فیس بُک کالم

فیس بُک کالم
فیس بُک کالم

  

سوشل میڈیا میں فیس بُک سب سے زیادہ مقبول ہے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ یہ شخصیات، خیالات اور کمالات کا تنوع لئے ہوئے ہے۔ یہاں ہر آدمی کو اس کے ذوق کے مطابق سب کچھ مل جاتا ہے۔ فیس بُک سے آپ ایک بھرپور میگزین کا لطف لے سکتے ہیں۔آج بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے، جو فیس بُک کے نشے سے محروم ہے۔ یہاں مَیں فیس بُک پر دکھائی دینے والی چند پوسٹیں اپنے قارئین کے لئے پیش کر رہا ہوں تاکہ وہ بھی اُس لطف میں شریک ہو سکیں،جو مَیں نے محسوس کیا ہے۔ ایک خاتون نے لکھا:

”ایک عالمہ سے دوسری شادی کے فضائل و برکات سننے کے بعد ایک عورت اُٹھ کر اس کے پاس آئی اور سرگوشی کی کہ کیا آپ واقعی مرد کی دوسری شادی کے حق میں ہیں؟ تو عالمہ نے جواب دیا۔ جی بالکل۔ عورت بولی خدا کا شکر ہے۔ پہلے مَیں آپ سے بات کرنے سے جھجکتی تھی۔ دراصل مَیں آپ کے خاوند کی دوسری بیوی ہوں“۔

گورنمنٹ دیال سنگھ کالج کے شعبہئ شماریات کے پروفیسر مختار احمد نے لکھا:

”آج کل بغیر سلفی بنائے عمرہ مکمل کرنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ ورنہ تو بہت سے عمرے فیس بُک لائیو ہی ہو رہے ہوتے ہیں“۔

ایک صاحب نے یہ واقعہ فیس بُک کی زینت بنایا:

”امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں:

”ایک دفعہ مجھے عراق کے کسی گاؤں میں رات ہو گئی۔مَیں ایک مسجد میں گیا،لیکن چوکیدار نے مجھے وہاں سے نکال دیا۔ مَیں مسجد سے باہر فرش پر سو گیا۔چوکیدار نے مجھے پاؤں سے پکڑا اور گھسیٹ کر مسجد سے دور کر دیا۔ایک خدا ترس آدمی مجھے اپنے گھر لے گیا۔وہ شخص چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے، ہر وقت ”استغفار“ پڑھتا تھا۔ صبح ہوئی تو مَیں نے اُس شخص سے پوچھا کہ کیا آپ کو استغفار پڑھنے کا کوئی فائدہ بھی ہوا ہے؟ اُس نے جواب دیا:”جی ہاں، میری ہر دُعا قبول ہوئی سوائے اِس کے کہ میری ملاقات امام احمد بن حنبل سے ہو جائے“۔

مَیں نے کہا:”مَیں ہی احمد بن حنبل ہوں۔ اور تم دیکھو کہ مجھے کیسے گھسیٹ کر تمہارے پاس لایا گیا ہے“۔

میرے شاعر دوست رحمن فارسی نے یہ لطیفہ لکھا:

”ٹرین میں دو مسافر

پہلا: یہ وٹس ایپ انسان کو بہت آگے لے جائے گا۔

دوسرا: وہ کیسے؟

پہلا: اب مجھے ہی دیکھ لیجئے، دو سٹیشن پہلے اترنا تھا!“

نام ور شاعر جلیل عالی نے آئی ایم ایف کی زلفِ گرہ گیر کی اسیری کے حوالے سے اپنی ایک غزل فیس بُک پر لگائی جو نئے عالمی نظام کی شروعات کے زمانے میں کہی گئی تھی۔

وہ دشمن ِ جاں زخم کو بھرنے بھی نہ دے گا

اور درد کو اک حد سے گزرنے بھی نہ دے گا

رکھے گا سدا دور ہمیں خیمہ دِل سے

احساسِ رفاقت کو بکھرنے بھی نہ دے گا

گردابِ بلا سے بھی بچائے گا ہمیشہ

لیکن وہ کبھی پار اترنے بھی نہ دے گا

پروازِ فلک جُو بھی اڑا لے گا پروں سے

اور پاؤں زمیں پر کہیں دھرنے بھی نہ دے گا

چھوڑے گا نہ باقی کوئی ہونے کی نشانی

بے شک وہ ہمیں خود سے مکرنے بھی نہ دے گا

عزت کی تو اک سانس بھی جینے نہیں پائے

ڈر ہے کہ وہ توقیر سے مرنے بھی نہ دے گا

میرے ڈراما نگار دوست عطاء اللہ عالی نے یہ نیا خیال پیش کیا:

”جس تیز رفتاری سے پنجاب میں چینی باشندے شادیاں کر رہے ہیں اس کو دیکھ کر صاف محسوس ہو رہا ہے کہ آئندہ پندرہ سالوں میں صوبہ پنجاب میں ایک نئی نسل تیار ہو جائے گی جن کے نام کچھ یوں سننے کو ملیں گے۔

ملک شنگ فونگ

راجہ ڈنگ ڈونگ

ھوانگ شونگ چٹھہ

ہوانگ ھوا کیانی

چودھری ڈینگ لی کوفنگ

شونگ لی بٹ

چوان لی شریف وغیرہ وغیرہ اللہ رحیم کرے“

کالم نگار اور شاعرہ ڈاکٹر عارفہ صبح خان نے ایک جملے میں بات ختم کر دی:

”افسوس چائنہ کے شوہر بھی دو نمبر نکلے“

مزید : رائے /کالم