وفاقی محتسب اور احتساب

وفاقی محتسب اور احتساب
وفاقی محتسب اور احتساب

  

انصاف کی بلا تا خیر فرا ہمی ہر معا شرے کی بنیا دی ضرورت ہو تی ہے، جن معا شروں اور مملکتوں میں انصاف میں تا خیر ہو تی ہے وہ بالآخر انتشار کا شکا ر ہو جا تے ہیں شا ید اسی لئے کہا جا تا ہے، انصاف میں تا خیر بھی نا انصا فی ہے۔

پاکستان میں وفاقی محتسب ایک ایسا ادارہ ہے جہاں عام پاکستانیوں کو فوری اور مفت انصاف فراہم کیا جاتا ہے، شکایت گزار کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا اور اسے گھر بیٹھے انصاف مل جاتا ہے۔وفاقی محتسب کے قیام کابنیادی مقصد وفاقی حکومت کے اداروں کے خلاف بد انتظامی کی شکایات کا ازالہ کرنا اور عام شہریوں کو مفت انصاف فراہم کرنا ہے،اسے آپ غریبوں کی عدالت بھی کہہ سکتے ہیں۔معاشرے کے وہ افراد جن کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ عدالتوں اور وکلاء کے بھاری اخراجات برداشت کرسکتے ہیں، ایسے لوگ سادہ کاغذ پر ایک درخواست لکھ کر وفاقی محتسب کو بھجوادیں تو اس پر کارروائی شروع ہوجاتی ہے۔ اس ادارے کی بہتر ین کا رکر دگی کا اندازہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ وفاقی محتسب سید طاہر شہباز نے 2019ء میں 74,869شکایات کے فیصلے کئے، وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کی تاریخ میں اب تک کسی ایک سال میں یہ سب سے زیادہ فیصلے ہیں، تمام شکایات کے فیصلے 60دن کے اندر کئے گئے۔ چو نکہ وفاقی محتسب میں افہا م وتفہیم سے معا ملا ت کو سلجھا نے کی کو شش کی جا تی ہے اس لئے97 فیصدفیصلوں پر عملدرآمد بھی ہو گیا ہے۔ گز شتہ برس وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں سکائپ،IMOاور انسٹا گرام پر شکایات کی سماعت شروع کی گئی، اب شکایت کنندگان گھر بیٹھے سماعت میں شامل ہو سکتے ہیں، انہیں سفرکی صعوبت اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں۔

اس سال کے وسط تک تمام علاقائی دفاتر میں بھی آن لائن سماعت شروع ہو جا ئے گی، شکایات گزار اور ایجنسی کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنے گھر یا دفتر میں بیٹھ کر سماعت میں شریک ہو اور اپنا موقف پیش کر سکے، اس سے شکایت کنندہ کے وقت اور ایجنسی کے سرمائے کی بچت ہو گی۔ وفاقی محتسب کو 2019ء کے دوران 73,059شکایات موصول ہوئیں،سب سے زیادہ شکایات بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کی گئیں جن کی تعداد 32,421ہے،2019ء میں ان کمپنیوں کے خلاف 32,277شکایات کے فیصلے کئے گئے، سوئی گیس کے خلاف 9598شکایات موصول ہوئیں، ان کے علا وہ دس ادارے جن کے خلاف سب سے زیادہ شکایات موصو ل ہوئیں ان میں نادرا، پاکستان پوسٹ آفس، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، پاکستان بیت المال، پاکستان ریلوے، اسٹیٹ لائف انشورنس، آئی بی، بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام اور ای او بی آئی شامل ہیں۔ سال 2019ء کے دوران 23,281شکایات پر وفاقی محتسب نے وفاقی اداروں کو ہدایات اور سفارشات جاری کیں، جن میں سے 20658پر عملدر آمد ہو چکا ہے۔یہ وفاقی محتسب سیدطاہر شہباز کی حسن کار کر دگی کا ثبوت ہے۔

محتسب اور احتساب کا تصوّر سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں شروع ہوا، انہوں نے سرکاری عمال کے خلاف براہ راست شکایات کیلئے سب سے پہلا محتسب مقرر کیا۔ دور جدید میں سب سے پہلے سویڈن میں محتسب (Ombudsman) کا ادارہ قائم کیا گیا۔ اب دنیا کے اکثر ممالک میں سینکڑ وں کی تعداد میں محتسب کے ادارے کام کررہے ہیں۔پاکستان میں سب سے پہلے 1983 ء میں وفاقی محتسب کا ادارہ قا ئم کیا گیا۔ اب ٹیکس محتسب، بنکنگ محتسب، انشورنس محتسب،خواتین کے ہراساں کرنے کے خلاف محتسب نیز چاروں صوبوں اور آزادکشمیر میں محتسب کے ادارے کام کررہے ہیں۔ ایشیائی مما لک میں ”ایشین امبڈسمین ایسوسی ایشن (اے اواے) کے نام سے ایک تنظیم بھی کام کررہی ہے جس کے ارکان کی تعداد44ہے۔ 1996؁ء میں اے او اے کے قیام میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا، تب سے 2010تک اے او اے کے صدرکا منصب بھی پاکستان کے پاس رہا۔اب بھی پاکستان کے محتسب سید طاہر شہباز اے او اے کے صدر بھی ہیں۔ گزشتہ نومبر میں استنبول (ترکی) میں اے او اے کے ایک اجلاس میں انہیں دوسری باراے او اے کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس تنظیم کا صدر دفتر بھی وفاقی محتسب سیکریٹریٹ اسلا م آباد میں ہے۔

وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں روزانہ سینکڑوں شکایات موصول ہوتی ہیں اور اسی روز بغیر کسی تاخیر کے اُن پر کارروائی شروع ہوجاتی ہے اور اگلے روز شکا یت گزار کو ایس ایم ایس کے ذریعے اسکی شکایت کا نمبر او رتاریخ سماعت کی اطلاع کر دی جاتی ہے اور ساٹھ دن کے اندر ہر شکایت کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ پاکستان کی کسی عدالت میں اتنی جلدی فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ اعزاز صرف محتسب کے ادارے کو حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے غریب شہریوں کو ان کی دہلیز پرفوری اور مفت انصاف فراہم کر رہا ہے.۔وفاقی محتسب کے فیصلوں پر کوئی بھی فریق نظر ثانی کی اپیل کر سکتا ہے‘ جس کا فیصلہ 45دن میں کر دیا جاتا ہے۔ فیصلوں کے خلاف اپیل صرف صدر پاکستا ن کو کی جا سکتی ہے۔صدر پاکستان بھی عموماً محتسب کے فیصلوں کو بحال رکھتے ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ پچھلے برس2019 ء میں وفاقی محتسب کے74,869 فیصلوں میں سے صرف317فیصلوں کے خلاف صدر پاکستان کو اپیل کی گئی جن میں سے صدر پاکستان نے صرف 23اپیلیں قبول کیں جو شکایت کنندگان کی تھیں، ایجنسی کی طرف سے وفاقی محتسب کے خلاف صدر پا کستا ن نے کوئی ایک اپیل بھی قبول نہیں کی۔

وفاقی محتسب عوام الناس کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کیلئے بھی سر گرم ہے۔ اس مقصد کیلئے او سی آر کے نام سے ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت وفاقی محتسب کے افسران تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں جا کر عام شہریوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کر تے ہیں۔ ایسی شکا یا ت کا فیصلہ45 دن میں کیا جا تا ہے۔یہ ایک ایسا انقلابی قدم ہے جسے پوری دنیا میں سراہا گیا۔ او سی آر (OutreachComplaintResolution) نظام کے تحت 2019ء کے دوران وفاقی محتسب کے افسران نے تحصیل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرزپر خود جا کر سما عت کی اور5374 شکایات کا ازالہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی محتسب نے شکایات کے فوری ازالہ کیلئے تمام وفاقی اداروں کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ ادارہ جاتی سطح پر شکایات کو حل کرنے کا نظام و ضع کریں چنانچہ بیشتروفاقی اداروں نے اپنے ہاں شکایات سیل قائم کر رکھے ہیں جہاں کو ئی بھی شخص شکا یت کر سکتا ہے۔ اگر ادارہ کی سطح پر شکایات 30دن میں حل نہ ہوں تو وہ ایک خود کار نظام کے تحت وفاقی محتسب کے کمپیوٹر ائزڈ سسٹم پر آجاتی ہیں اور وفاقی محتسب میں ان پر کارروائی شروع ہو جاتی ہے، اس مقصد کیلئے وفاقی حکومت کے اکثر اداروں کو وفاقی محتسب کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔

وفا قی محتسب نے اپنے آپ کو صرف شکایات کے فیصلوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف اداروں کے نظام کی اصلاح کیلئے متعلقہ شعبوں کی نامور شخصیات کی سربراہی میں مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں‘جن کی سفارشات کو سپریم کورٹ تک نے نہ صرف سراہا بلکہ سپریم کورٹ نے وفاقی محتسب سے کہا کہ وہ پاکستان میں تھانوں اور جیلوں کی اصلا ح کے با رے میں صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد تجاویز دیں کہ جیلوں کی اصلا ح کیسے ممکن ہے اور تھانوں کو کیسے عوام دوست بنایا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ کی اس ہدایت پر وفاقی محتسب نے انتہائی تجربہ کار عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی کے سرکردہ ا فراد اور جیلوں سے متعلق اعلیٰ سرکاری افسران پر مشتمل مختلف کمیٹیاں بنائیں جن کی جانب سے تیار کردہ طویل ریسرچ پر مشتمل رپورٹیں سپریم کورٹ آف پاکستان اور متعلقہ سرکاری اداروں کو ارسال کی گئیں۔ان کمیٹیوں نے ملک بھر کی جیلوں کے دورے کر کے وہاں قیدیوں کی حالت زار کا مشاہدہ کیا اور پھر جیلوں کے نظام کی اصلاح کیلئے سفارشات مرتب کر نے کے ساتھ ساتھ کچھ عملی اقدامات بھی اٹھائے۔جن میں مخیر حضرات کے ساتھ مل کر قیدیوں کیلئے جیلوں کے اندر سہولیات فراہم کرنے کا بندوبست کیا گیا۔تقریباً اڑھائی تین سوکے لگ بھگ ایسے قیدیوں کا جرمانہ ادا کر کے ان کو رہائی دلوائی گئی جو جرمانہ کی رقم نہ ہونے کے سبب سال ہا سال سے پس دیوار زنداں پڑے ہوئے تھے۔

وفاقی محتسب نے مختلف یونیورسٹیوں او رتعلیمی اداروں کے تعاون سے قیدیوں کیلئے مفت تعلیم کابندوبست کیا‘ملک بھر کی جیلوں میں قید خواتین اور بچوں کوعید کے موقع پر نئے کپڑ ے، کھانے پینے کی اشیاء اور بچوں کو تحا ئف دئیے گئے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی محتسب کی ذمہ داری لگائی کہ جیلوں کی اصلاح اور قیدیوں کو سہولیات کے حوالے سے سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنا نے کیلئے بھی وفاقی محتسب اقدا مات اٹھا ئیں۔ اس سلسلے میں وفاقی محتسب سپریم کورٹ کو پانچ سہ ماہی رپورٹیں پیش کر چکے ہیں،ہررپورٹ سے قبل وفاقی محتسب سید طا ہر شہباز خود چاروں صوبوں میں جاکر چیف سیکریٹریز، آئی جی جیل خانہ جات اور دیگر متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کر تے رہے جس سے ملک بھر کی جیلوں میں کافی بہتری آئی ہے، قیدیوں کو مفت تعلیم سمیت متعدد سہولیات فراہم کی گئیں اور ذہنی مریض قیدیوں کو عام قیدیوں سے الگ رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

وفاقی محتسب نے پنشنرز کے مسا ئل کے حل کیلئے بھی متعدد اقدا مات اٹھا ئے۔ قبل ازیں پنشنرز صرف نیشنل بنک سے تنخواہ لے سکتے تھے، پنشنروں کو ہر ماہ اپنی پنشن وصول کرنے کیلئے گھنٹوں نیشنل بنک کے با ہر لمبی قطا روں میں کھڑا ہو نا پڑ تا تھا۔ وفاقی محتسب نے اس صو رتحال کا نو ٹس لیا ا ور یہ ہدا یت کی کہ پنشنروں کی پنشن ان کے اکاؤنٹ میں بھیجی جا ئے اور وہ جب چا ہیں، اے ٹی ایم کارڈ یاچیک کے ذریعے رقم نکلوا لیں۔ علا وہ ازیں وفا قی محتسب نے تمام سر کاری اداروں کو ہدا یت کی کہ وہ اپنے ہا ں کم از کم گر یڈ انیس کے افسر کی سر برا ہی میں ایک پنشن سیل قا ئم کر یں جو ریٹائر ہونے والے سر کاری ملا زم کی ریٹا ئر منٹ سے ایک سال قبل اس کی پنشن کے کا غذات مکمل کر نا شروع کر دے تا کہ اس کی پنشن اور دیگر واجبات کی ادائیگی میں تا خیر نہ ہو۔ بیرون ملک پا کستا نیوں کی سہو لت کیلئے وفاقی محتسب نے پا کستان کے تمام بین الا قوامی ہوا ئی اڈوں پر ون ونڈو ڈیسک قائم کئے ہیں جہا ں بیرون ملک پاکستانیوں سے متعلق چودہ سر کاری محکموں کے افسران چو بیس گھنٹے مو جود رہتے ہیں اور مسافروں کی شکا یات کو مو قع پر ہی حل کر دیا جاتا ہے۔ وفاقی محتسب نے پا کستان کے تمام سفا رتخا نوں کو ہد ایت کر رکھی ہے کہ پا کستان کے سفیر ہفتے میں ایک دن بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے مختص کر یں اور ان کی شکا یا ت سن کر ان کا فوراً ازالہ کریں۔

مزید :

رائے -کالم -