احتساب سے قبرستان تک!

احتساب سے قبرستان تک!
احتساب سے قبرستان تک!

  


اگر قانون و احتساب کا یہی نین نقشہ رہا تو اگلے ایک ہزار سال کے اندر بھی پاکستان میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی!ایک عمران خان، جو اپنے منشور میں سچا بھی ہو تو کیا،دس ہزار عمران خانوں کی حکومت آتی جاتی رہے تو لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ میں کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ موجودہ طریق ِ احتساب تو گویا کالے دھن کو سفید دھن میں ڈھال لینے یا دینے کا ایک آئینی سانچہ ہے۔ پاکستان، کہا جاتا ہے، دو قومی نظریئے کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا تھا، مگر موجودہ پاکستان میں بجائے خود دو قومیں آباد ہیں: ایک جو زندہ تو ہے، لیکن کسی طرح بھی زندگی نہیں رکھتی!زندگی کے بغیر زندہ! دوسری، زندگی پاﺅں میں گھنگھرو باندھ کے جس کے روبرو رقص کرتی پھرتی ہے۔

ایک کثیر دوسری قلیل، بلکہ اقل!پاکستان میں، حق اور حقیقت کی رو سے، ہر شخص ہر حربے سے مال بنانے میں لگا ہے۔ پاک وطن کا کوئی سچا اور حقیقی خیر خواہ نہیں! یتیم بچہ اور سوتیلے ماں باپ!! فی الواقع سب پاکستان کی سلامتی و بقا کے کھلے یا خفیہ دشمن ہیں۔ فرد، ملک سے زیادہ مضبوط! دیس کا وفا دار کون ہے، اور غدار کون؟ کون بیگانہ یا یگانہ ہے؟؟ ایک لوٹ سیل کا ماحول و منظر ہے،اور بس!ایک وقت تھا کہ دوستی میں منافقت ہوتی تھی، اسے کیا نام دیا جائے کہ دشمن بھی خالص نہیں رہ گئے۔دوستی میں منافقت؟ وفا نما جفا! وہ جو اپنے نہیں ہوتے تھے، اپنے بن کر دکھائی دیتے! اب دشمن کہ بباطن دشمن کے دوست ٹھہرے، وہ بھی بظاہر دشمن بنے پھرتے ہیں،دشمنی کی آڑ میں دوستی!

لوگو! میری بات کو سچ جانو اور مانو! پاکستان میں دو قومیں آباد ہیں۔ ایک، جس کا کچھ بھی اپنا نہیں۔

دوسری، جس کا سب کچھ ہی اپنا ہے۔ ایک جسے زندگی بغرض ماتم دُنیا میں لائی، دوسری جیسے شادی پر آئی ہوئی ہے۔ یہ نظام رحمن نہیں، شیطان کا بنایا ہوا ہے۔ عزت و ذلت کے مادی تصور کا خالق خدا ہر گز نہیں۔اگر آپ ایمان اور درد مند دِل رکھتے ہیں تو جانا جائے کہ اسے مٹانا یا مٹانے کی جدوجہد میں ہاتھ بٹانا از فرائضِ دین ہے۔ یہ کوشش کون کر رہا ہے؟

موجودہ قانون و نظام میں رہتے ہوئے احتساب، عمران حان کے بس کا روگ نہیں، اس امر و عمل کے لئے اسلامی مزاج و نظام ناگزیر ہے۔ نہیں تو خالص مادی اعتبار سے سوشلزم کا غلغلہ! خلافت ِ راشدہ میں کچھ وقفے کے بعد حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز جلوہ آرائے حکومت ہوئے۔ سیدنا حضرت امام حسنؓ کے بعد چھٹے خلیفہ ¿ راشد جنہیں عمر ثانی کے نام سے یاد کیا کرتے ہیں، وہ آغازِ خلافت کی اگلی صبح خانہ¿ خدا میں بیٹھ گئے اور خاندان بنو اُمیہ اور دیگر امراءکے اثاثوں کی بابت بے اصل اسناد پھاڑ کر انہیں بحق بیت المال ضبط کر لیا تھا۔ جائیدادیں جرائم کا جغرافیہ ہوتی ہیں۔اسلامی یا حقیقی احتساب کی ابتدا گھر سے ہوا کرتی ہے۔

اب کوئی عمرؓ کہاں ہو گا؟ ریاست ِ مدینہ کی باتیں سُن سُن کر عوام کے دِل میں یہ اُمنگ پیدا ہو گئی ہے کہ کاش! عمرؓ نہیں تو ایسے میں عمرؓ کا سایہ ہی میسر آ جائے۔ یہ ظلم جو برسوں سے ملک میں برپا ہے، روایتی قانون سے قطعی طور پر ختم نہیں ہو گا۔غیر روایتی ہتھکنڈوں کی خاطر غیر روایتی قانون درکار ہو گا۔ایک بے راہ رو معاشرے میں ”تبدیلی“ کے لئے درہ¿ عمر یا ظلِ عمرثانی چاہئے!پاکستان اپنے نظریے اور قومی خوابوں کے لحاظ سے واقعی ریاست مدینہ کی مانند ہے۔ مدینہ منورہ کی جانشین اور نظریاتی ریاست! مگر اسے جو حکمران ملتے رہے، وہ کسی طور بھی اس کے اہل نہیں تھے۔ الاماشاءاللہ ، ان کا حدود و اربعہ ایسا ویسا ہی ہے۔ کیا ہر بار ہم سے دھوکا ہو جاتا ہے، یا ہم خود دھوکا کھانے کے عادی یا اس کا حصہ ہیں؟میرا خیال ہے کہ عوام بھی بے گناہ نہیں۔انہوں نے ہر یزید وقت کے ہاتھ میں ہاتھ اور ”شمرانِ کوفہ“ کا ساتھ دیا ہے!

لوگو! آخر ہم کب تک دھوکا کھاتے اور برداشت کرتے جائیں گے؟ہر ایک فرد کو بغور سوچنا ہو گا۔معاشر ے میں مثبت ”تبدیلی“ کے لئے پُرامن جدوجہد ہر ایک پر فرض ہے۔جب کوئی شخص کچھ کر سکتا ہے اور نہیں کرتا، یا ظلم کے خلاف بول سکتا ہے اور نہیں بولتا، تو وہ باقاعدہ شریک جرم ٹھہرتا ہے۔اپنے ملک میں وہ کون سا ظلم ہے، جو نہیں ہو رہا؟ اس کے باوجود ہم ”زندہ باد“ کے فلک شگاف نعرے لگاتے پھرتے ہیں!سوال یہ بھی ہے کہ ہم تبدیلی کے آرزو مند بھی ہیں کہ نہیں؟آخر اس فرسودہ نظام کو کب تک سینے سے لگائے پھرتے رہیں گے؟ ملکی صورتِ حال آتش فشاں کی مانند ہے، کسی وقت بھی لاوا اُبل سکتا ہے،لیکن یاد رہے کہ غیر مربوط، غیر منظم اور بے سمت تبدیلی، تبدیلی نہیں، افراتفری ہوتی ہے۔

اگر ہم واقعی معاشرے اور معاشرتی اقدار و روایات کو بدلنا چاہتے ہیں تو نوجوانانِ ملت کے دِل و دماغ میں بیج بونا لازم ہے، اس کے لئے کوئی شارٹ کٹ راستہ نہیں،نیچے سے کام شروع کرنا ہو گا۔اگر ملک میں معاشی اور سیاسی تبدیلی نہیں آتی تو جان لیجئے کہ کسی روز سب کچھ بیٹھ جائے گا۔کسی کو محض مصنوعی سانسوں کے ساتھ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔حقیقی پاکستانیوں کو، جو صرف قبرستانوں میں حصہ دار ہیں، سنجیدگی سے غورو فکر کرنا ہے۔یہ نظام اوپر سے آ کر کسی نے نہیں بدلنا، کوئی کسی کے لئے کچھ بھی نہیں کرتا۔ کیا آپ زندگی کے بغیر زندہ رہنا چاہتے ہیں؟ یا ہمیشہ رہیں گے؟ ظلم تو یہ ہے کہ اب امراءو غربا کے لئے قبرستان بھی الگ الگ بنتے جا رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم