سیاسی لوگ

سیاسی لوگ
سیاسی لوگ

  


بچپن میں بزرگوں کو اکثر بچوں کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ یہ بہت سیاسی ہیں ۔اگر میرے والد صاحب کسی موقع پرکسی بھی بچے کو کہا کرتے کہ یہ بچہ بڑا ہو کرسیاستدان بنے گا تو والد صاحب کے اس فقرے پر ہم اس بچے پر رشک کرتے تھے ۔بلکہ تھوڑا حسد بھی کرتے تھے کہ انہوں نے یہ میرے بارے میں کیوں نہیں کہا۔جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے شعور اجاگر ہونے لگا تو سمجھ میں آئی کہ والد صاحب خاص موقع اور وقوعہ پر کسی کو سیاسی کیوں کہتے تھے ۔

جب کوئی بچہ جھوٹ بولتا تھا یا دھوکہ دیتا تھا اور پھر پکڑے جانے پر حد ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر قائم رہتا تھاتو والد صاحب اسے سیاسی ہونے کا خطاب عطا فرمایا کرتے تھے ۔یعنی یہ صفت سیاسی ہونے کی کٹر نشانی سمجھی جاتی تھی اورجب سمجھ میں آئی تو شکر بجا لائے کہ یہ خطاب ہمیں عطا نہیں ہوا ۔حالانکہ بچپن میں رشک اور حسد کیا کرتے تھے کہ اس خطاب سے ہمیں کیوں نہیں نوازا گیا اور یہ خطاب اسے کیوں ملا۔

اب جب سوچتے ہیں تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیاست دانوں کے بارے میں عام عوام کی یہ سوچ اس وقت بھی ذہنوں میں اُسی زاویے پر گردش کرتی تھی جو عوام کے ساتھ کیا جاتا تھا ۔ ذرائع ابلاغ محدود اور حکومتی کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے منظر عام پر نہیں آسکتی تھی لیکن ذہنی طور پر عوام الناس جھوٹ ،دھوکہ دہی اور ڈھٹائی کے ساتھ اس پر قائم رہنے والے کو ہی سیاسی سوچ سمجھتی تھی۔عمران خان کے ذہن میں بھی یہی ہو گا شاید جس کی بنیاد پر عمران خان نے 23 سال پہلے ساست میں قدم رکھا ۔پارٹی کا نام بھی ظاہر کرتا ہے کہ تحریک انصاف سے مراد انصاف کے لیے ایک تحریک کا آغاز کرنا۔

عمران خان نے روایتی سیاست کو چیلنج کیا اور عوام کے ذہنوں میں پنپنے والے سیاسی لوگوں کے کردار کوبھانپتے ہوئے ایک نیا پاکستان بنانے کا خواب ُبننا شروع کیا۔ غلامان ذہن جو کہ سیاسی قیادت کے تسلط کو قبول کئے بیٹھے تھے انہوں نے دیوانے کا خواب گردانتے ہوئے نظر انداز کر دیا اور15سال تک عمران خان تانگہ پارٹی کے کوچوان گردانے جاتے رہے۔عمران خان یہ تانگہ چلاتے چلاتے نہ صرف تھک چکے تھے بلکہ زخموں سے بھی چُور ہو چکے تھے۔ کسی سیانے نے مشورہ دیا تھا کہ”do as Romens do “عمران کی سمجھ میں بات آئی جس مردہ قوم کو وہ جگانے کی کوشش کر رہا ہے وہ تو زندہ ہی نہیں ہے تو جاگیں کے کیسے؟ پھر قریبی لوگوں نے مثالیں دیں کہ ماﺅزے تنگ نے بھی ”سٹیٹس کو “ کو ساتھ ملا کر ہی انقلاب برپا کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔

عمران خان نے” مرتا کیا نہ کرتا “کے مصداق اپنے گرد کا سخت دائرہ توڑ کر ”سٹیٹس کو“ کو اندر آنے کی جگہ دی، کیونکہ ہمارے معاشرے کا یہی المیہ تھا کہ تعلیم اور شعور دونوں ناپیدہو چکے تھے۔ ہم نے ظلم کو اپنے نصیب کا حصہ سمجھ کر تسلیم کر لیا تھا، تبدیلی ناممکن گردان کر ہم اس کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے۔(اس میں مَیں بھی شامل ہوں) اور حکمرانوں نے ملک و قوم کو لوٹنا اپنا ماروثی حق سمجھ لیا تھا وہ مست ہاتھی کی طرح باری باری اپنے کام پر جُتے ہوئے تھے

دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی

لوگوں نے میرے گھر میں رستے بنا لئے

تحریک انصاف کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔عمران خان تب تک کچھ نہیں کر سکتا تھا جب تک وہ اقتدار میں نہ آتا اور اقتدار میں آنے کے لئے جو دیوار گری تو پھر صحن میں راستے تو بننے ہی تھے۔ عمران خان کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو وہ تبدیلی کی حسرت لئے ناکامی کا طوق گلے میں ڈالے دنیا سے رخصت ہو جاتا یا پھر ماﺅزے تنگ کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر ایک مرتبہ اقتدار میں پہنچ جاتا اور پھر اپنی حسرت اور خواہش کے مطابق تبدیلی لانے کی کوشش کرتا،لیکن دیوار گرنے کے بعد کوئی ذریعہ نہ بچا جس سے وہ کوئی پیمانہ رکھتا کہ کون گزر سکتا ہے اور کون نہیں۔اقتدار کے محل تک تانگہ چلانے والے کوچوان نے عمران خان کو جس سواری کا کہا بٹھا لیا گیا،بغیر کسی چوں چراں کے کہ منزل قریب دکھائی دیتی تھی اور آخر کار عمران خان منزل پر پہنچ ہی گیا۔

عمران خان کے ذہن میں ہو گا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ سب ٹھیک کر لے گا، کیونکہ ایک بات تو طے ہے کہ وہ کرپٹ نہیں ہے اور دوسری یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ لگا رہتا ہے،مایوس نہیں ہوتا۔پھر اقتدار میں آ کر وہ آٹھ ماہ میں سب کچھ کیوں نہیں بدل سکا ؟یہ سب سے اہم سوال ہے۔

کیونکہ ہم من حیث القوم95فیصد (مزدور سے لے کر صدر تک) کرپٹ قوم ہیں،بلکہ قوم لفظ مناسب نہیں،کرپٹ ہجوم زیادہ بہتر ہو گا اور عمران خان کا نعرہ کرپشن کے خلاف ہے۔اب دال میں25فیصد کالا چنا جا سکتا ہے،95فیصد کالے میں تو دال ہی نظر نہیں آتی۔

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اقتدار میں آ کر دیکھا تو جانے والے جانتے تھے کہ وہ جا رہے ہیں اور عمران خان آ رہا ہے،لہٰذا انہوں نے اپنی زندگی کی آخری بازی سمجھ کر خوب جی بھر کے لوٹا۔ بے نامی اکاﺅنٹس اور منی لانڈرنگ کے جدید طریقے ایجاد کئے اور ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں نے اس گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے،حالانکہ وہ اپنی آئندہ نسل کو بھی سیاسی لیڈر بنا چکے تھے، لیکن پھر بھی خوف تھا کہ شائد عمران خان کے بعد طرز حکمرانی کے تقاضے تبدیل ہو جائیں یا اقتدار میںلانے والا دیوتا ان سے دوبارہ کبھی خوش نہ ہو یا رجوع نہ کرے۔ یہ لوٹ مار اس یقین کے ساتھ کی گئی کہ بیورو کریسی کیونکہ انہیں دو خاندانوں کی نوازی ہوئی ہے جو پچھلے45سال سے خود بھی کھاتے رہے اور انہیں بھی کھلاتے رہے۔

اب یہ بیورو کریسی ہی وہ دریا ہے، جس کا سامنا عمران خان کو ہے۔عمران خان نے کرپشن کے خلاف نعرہ بلند کیا ہے ۔ اس ملک میں سیاست دانوں سے زیادہ کرپٹ افراد بیورو کریسی میں براجمان ہیں، کیونکہ سابقہ حکمران انہیں کے ذریعے کھاتے تھے،لہٰذا یہ بیورو کریسی کسی صورت عمران خان کو قبول نہیں کر رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جان بوجھ کر ایسی صورت حال پیدا کی جا رہی ہے کہ عمران حکومت فیل ہو جائے او ماضی کی طرح ”سڑکاں ہو جان سنجھیاں تے وچ مرزا یار پھرے“ لیکن پاکستان کی بقاءکے لئے یہ بہت خطرناک ہو گا۔ اگر آج ہم کرپشن پر قابو نہ پا سکے تو پھر کرپشن پاکستان میں سے سب سے بڑے دین کا درجہ اختیار کر جائے گی۔

مزید : رائے /کالم