”سعودی گرین کارڈ کے اجراء کا فیصلہ“

”سعودی گرین کارڈ کے اجراء کا فیصلہ“

ہر ملک بیرون ممالک سے آئے افراد کو سہولیات پہنچانے کے لیے وقتاً فوقتاًاقدامات کرتا ہے۔مختلف شرائط پر مبنی تجاویز پر اپنے ملک میں کاروبار،جائیدادیں اور رہائش رکھنے کے لیے انہیں شہریت دینے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرتا ہے۔معیار پر پورا اترنے والے شہریت کے حقدار ٹھہرائے جاتے ہیں۔عموماً ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کی شہریت لینے کے لیے دنیا بھر سے بالعموم اور پاکستان سے بالخصوص لوگ خواہش رکھتے ہیں۔وہاں جا کر رہائش اور ملازمت یا کاروبار مستقل بنیادوں پر کرنے کے لیے گرین کارڈ کے حصول کے لیے خوب تگ و دو کرتے ہیں۔

دیگر کئی ایشیائی اور مغربی ممالک کی شہریت کے لیے بھی گرین کارڈ یا اقامہ کی ضرورت ہوتی ہے۔بالخصوص امارات میں مستقل قیام کے خواہش مند کاروبا ر اور ملازمت کے لیے بھی اقامے کے طلبگار ہوتے ہیں اور اس کے لیے کوشش کرتے ہیں۔سعودی عرب کی زمین وہ مقدس سرزمین ہے جس کے ساتھ ہر مسلمان بالخصوص پاکستانیوں کا دلی گہرا تعلق ہے اور وہاں جانے کو وہ بہت بڑی سعادت تصور کرتے ہیں۔جن میں کچھ لوگ تو عمرہ اور حج کی غرض سے جاتے ہیں اور پھر لوٹ آتے ہین لیکن کچھ لوگ اس مقدس پاک سر زمین کے ساتھ گہرا تعلق جوڑنے کے لیے وہاں جا کر مستقل سکونت اختیارکو ترجیح دیتے ہیں اور اس سلسلے میں انہیں کچھ سعودی حکومت کی جانب سے رسمی کاروائی پوری کرنا ضروری ہوتا ہے۔

حج اور عمرہ کرنے آنے والوں کے لیے بھی سعودی حکومت ہمیشہ بہترین سہولیات فراہم کرتی ہے اور مقدس فرائض انجام دینے آنے والوں کی خدمت کرنے میں کوئی کمی نہیں ہونے دیتی۔جبکہ مستقل بنیادوں پر رہائش اور کاروبار یا ملازمت فراہم کرتی رہتی ہے۔اسی سلسلے مین گزشتہ دنوں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے سعودی عرب میں مقیم مختلف ممالک سے اائے تارکین وطن کے لیے ایک بڑی سہولت کا اعلان کیا ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے تارکین وطن کو گرین کارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب کی جانب سے یہ تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے ”اسپیشل پریو لیجنڈاقامہ“کا قانون منظور کر لیا ہے۔جس کی بدولت ملک میں خصوصی اہلیت والے غیر ملکی افراد متعدد رہائشی سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس نئی سکیم سے تارکین وطن مخصوص فیس ادا کر کے سعودی عرب میں رہائش،قیام، اپنا کاروبار اورجائیداد خریدنے کا حق رکھ سکیں گے۔اس نئی سکیم کو عام طور پر سعودی گرین کارڈ کہا جا رہا ہے۔سعودی علی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تین سال قبل اس سکیم کو آگے لانے کے لیے پیش رفت کا آغاز کیا تھا اس سکیم کے لیے تمام امیدوار سالانہ قابل تجدید یا مستقل رہائش کا اختیار استعمال کر سکیں گے۔لیکن اس کجے لیے انہیں فیس ادا کرنا ہو گی۔سعودی عرب میں مقیم تارکین عطن حکومت کی جانب سے مندرجہ بالا سہولت کی فراہمی پر بہت شکر گزار ہیں جس سے ان کے کئی مسائل حل ہوجائیں گے اور وہ مسلمان اور پاکستانی جو کہ مقدس سر زمین میں اپنا کاروبار،جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کے متمنی ہیں ان کا خواب بھی پورا ہو جائے گا تارکین وطن حکومت کے اس فیصلے کو مستحسن قرار دے رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم