طالبان کا ہند سرکار کے خلاف اعلانِ جنگ

طالبان کا ہند سرکار کے خلاف اعلانِ جنگ
طالبان کا ہند سرکار کے خلاف اعلانِ جنگ

  

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے منتظم اور طالبان مزاکرات کا روں کے سربراہ شیر محمد عباس استنکزئی نے کہا ہے کہ بھارت نے افغانستان میں ہمیشہ غداروں کی مدد کی ہے بھارت کا افغانستان میں کردار ہمیشہ منفی رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات افغانستان کی جدید تاریخ کے تناظر میں کہی ہے افغانستان میں غیر ملکی قوتیں فعال رہی ہیں برطانوی استعماری دور میں بھی افغان اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے سینہ سپر رہے تھے۔ 79 میں اشتراکی افواج کے حملے کے خلاف آزادی افغانستان کے لئے افغان عوام ”مجاہدین“ کی شکل میں برسر پیکار رہے اور پھر امریکی اتحادی افواج کے خلاف افغان عوام طالبان کی شکل میں سینہ سپر ہوئے افغان عوام کی ساری تحاریک آزادی کامیاب ہوئی ہیں لیکن کچھ افغان غیر ملکی قوتوں کے بھی آلہ کار بن جاتے رہے ہیں افغان قوم نے ایسے عناصر کو کبھی معاف نہیں کیا ایسے عناصر چاہے نجیب اللہ کی شکل میں ہوں یا اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی شکل میں یہ سب غیور افغان عوام کے انتقام کا نشانہ بنتے رہے ہیں اور بنتے رہیں گے ایسی ہی تاریخی حقیقت کی طرف طالبان رہنما نے اشارہ کیا ہے۔ طالبان کا یہ بیان کوئی سیاسی یا سفارتی بیان نہیں ہے بلکہ ایک فاتح اور حقیقی رہنما قوت کی طرف سے مبنی بر حقائق بیان ہے کچھ تجزیہ نگار اسے بھارت کے خلاف ”طبل جنگ“ بھی قرار دے رہے ہیں۔ ہمارے کچھ دینی بھائی ا ور تجزیہ نگار بھارت کے خلاف اسے ”غزوہ ہند“ کا آغاز بھی کہ رہے ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ کشمیریوں کی آزادی کی نوید بھی بن سکتا ہے۔ بات کچھ بھی ہو لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ افغانستان سے اٹھنے والے فاتحین، ہمیشہ ہندی مسلمانوں کے لئے نوید مسرت بھی لے کر آتے رہے ہیں بت خانہ ہند، افغان فاتحین کے قدموں میں روندا جاتا رہا ہے۔ شاید اب بھی ایسا ہونے جا رہا ہے۔

عالمی سیاست، امریکی صہیونی قیادت میں تہذیب اسلامی کے خاتمے کے لئے یکسو ہو چکی ہے 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر عراق اور افغانستان اور پھر مشرقِ وسطیٰ میں جس طرح آتش و آہن کا جہنم دھکایا اور اس میں مسلمانوں کو ہلاک کیا وہ ہماری تاریخ حاضرہ کا ایک ایسا ثبوت ہے جسے جھٹلانا ممکن نہیں ہے۔ اسرائیل دہائیوں سے فلسطینی مسلمانوں پر قہر بنا ہوا ہے اقوام عالم کی طرف سے فلسطینیوں کے حقوق کی باریابی کے لئے منظور کردہ کئی ایک قرار دادوں کے باوجود یہودی ریاست اپنی سرحدات پھیلانے میں مصروف ہے اقوام عالم کی قرار دادوں کے مطابق یروشلم کو تینوں مذاہب کے ماننے والوں کا شہر قرار دیا جاتا ہے لیکن اسرائیلی قیادت روزِ اول سے ہی سارے یروشلم کو ایسے ہی یہودی ریاست کا اٹوٹ انگ قرار دیتی رہی ہے جیسے ہندو قیادت کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتی رہی ہے حالانکہ اقوام عالم بھارتی مقبوضہ کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ قرار دے کر یہاں استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کہہ چکی ہے لیکن یہود اور ہنود دونوں ہی مسلمانوں کا ناطقہ بند کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں اور انہیں عالمی چودھری صہیونی امریکیوں کی سرپرستی حاصل ہے۔

اسرائیل تمام عالمی قراردادوں کو روند کر یروشلم کو تاریخی ریاست اسرائیل کا دارلحکومت قرار دے چکا ہے امریکہ نے اس کا یہ دعویٰ تسلیم بھی کر لیا ہے اور اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے اٹھا کر یروشلم منتقل بھی کر دیا ہے گویا امریکہ نے اقوام عالم کی قراردادوں کے برعکس یہودیوں کے اس غیر منصفانہ مطالبہ پر مہر تصدیق بھی ثبت کر دی ہے۔دوسری طرف متعصب ہندو قیادت نے نہ صرف عالمی برادری کی قراردادوں کے برعکس بلکہ خود کشمیریوں کے ساتھ کئے گئے ”استصواب رائے“ کے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اگست 2019ء کو اسے بھارتی یونین میں ضم کرنے کا اعلان کر کے خطے میں جنگی حالات پیدا کر دیئے ہیں۔ مودی قیادت نے امریکی صہیونی قیادت کی مشرق وسطیٰ میں عرب مسلمانوں کے خلاف جاری مہم کو دیکھتے ہوئے، یروشلم پر اسرائیل کے قبضے پر اس قیادت کا ردعمل دیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اپنے تئیں حل کرنے کی کاوش کی یہاں نہ صرف کرفیو لگا دیا بلکہ مکمل لاک ڈاؤن کے ذریعے کشمیر کا پوری دنیا سے رابطہ کاٹ دیا یہاں پہلے سے موجود فوجیوں کی تعداد 7 لاکھ تک بڑھا دی۔

اگست 2019ء سے مئی 2020ء تقریباً 10 مہینے ہو چکے ہیں کشمیری مسلمان متعصب ہندو فوج اور آر ایس ایس کے نرغے میں ہیں ہمیں معلوم نہیں کہ ان کے شب و روز کیسے گزر رہے ہیں ہر شے بشمول کمیونیکیشن، ٹیلی فون، انٹرنیٹ بند ہے دشمن کے نرغے میں زندگی کیسے گزرتی ہے یہ تو وہی جانتا ہے جس پر آفت پڑی ہوتی ہے دنیا پر تو عالم کفر کا غلبہ ہے ہمارے عرب بھائی بھی مسئلہ کشمیر پر آواز بلند نہیں کر سکے۔ ترکی، ملائشیا اور ایران کے سوا شاید ہی کسی ملک نے پاکستان کی ہمنوائی کی ہو ہم بھی معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر کمزور حالت میں ہیں گویا ہماری مسلح افواج دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن مڈبھیڑ کا فیصلہ تو قومی قیادت نے کرنا ہے وہ سفارتی و سیاسی محاذ پر ڈٹی ہوئی ہے تاریخی اعتبار سے مسئلہ کشمیر،

کشمیری مسلمانوں کی قسمت کا فیصلہ بالخصوص موجودہ حالات میں سفارتی سطح پر حل ہونا تقریباً نا ممکن نظر آ رہا ہے مودی سرکار نے مسئلہ کشمیر میں صرف بھارت سرکار اور کشمیری ہی فریق نہیں ہیں بلکہ مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کا ایک نا مکمل ایجنڈا ہے جس میں بھارت و کشمیریوں کے ساتھ پاکستان بھی فریق ہے مودی سرکار نے اپنے تئیں فیصلہ کر کے کشمیر کو اپنے اندر ضم کر لیا ہے اور کشمیریوں کو لاک ڈاؤن کے حوالے کر دیا ہے لیکن اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ایٹمی پاکستان بھی اس مسئلے کا براہ راست فریق ہے جسے جھکانا ممکن نہیں ہے ویسے تو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ کشمیری بھارتی فیصلے پر کس طرح ری ایکٹ کریں گے۔ لا محدود وقت تک لاک ڈاؤن کے ذریعے کشمیریوں کے جذبات کو کشمیر میں دبائے رکھنا ممکن نہیں ہے کشمیریوں کی موجودہ نسل، تحریک آزادی کے پرچم تلے بھارتی ظلم و ستم کے سائے میں پل کر جوان ہوئی ہے تحریک آزادی کی قیادت منجھی ہوئی اور بالغ نظر لوگوں کے ہاتھوں میں ہے سید علی گیلانی جیسے ضعیف العمر قائد کا جذبہ کسی بھی نوجوان سے کم نظر نہیں آتا۔ میر واعظ عمر فاروق ہوں یا یاسین ملک اور پروفیسر غنی بھٹ سب ایک صفحے پر ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ شیخ عبداللہ اور ان کی فکر رکھنے والی بھارت نواز قیادت بھی ہندو اقدامات کے خلاف سینہ سپر ہو چکی ہے۔

جہادی قیادت ہو یا سیاسی اور بھارت نواز کشمیری رہنما، 5 اگست 2019ء کے مودی لاک ڈاؤن کے بعد سب یک زبان ہو چکے ہیں محبوبہ مفتی جیسی بھارت نواز قیادت بھی آزادی کشمیر کی باتیں کر رہی ہے مودی سرکار نے لاک ڈاؤن کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبا رکھا ہے لیکن یہ رویہ زیادہ دیر تک یا لا محدود وقت تک جاری نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں طالبان رہنما کا بھارت سرکار کے خلاف بیان ایک نئے منظر نامے کی طرف نشاندہی کر رہا ہے۔ بھارت نے طاقت کے اپنے تئیں مسئلہ کشمیر آئینی طور پر حل کر دیا ہے یعنی خود ہی متنازعہ علاقے کو اپنی یونین میں شامل کر کے اس پر قبضہ کر لیا ہے عالمی سطح پر بھی ہندوستان کے اس صریحاً غیر منصفانہ اقدام کے خلاف کہیں بھی موثر آواز نہیں اٹھی۔ اس کے بعد طویل لاک ڈاؤن اور ہندو سیکیورٹی ایجنسیوں کے غیر انسانی رویوں پر بھی ابھی تک کوئی بھی موثر آواز نہیں اٹھی ہے بالکل ایسے ہی جیسے فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف موثر آواز نہ اٹھنے کے باعث یہودی اپنے مذموم منصوبوں پر بلا روک ٹوک عمل پیرا رہے ہیں اور وہ ”گریٹر اسرائیل کی تعمیر“ کے لئے اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک نظریہ یہ بھی پیدا ہوا ہے کہ ”کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے“ جس طرح ایک بات طے ہو چکی ہے کہ عرب، فلسطینی ریاست قائم نہیں کر سکتے ہیں یعنی اسرائیل اس قدر طاقت ور ہو چکا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اب ممکن نہیں رہا ہے۔ اور یہ بات خاصی حد تک درست بھی معلوم ہوتی ہے عرب جس طرح تنکوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں وہاں جس طرح فرقہ واریت، قومیت پرستی اور فحاشی کو فروغ مل چکا ہے وہاں عربوں کی نوجوان نسل کمزور اور بے راہ رو ہو چکی ہے اس لئے وہاں ان کا کسی اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول کے لئے فعال ہونا ممکن نہیں ہے اس لئے مسئلہ فلسطین کے حل ہونے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں اس لئے ہماری حالت دیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل بارے مایوسی کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے لیکن جس طرح اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور اسے ریاست اسرائیل کا حصہ بنا کر وہ ڈھٹائی سے ان علاقوں کو ”اپنا علاقہ“ قرار دے رہا ہے اور عرب بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یہ ساری باتیں شاید درست نہ ہوں۔ طالبان سالوں تک پنجہ آزمائی کے بعد فاتح بن کر ابھرے ہیں انہوں نے دنیا کی طاقتور ترین فوج کو شکست دے کر آزادی کے لئے قربانی دینے کے لازوال جذبات کا اظہار کر دیا ہے یہ ان کا سینکڑوں نہیں ہزاروں سالہ تاریخی ورثے کے عین مطابق ہے۔

مزید :

رائے -کالم -