27رمضان المبارک تجدید عہد کا دن

27رمضان المبارک تجدید عہد کا دن
27رمضان المبارک تجدید عہد کا دن

  

فکری وحدت سے اُمہ اورجغرافیائی وحدت سے قوم تشکیل پذیر ہوتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مختلف جغرافیائی وحدتوں میں منقسم ہندو بنیے کی ریشہ دوانیوں کے شکار مسلمانان برصغیر کو دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک قوم بنایا اور جب قوم وجود میں آچکی تواس کے لیے ایک اسلامی ملک درکار تھا اور قائد اعظمؒ کی شبانہ روز جدوجہد سے 27رمضان المبارک 1366ھ شب قدرکی مبارک ساعتوں میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے پاکستان دنیا کے نقشہ پر ایک آزاد مسلم ریاست کے طور پر ابھرا۔ شومئی قسمت کے قیام پاکستان سے ایک سال سے کچھ اوپرعرصہ میں 11ستمبر 1948ء کو بانی پاکستان نے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کردی۔ قائد ؒ کے سانحہ ارتحال کے بعد نوزائیدہ مملکت پاکستان میں سیاسی افراتفری کا دور شروع ہوگیا اور بڑھتا ہی چلا گیا اور وہ قوم جس نے لاکھوں جانوں کے نذرانے اور ابتلا ومصائب کے کوہ گراں برداشت کرنے کے بعد ملک حاصل کیا تھا وہ قوم، قوم نہ رہی اور ہجوم میں بدل گئی اور سیاسی افراتفری اور ذاتی مفادات نے قومی مفاد پر فوقیت حاصل کر لی۔

جس سے ہمارے ازلی دشمن بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور مختلف مذموم ہتھکنڈوں سے تسلسل کے ساتھ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوگیا اور بالآخر 13مئی 1998ء کو اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے بھارت کے ایک مکمل ایٹمی ملک ہونے کا اعلان کر دیا اس پر اس وقت کے بھارتی وزیر کشن لال ایڈوانی نے کہا کہ ”اب پاکستانی قوم بھارت کے سامنے سر جھکا کر چلے کہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں“ اور پھر پاکستان نے ٹھیک 15دن بعد 28 مئی 1998ء کو بھارتی ایٹمی دھماکوں کا منہ توڑ جواب دیا اور چاغی میں کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے انڈیا کو باور کرایا کہ بھارت حد ادب ملحوظ رکھے۔ پاکستان بھی ایک ایٹمی طاقت ہے اور بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور پاکستان دنیا کا ساتواں اور اسلامی دنیا کا پہلا ایٹمی ملک بن گیا، جس سے عالم اسلام میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور انہوں نے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو زبردست خراج تحسین پیش کیاادھر پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا اوروہ بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے لگی۔

پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا کوئی اتفاق نہیں تھا یہ بارگاہ خداوندگی کے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت ہوا تھا کہ پاکستان کا قیام اسلامی کیلنڈر کے متبرک مہینے رمضان المبارک اور اس مہینے کی فضیلتوں بھری راست شب قدر میں ہوا جو اس بات کا غماض ہے کہ پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے اوررہتی دنیا تک قائم رہے گا۔قیام پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی مخالفین اسلام اور پاکستان اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوگئے اور ہر طرح سے اسے نقصان پہنچانے کے در پہ آزار رہے اور اس حوالے سے بیرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ مخالفین نے پاکستان کے اندر بھی ڈالروں کے عوض اپنے کچھ حواری پیدا کر لئے جنہوں نے ملک کے اندر دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی مگر ہماری شیر دل افواج نے بہادری اور جوانمردی سے اس کا مقابلہ کیا اور اور اس فتنے کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا، فوج اور عوام تو پاکستان کے استحکام اور بقاء کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لیے ہر لمحہ تیار مگر دکھ یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے ملک و قوم کے لیے وہ کچھ نہ کیا جو ان کا فرض تھا جو انہیں کرنا چاہیے تھا مگروہ صرف ذاتی مفادات تک محدود ہو کر رہ گئے اور انہوں نے قومی مفادات کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔

جس کی زندہ مثال یہ ہے کہ ایٹمی ملک پاکستان میں جب کرونا وائرس نے حملہ کیا تو ہمارے ہسپتالوں میں نہ تو وینٹی لیٹر اورنہ ہی حفاظتی کٹس دستیاب تھیں جس کے لیے ہم دوست ملکوں کے دست نگر ہو کر رہ گئے اگر ہمارے سیاستدانوں نے قومی اور عوامی بہبود کے ترقیاتی امور پر توجہ دی ہوتی تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا یہ ہمارے سیاستدانوں کی ہی کارستانیاں ہیں جن کے باعث ہم آج معاشی بحران کا شکار ہیں۔ آج جب ہم موذی وائرس کرونا سے لڑ رہے ہیں ہمارے سیاستداانوں میں اتحاد کا فقدان نمایاں ہے اور اگر سیاستدانوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں اسی طرح اپنے عروج پر رہیں تو حالات گھمبیر سے سنگین ہوسکتے ہیں۔ ہم اپنے سیاستدانوں سے یہی کہیں گے کہ ”دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قباء دیکھ“ خدارا ذاتی اور سیاسی مفادات کو تج کر ملکی اورقومی مفادات کو ترجیح دیں اور پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے کام کریں اور رمضان کریم کی مبارک شب قدر میں وجود میں آنے والے اس ملک اور قوم سے عہد کریں کہ ”جلب زر“ کے بجائے ملک وقوم کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں گے۔ بہ حیثیت مسلمان ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ مبارک گھڑیوں میں قائم ہونے والا یہ ملک ہمیشہ قائم رہے گا اور ساتھ ہی ہم حکومت پاکستان سے گزاریں کریں گے کہ 14اگست کے بجائے 27 رمضان المبارک کا اہتمام کرے کہ شاید ان معتبرساعتوں میں یوم آزادی منانے کے باعث رب کریم ہمارے سیاستدانوں کی اصلاح کردے اور وہ خود کو ملک و قوم کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔ آئیے! ہم سب آج یہ عہد کریں کہ ہم وطن عزیز کی ترقی وخوشحالی اور استحکام کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -