دینی شعائر کی ادائیگی کے اعلان!

دینی شعائر کی ادائیگی کے اعلان!

  

علماء کرام نے شب قدر، جمعتہ الوداع اور عید کے اجتماعات کا اعلان کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ مُلک بھر میں کاروبارِ زندگی کی عام اجازت اور مساجد و دینی اجتماعات پر پابندی بہت بڑا تضاد ہے، جسے قبول نہیں کیا جا سکتا، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا موجودہ پالیسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ کورونا کو بہانہ بنا کر مذہب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔شیخ ا لاسلام جسٹس مولانا تقی عثمانی نے بھی جمعتہ الوداع اور عید کے اجتماعات کا اعلان کیا ہے، ہر دو معزز علماء کرام نے متعلقین کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ وبا سے بچاؤ کی تدابیر اور شرائط کا بھی مکمل خیال رکھیں،اِس سے قبل جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے بھی جمعتہ الوداع اور عید کے اجتماعات کے انعقاد کا اعلان کیا اور کہا کہ ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد ہو گا تاہم یہ دینی اجتماعات ضرور منعقد ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جامعہ نعیمیہ میں اعتکاف کے لئے بھی تحفظ کا مکمل خیال رکھا گیا اور ختم قرآن کی محافل بھی ہوں گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے لاک ڈاؤن میں نرمی، ٹرانسپورٹ اور ریل کا پہیہ چلانے کا اعلان اور اس پر عدالت عظمےٰ کے حکم کے پس منظر میں دینی اجتماعات کا انعقاد غیر منطقی نہیں، اگر مساجد و یران،دینی شعائر کے اجتماعات پر پابندی ہو اور باقی تمام کاروبارِ زندگی جاری و ساری رہے تو یہ یقینا اور واقعی ایک بڑا تضاد ہو گا،بنیادی بات یہی ہے کہ ہر اجتماع میں ایسی او پیز کا خیال رکھا جائے۔دینی حلقوں کو اس حوالے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ان کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں،وہ تاجروں اور کاروبار کرنے والوں کی طرح وبا اور اس کے اثرات سے اپنے آپ کو بری الذمہ نہیں کر سکیں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -