وقت کے خصوصی غلام (1)

وقت کے خصوصی غلام (1)
وقت کے خصوصی غلام (1)

  


ویسے تو سب مخلوقِ خدا وقت کی غلام ہے لیکن تین پیشے ایسے ہیں جو وقت کے خصوصی غلام کہے جا سکتے ہیں.... وہ پیشے ڈاکٹری، سکول ماسٹری اور مجسٹریٹی (یا ججی) ہیں.... پہلے ڈاکٹری کو لیتے ہیں۔ اس پروفیشن پر وقت کا سایہ بہت گہرا پڑتا ہے۔ اگر یہ کہوں تو شائد زیادہ بہتر ہو گا کہ طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ڈاکٹر حضرات کے اوقاتِ کار کے دوران ان کے مزاجوں میں تبدیلی آتی جاتی ہے۔ صبح کے وقت ان کا مزاج خنک ہوتا ہے، دوپہر کو سورج کی طرح گرم اور عین نصف النہار پر جا نکلتا ہے اور رات ہونے کو آتی ہے تو ڈاکٹری طبیعت بھی مائل بہ آرام و سکون و خواب ہوتی نظر آتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی نوٹ کیا ہے کہ ہر ڈاکٹر کسی سرکاری ہسپتال (یا اپنے کلینک میں) اپنا پہلا مریض بڑے انہماک سے دیکھتا ہے، اس کی بات توجہ سے سنتا ہے، اس کی سابقہ فائل غور سے پڑھتا ہے، اس کی سابقہ ادویات جو وہ کھا رہا ہوتا ہے، اس کا جائزہ بڑی تازہ طبعی کے ساتھ لیتا ہے اور مریض کے ساتھ اس کی گفتگو کا لب و لہجہ زیادہ خوش اطوار اور خوشگوار ہوتا ہے۔ لیکن اس کے بعد جوں جوں مریضوں کی آمد کا تانتا بندھنا شروع ہوتا ہے، ڈاکٹر کے مزاج میں بھی پہلے جیسی خوش طبعی باقی نہیں رہتی، وہ زیادہ سنجیدہ ہونے لگتا ہے، مریض کے ساتھ اس کی گفتگو بڑی کاروباری قسم کی ہو جاتی ہے۔ مریض بولے جاتا ہے اور ڈاکٹر سنے جاتا ہے۔

مریض کو گمان ہوتا ہے کہ اس کی بیماری کی وجوہات، واقعات اور زیرِ استعمال ادویات کی تفصیلات ڈاکٹر صاحب کے دل و دماغ میں اترتی جا رہی ہیں۔ (اے کاش! ایسا ہوتا)۔ جب مریض اپنا حالِ زار سنا رہا ہوتا ہے تو ڈاکٹر صاحبان بالعموم ایک سفید کاغذ پر قلم چلائے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس کاغذ پر ان کا ایک پیرا میڈیکل سٹاف پہلے سے تاریخ، مریض کا ٹمپریچر، وزن ، بلڈ پریشر، عمر اور نام وغیرہ لکھ کر اسے اندر ڈاکٹر صاحب کے پاس بھیجتا ہے۔ اب اس کے نیچے والی سپیس میں ڈاکٹر صاحب کا کام شروع ہوتا ہے۔ مثلاً وہ لکھتا ہے : ”مریض فلاں فلاں بیماری کی ”شکائت“ کرتا ہے، پہلے فلاں فلاں میڈیسن کھا چکا ہے اور اب فلاں فلاں عوارض لاحق ہیں۔

اس کے بعد کاغذ کے بائیں نصف حصے پر وہ ٹیسٹ لکھ دیئے جاتے ہیں جو مریض نے کروانے ہوتے ہیں۔ ان میں خون کے متعدد ٹیسٹ، ایکسرے، الٹرا ساﺅنڈ، یورین ٹیسٹ، سٹول ٹیسٹ اور نجانے اور کیا کیا ٹیسٹ ہوتے ہیں.... اور کاغذ کے دائیں نصف حصے پر وہ ادویات لکھ دی جاتی ہیں جو مریض نے ٹیسٹ رپورٹوں کے نتائج آنے سے پہلے کھانی ہوتی ہیں(نتائج آنے کے بعد والی ادویات حسبِ نتائج بدل جاتی ہیں) اور آخر میں ڈاکٹر صاحب میز پر سے اپنی مہر اٹھا کر ٹھک سے کاغذ پر لگاتے ہیں اور مریض کے ہاتھ میں تھما کر اسے رخصت کر دیتے ہیں۔ پھر اگلے ہی لمحے میز پر رکھا ایک بٹن دباتے ہیں اور اگلا مریض کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ اکثر اوقات پرانے مریض اور نئے مریض کی آمد و رفت بیک وقت اور بیک دروازہ ہوتی ہے اور غالب کے اس مصرعے کی یاد دلاتی ہے:

پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

اس دوسرے مریض پر ڈاکٹر صاحب وہ وقت اور وہ توجہ ”صرف“ نہیں کر سکتے جو پہلے مریض پر کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ توجہ کا گراف نیچے گرتا جاتا ہے۔ یہ ”گراوٹ“ مریضوں کی تعداد پر منحصر ہے۔ میں اسے ڈاکٹروں یا مریضوں کی خوش قسمتی یا بدقسمتی نہیں کہوں گا۔ اگر سرکاری ہسپتال ہے تو مریضوں کی تعداد لامحالہ زیادہ ہوگی۔ فرض کریں ڈاکٹر صاحب کے اوقاتِ کار صبح 8بجے سے لے کر دوپہر 3بجے تک ہیں۔ یعنی ڈاکٹر صاحب نے لگاتار 7گھنٹوں تک مریضوں کا سامنا کرنا ہے۔ ان 7گھنٹوں کے منٹ بنائیں تو 420 بن جائیں گے۔ اور اگر مریضوں کی تعداد 40،42 ہو تو ایک مریض کے حصے میں صرف دس منٹ آئیں گے۔ ان دس منٹوں میں کسی ڈاکٹر کا او پی ڈی (OPD) میں بیٹھنا یا کسی سپیشلسٹ برانچ میں بیٹھنا برابر ہے۔

پہلے ڈاکٹری کے صرف دو شعبے ہوتے تھے یعنی میڈیسن اور سرجری.... لیکن اب ان دو شعبوں کے ذیلی شعبوں کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اور ان سب میں مریضوں کی بھرمار ہے۔ ہر میڈیکل سپیشلسٹ اور سرجن کی برانچ کے اپنے اپنے ذیلی شعبے ہیں ،جن میں ماشاءاللہ یکساں رونقیں بپا رہتی ہیں۔ میں جب بھی کسی قصباتی ہسپتال میں جاتا ہوں تو اس کی صورتِ حال لاہور اور کراچی کے ہسپتالوں سے مختلف نہیں پاتا۔ وجہ یہ ہے کہ ہسپتال کم ہیں، مریض زیادہ ہیں اور ایک ڈاکٹر کے حصے میں جتنے مریض آتے ہیں، ان پر انفرادی توجہ نہیں دی جا سکتی۔ دیکھا جائے تو شعبہءطب کے مسائل لاتعداد ہیں۔ ملک کا صوبائی بجٹ اتنا کم ہے کہ اس میں صحت کے شعبے میں جو حصہ آتا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔

اس صورتِ حال کا ذمہ دار کسی کو بھی نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ پی ٹی آئی نے اگرچہ 7لاکھ سالانہ کے صحت کارڈ ہر فرد کے لئے جاری کرنے کا پروگرام بنایا ہے اور بعض مقامات پر اس پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یک انار و صد بیمار والا معاملہ ہے۔

یہ جو آپ آئے روز سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹروں کی طرف سے دھرنے اور ہڑتالیں دیکھتے ہیں، اس میں ”ینگ ڈاکٹرز“ کا قصور نہیں۔ پہلے کسی نوجوان لڑکے یا لڑکی کا F.Sc کرنا اور پھر کسی میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے مطلوبہ معیار کا حامل ہونا، پھر پانچ برس تک لاکھوں روپے خرچ کرنا اور پھر چند ہزار کی ملازمت میسر آنا، دردِ سر نہیں، دردِجگر ہے۔

آج کل لاہور ہو یا کراچی، ملتان ہو یا پشاور جگہ جگہ سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی (Out-patients Deptt) میڈیا پر بند دکھایا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن کے ناظر یہ سمجھتے ہیں کہ ”ینگ ڈاکٹرز“ اتنے بے حس بلکہ بے رحم ہیں کہ جاں بلب مریضوں پر بھی ترس نہیں کھاتے.... لیکن مثل مشہور ہے کہ بندریا کے پاﺅں جلتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو اپنی کمر سے اتار کر پاﺅں تلے روند ڈالتی ہے۔ یہی حال ینگ ڈاکٹروں کا ہے۔ وہ اور ان کے والدین اپنی بے شمار محنت اور خطیر رقم سے جب M.B.B.S کر لیتے ہیں تو جو ماہوار مشاہرہ ان کو دیا جاتا ہے اور جس طرح دن رات ان سے مریضوں کی دیکھ بھال کا کام لیا جاتا ہے، اس کو اگر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسرے میں OPD وغیرہ میں مریضوں کی حالتِ زار کا نقشہ کھینچیں تو ”بندریا“ حق بجانب ثابت ہو گی اور اس کا پلڑا جھک جائے گا۔

شائد عام قاری کو ینگ ڈاکٹر اور اولڈ ڈاکٹر کا فرق معلوم نہیں۔ ینگ ڈاکٹر چونکہ نوآموز بھی ہوتا ہے اور اس کی سروس بھی کم ہوتی ہے اس لئے اس کو سرکاری ہسپتال میں شام کو پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس کے مقابلے میں اولڈ ڈاکٹر جب رات گھر واپس جاتا ہے تو اس کی جیب کافی بھاری ہوتی ہے۔ لیکن ینگ ڈاکٹرز کو معلوم ہونا چاہیے کہ اولڈ ڈاکٹرز بھی کبھی ینگ ڈاکٹر تھے اور یہ ینگ لاٹ (Young Lot) بھی جب وقت آئے گا، اولڈ ہو جائے گی اور اولڈ ہو کر گولڈ بن جائے گی! لیکن نوجوان ڈاکٹرز (ان میں لیڈی ڈاکٹرز بھی شامل ہیں) کا یہ موقف بھی لائقِ صد توجہ ہے کہ جب تک تریاق، عراق سے آئے گا، مار گزیدہ مر چکا ہو گا!

معذرت خواہ ہوں کہ بات کسی اور طرف نکل گئی ہے۔ لیکن اس بحث کے یہ سارے پہلو ڈاکٹر اور مریض کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ میں کہہ رہا تھا کہ اگر کوئی ڈاکٹر خواہ کسی سرکاری ہسپتال میں کام کرے، یا پرائیویٹ میں اور یا اس کا اپنا کلینک ہو، اس کی پروفیشنل توجہ مرورِ اوقات کے ساتھ ساتھ کمتر ہوتی جاتی ہے۔ اگر آپ کا اپنا ذاتی کلینک بھی ہو تو اس میں بھی آپ کی پروفیشنل استعداد معمول سے زیادہ نہیں ہو سکتی کہ انفرادی توجہ کا انحصار مریضوں کی تعداد پر ہے۔ مجھے بیشتر آرمی ہسپتالوں (CMHs) سے واسطہ پڑا اور کم کم پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی آتا جاتا رہا.... کبھی خود اپنے لئے ، کبھی عزیزوں کے لئے اور کبھی دوست احباب کے لئے....

میں نے دیکھا کہ معاملہ سب جگہ یکساں ہے۔ ایک اولڈ ڈاکٹر کی صبح کا آغاز فرض کیجئے 8بجے ہوتا ہے۔ اس نے دو تین بجے تک مریضوں کو دیکھنا ہے۔ سب سے پہلے تو اگر وہ ڈاکٹر، سرجن ڈاکٹر ہے تو پہلے گزرے کل کے ان مریضوں کو دیکھے گا جن کا اس نے آپریشن کیا ہوگا۔ علاوہ ازیں ان مریضوں کو بھی آفیسرز وارڈ/ آفیسرز فیملی وارڈ / سولجرز وارڈ میں جا کر دیکھنا ہوگا جو تازہ داخل ہوئے ہیں اور Serious ہیں۔ اس کے دو اڑھائی گھنٹے تو اسی ایکسرسائز میں گزر جاتے ہیں اور جب وہ ساڑھے دس گیارہ بجے اپنے شعبے میں جاتا ہے تو مریضوں کا ایک جم غفیر اس کا منتظر ہوتا ہے۔

پہلے دو چار مریض تو وہ بڑی توجہ سے دیکھے گا لیکن اس کے بعد توجہ کا گراف، جیسا کہ مَیں نے سطورِ بالا میں ذکر کیا، بتدریج گرتا جائے گا۔ترقی یافتہ ممالک میں اس موضوع پر خاصی ریسرچ کی گئی ہے اور نتیجہ نکالا گیا ہے کہ ایک ڈاکٹر صاحب صبح اپنے گھر سے ناشتہ کر کے جب نکلتے ہیں تو ٹی بریک تک اگر پندرہ مریض بھی دیکھ لیتے ہیں تو مریض نمبر ایک کے لئے جو نسخہ وہ تجویز کریں گے وہ مریض نمبر پندرہ تک جاتے جاتے یکساں نہیں رہے گا۔ اگر مریض نمبر ایک کو کوئی ایک اینٹی بائیوٹک ڈرگ تجویز کی ہو گی تو مریض نمبر15 کو ایک کی بجائے زیادہ ڈرگز کی خوراک تجویز کی گئی ہو گی۔

اس کے بعد جب بعداز دوپہر ڈاکٹر صاحب واپس گھر جائیں گے تو ان کو کھانا کھانا ہے، قیلولہ کرنا ہے، گھریلو معاملات میں حصہ لینا ہے اور رشتہ داروں سے ملنا ہے، موبائل فون سننے ہیں....اس طرح شام کے6بج جاتے ہیں۔ جب یہ ”اولڈ“ ڈاکٹر جنہوں نے بیرون ملک کافی ہائر میڈیکل کورسز کئے ہوتے ہیں، میڈیکل طلبا اور طالبات کو سالہا سال پڑھایا سکھایا ہوتا ہے اور تب جا کر پروفیسر کا لقب(یا خطاب) حاصل کیا ہوتا ہے،شام کو پرائیویٹ پریکٹس کرنے بیٹھتے ہیں تو اس میں اگرچہ مالی منفعت کا پہلو پُرکشش ہوتا ہے لیکن صبح کی تھکاوٹ نے ان کی شام کو تو متاثر کرنا ہی کرنا ہے۔ یہاں بھی مریض زیادہ ہیں،وقت محدود ہے، فیس سے جیب بھر رہی ہے لیکن دامن ِ توجہ سکڑ رہا ہے بلکہ خالی ہونے کی طرف جا رہا ہے۔ جوں جوں شام کے سائے ڈھل کر رات کا روپ اختیار کرتے ہیں،ڈاکٹر صاحب کا پیمانہ¿ توجہ صبح8بجے کی نسبت آدھا خالی ہو چکا ہوتا ہے۔

مجھے معلوم ہے بعض ڈاکٹر صاحبان میرے اس تجزئے سے اتفاق نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہو گا کہ ہم تو رات گئے تک ”ہشاش بشاش“ رہتے ہیں.... لیکن اگر آپ اس موضوع پر یورپ اور امریکہ میں ہونے والی ریسرچ اور اس کیFindings پڑھیں تو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہسپتال خواہ سرکاری ہو خواہ پرائیویٹ، اس میں ڈاکٹر اور مریض کی تعداد کا تناسب اگر ایک معینہ حد سے آگے بڑھے گا تو دونوں کو نقصان ہو گا۔مریض کو بھی اور ڈاکٹر کو بھی.... مریض کو فوری اور ڈاکٹر کو بعد میں.... لیجئے مَیں نے ابھی ڈاکٹری کے پروفیشن کی بات کی ہے اور ورق تمام ہو گیا ہے.... اِن شاءاللہ اگلے کالم (یا کالموں) میں باقی دو پیشوں (سکول ماسٹری اور مجسٹریٹی/ججی) کا ذکر کریں گے! (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم