے زیادہ حیرت اُس وقت ہوئی جب یہ بل منظور ہونے کی بجائے اکثریت سے مستردکر دیا گیا کہ اِس میں کوئی قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ مثلا ً کہ لڑکیوں میں بلوغت 18سال سے پہلے آجاتی ہے وغیرہ وغیرہ سب سے زیادہ مایوسی اورحیرت اُس وقت ہوئی جب اِ س بل کی مخالفت میں اکثریتی تعداد تحریک انصاف کے اراکین تھے۔ گویا کہ جب حکومت میں نہیں تھے تو مسلم لیگ اور پی پی پی کے ادوارمیں کم سنی کی شادیوں کو جرم قرار دیتے تھے اور اِس پر جلد از جلد قانون سازی کے حق میں تقریریں کی جاتیں تھیں۔ مجھے اس بل کے مسترد ہونے پر کافی مایوسی ہوئی جب اس بل کو جلد از جلد نافذالعمل ہو نا چاہیے کیونکہ پاکستا ن میں بہت ساری معاشی نا انصافیوں میں سے ایک نا انصافی لڑکیوں کی کم عمری میں زبردستی کی شادی بھی ہے اور تمام پڑھے لکھے طبقے کی یہ رائے ہے کہ اس معاملے پر موثر قانون سازی ہونی چاہیے دورے کے آخر میں دومن کاکس کا دورہ بھی کرایا گیا اوراُس آفس کے مقاصد اور کامیابیوں سے آگاہی ہوئی میری بیٹی نے اس میں نہایت دلچسپی لی اور پاکستان میں عورتوں کیلئے ہونیوالی قانون سازی پر بہت خوشی کا اظہار کیا گو کہ برطانیہ میں رہتے ہوئے ہمارے بچوں پرعمومی تاثرعورتوں کے حقوق کی صلبی اور عورتوں سے نا انصافی کا ہی ہے۔ میرا کامل یقین ہے کہ اگر ہم اپنے بچوں کو ملکی سیاست کی اور جمہوری عمل کی اچھائیوں سے روشناس کرواتے رہیں تو یہ پاکستان اور جمہوریت کی در حقیقت بہت بڑی خدمت ہے ہمیں اپنے معاشرے میں سیاسی شعور کو زیادہ سے زیادہ اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی ساتھ تمام سیاستدانوں سے بھی گزارش ہے کہ اپنے لب و لہجے اور گفتگومیں بھی جمہوری اقدار کو ملوظ خاطر رکھیں تاکہ آنیوالی نسلیں ایک بہتر جمہوری مستقبل کی علامت بنیں اور پاکستان پھلتا پھولتا رہے۔ آمین۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید : بلاگ