ہوئی صبح اور گھر میں کان پر رکھ کر قلم بیٹھے

ہوئی صبح اور گھر میں کان پر رکھ کر قلم بیٹھے
ہوئی صبح اور گھر میں کان پر رکھ کر قلم بیٹھے

  

میری عمر کے بزرگوں کی حالت آج کل وہی ہے جس کا نقشہ غالب کے درجِ بالا مصرع میں (بہ ادنیٰ تصرّف) کھینچا گیا ہے۔ میں ایک عرصے سے پولن اور ڈسٹ کی الرجی کا مریض بھی ہوں۔ ازراہِ اتفاق کورونا کی آمد آمد کی جو علامات بارہا میڈیا وغیرہ پر بتائی گئی ہیں وہ عین مین وہی ہیں جو پولن اور الرجی کی ہوتی ہیں۔مثلاً خشک کھانسی کے باؤٹ (دورے) گلے کی خراش، چھینکیں اور ہلکا بخار…… ان علامات کا روایتی علاج وہی ہے جس کو مَیں نے (اور آپ میں سے اکثر احباب نے بھی) بارہا آزمایا ہے یعنی نیم گرم پانی کے غرارے، بھاپ لینا، اینٹی الرجی ادویات کے انبار میں سے ایسی گولی کھانا جو آپ کو راس آئے، ترش اشیاء سے پرہیز، اینٹی بائیوٹک ادویات سے حتی الوسیع اجتناب اور اگر ناک سے پانی کی طرح رطوبت نکل رہی ہو تو اس کو روکنے کی بجائے بہنے کی ”کھلی اجازت“ دینا، لوگوں سے ملنے جلنے سے پرہیز اور بستر پر لیٹے رہنا وغیرہ…… میں نے گزشتہ20،25 برسوں میں یہ بھی آزمایا ہے کہ ان ایام میں سنجیدہ موضوعات کے مطالعے سے گریز کیا جائے، ہلکی پھلکی موسیقی سے چشم و گوش کو بہلایا جائے اور فون پر کسی طویل بحث و مباحثے سے اجتناب برتا جائے تو افاقہ میں تیزی آتی ہے۔

کورونا وائرس اٹیک کی ابتدائی علامات بھی اس پولن الرجی اٹیک سے ملتی جلتی ہیں۔ موخر الذکر اٹیک مارچ اپریل میں یا اکتوبر نومبر میں زیادہ ہوتا ہے یعنی آتی بہار اور جاتی بہار کے دونوں موسم الرجی اٹیک کے موسم ہیں، پھولوں کے کھلنے کا موسم اور پھر موسم سرما کے پھولوں کی شروعات کا موسم بقولِ شاعر الرجی اٹیک کا موسم ہے۔

پھر موجِ ہوا پیچاں اے میر نظر آئی

شائد کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی

ایامِ جوانی میں مجھے شاعری کا ”عارضہ“ بھی لاحق رہا۔اب اگرچہ آمد کا وہ زور ختم ہو چکا ہے(اور آورد سے یک گونہ نفرت سے) لیکن اچھا شعر سننے اور پڑھنے کا اتفاق ہو جائے تو سارے پرہیز دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

شائد یہ بھی اتفاق ہو کہ جب سے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے تب سے مجھے انہی آثار و علامات سے سابقہ پڑا جو اس کورونا رُت سے پہلے کی رُتوں میں معمول تھا۔ بچوں نے سختی سے منع کر دیا کہ باہر لان میں نکل کر بھی نہ بیٹھیں، کہ بعض اندازے یہ خبریں بھی دے رہے ہیں کہ یہ وائرس کھلی فضاؤں میں بھی شاداں و فرحاں اڑتا رہتا ہے،اِس لئے احتیاط لازم ہے۔ ناک اور منہ پر ماسک چڑھانا میرے لئے ایک ناگوار اور اضافی سا عمل ہے اِسی لئے باہر کھلی فضاء میں نہ بیٹھنا ایک بہتر آپشن تھی اِس لئے کمرے میں مقید ہونا ایک مجبوری بن چکا ہے۔ الحمد للہ ٹمپریچر نارمل ہے لیکن باقی علامات جو الرجی اٹیک اور کورونا اٹیک میں یکساں اور مشترک ہیں وہ برابر موجود ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر کورونا ہوتا تو گزشتہ تین چار ہفتوں میں اپنی اگلی سٹیج کا مظاہرہ تو کرتا۔اگر نہیں کیا تو الرجی اٹیک ہے اور جوں جوں دن گزر رہے ہیں، میرے شکر ِ ایزدی میں اضافہ ہو رہا ہے۔غالب کے مصرع میں جس قلم کو کان پر دھرا تھا، اسے گاہے بگاہے سرکا لیتا ہوں، سنجیدہ موضوعات کا لٹریچر کہیں نظر بھی آ جائے تو بیک برنر پر ڈال دیتا ہوں۔ ہلکی پھلکی تحریروں سے حظ اٹھانے کی لت تیز تر ہو چکی ہے۔میڈیا کو سنتا یا پڑھتا ہوں تو ایسے ٹاک شوز اور کالم نظر انداز کر دیتا ہوں جن میں دہرائے ہوئے آموختہ کی گردان نظر آتی ہے یا سنائی دیتی ہے۔

میڈیا کے کئی موضوعات پر تنقید و تبصرہ کرنے کی ”خارش“ ہوتی ہے تو ہاتھ کان تک ضرور جاتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ قلم کو اتاروں اور قرطاسِ ابیض کو حروفِ اسود سے لبریز کر دوں،لیکن پھر سوچتا ہوں کہ مشرقی و مغربی اطباّ نے کورونا کی احتیاطی تدابیر کے سلسلے میں جو ”ادویات“ تجویز کی ہیں ان میں مصافحہ و معانقہ کی ممانعت، مخاطب سے5،6 فٹ دور رہ کر بات کرنا اور ناک اور منہ پر حجاب اوڑھنا وغیرہ تو خارجی تدابیرہیں۔ان کی پیروی ابلہ ِ مسجد سے لے کر پیش امام تک سب پر لازم ہے لیکن ان خارجی حفاظتی تدابیر کے علاوہ وہ داخلی احتیاطی تدابیر بھی تو ہیں جن کی خبریں صرف آئمہ حضرات کو ہوتی ہیں،موذن یا خادمِ مسجد کو نہیں۔ان پر نقد و نظر کرنے کے لئے دماغ پر زور دینا پڑتاہے اور یہی زورِ دماغ کسی امام مسجد کو الرجی اٹیک سے کورونا اٹیک کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔

کورو نا کے اس وبائی دور میں اگر زیادہ سنجیدہ اور ادق مضامین و موضوعات کو درخورِ توجہ نہ بھی بنایا جائے تو غالب کی طرحِ یہ منادی تو کی جا سکتی ہے کہ:”کسی نے اگر اُن کو خط لکھوانا ہے تو ہم حاضر ہیں اور یہی تمنا دِل میں لئے صبح ہوتے ہی کان پر قلم رکھ کر باہر نکل جاتے ہیں“۔…… لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر مرزا کے دور میں کورونا وائرس پھیلا ہوتا تو کیا وہ اس ”خارجی ایکسر سائز“ پر عمل کرتے؟ اگر ضد کر کے کرتے بھی تو دو تین روز بعد خشک کھانسی، چھینکوں اور خارشِ گلو کا شکار ہو کر اپنی حویلی میں شام ڈھلے واپس آ جاتے اور اس طرح کی غزلیات کا تانتا باندھ دیتے:

پڑیئے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار

اور اگر مر جایئے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

گزشتہ تین چار ماہ میں مہذب اور ترقی یافتہ اقوام (امریکی، اطالوی،برطانوی، فرانسیسی، اسپینی، پرتگالی،روسی اور جرمن وغیرہ) میں روزانہ ہزاروں کی تعداد نے غالب کی آرزو کو عملی جامہ پہنانے کی طرف شدت سے پیشرفت کی ہے اور ان کی تیمار داری کے لئے تحفظی لباس پہنے اور فرشتوں کی سی صورت بنائے بہت سے اطباّ جو ان کے دائیں بائیں نظر آئے اور جب وہ مر گئے تو واقعی کوئی نوحہ خواں نہ ان کی لحد پر آیا اور نہ تعزیت کے لئے مرحومین کے گھروں کا رُخ کیا۔…… ان ممالک میں آپا دھاپی اور نفسا نفسی کا یہ عالم بڑا ہی رقّت آمیز اور عبرت آموز تھا!

مجھے بند کمرے میں لیٹے لیٹے خیال آیا کہ وہ جو خواجہ حافظ شیرازی نے کہا تھا کہ: ”اس دور میں کوئی بھی دوست ضرر سے خالی نہیں …… ہاں اگر کوئی ہے تو صراحی ئ شرابِ ناب اور سفینہئ غزل ہے“۔

دریں زمانہ رفیقے کہ خالی از خلل است

صراحی ئ مئے ناب و سفینہئ غزل است

حافظ کا دور بہت پُرآشوب تھا۔726ھ میں پیدا ہوئے اور791ھ میں انتقال کیا۔ یعنی65 برس کی عمر پائی۔ اگر ہجری سالوں کو شمسی سالوں میں تبدیل کر دیا جائے تو حافظ کی عمر تقریباً60سال بنتی ہے۔ صرف دو بار شیراز سے باہر نکلے اور اصفہان تک گئے اور پھر واپس شیراز آ گئے۔ حافظ کے دور میں ہندوستان میں فیروز شاہ تغلق جلوہ افروز تھا۔ ایران میں طوائف الملوکی(انارکی) عروج پر تھی۔ ان کے کلام میں جا بجا اس کے اشارے ملتے ہیں۔ یہ کالم نہ تو حافظ کی شاعری کی خصوصیات کے بارے میں ہے اور نہ اس شاعر بے بدل کے پُرآشوب دور کے بارے میں ہے۔حافظ کو ”لسان الغیب“ بھی لکھا جاتا ہے یعنی ان کا کلام ”غیب“ کی آواز تھی۔ غیب سے مراد خدا کی ذات لی جاتی ہے۔ آج دنیا بھر میں کورونا وائرس کی جس وبا کی حکمرانی ہے ویسی وبا پہلے کبھی کسی تاریخ میں پڑھنے کو نہیں ملی۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ زمانہ بارہا جنگی آویزشوں کی آماج گاہ بنتا رہا۔ آفاتِ ارضی و سماوی کے اٹیک دنیا پر کئی بار ہوئے لیکن ان کا دائرہ عالمگیر نہیں تھا، علاقائی یا بر اعظمی تھا، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس وائرس نے تو اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں …… اب ہر جگہ یہ بحث چل رہی ہے کہ کورونا جب ختم ہو گیا تو دنیا اتنی تبدیل ہو چکی ہو گی کہ اس کو ایک ”نئی دنیا“ کہا جائے گا۔ نیو ورلڈ آرڈر(یا نیا عالمی نظام) کی اصطلاح کئی بار دنیا میں دیکھنے کو ملی (بالخصوص بڑی بڑی جنگوں کے بعد) لیکن اب دنیا ما بعد کورونا(Post Corona) دور کو جس نام سے یاد کرے گی اس اصطلاح کو فی الحال کسی نے ایجاد نہیں کیا(کل کی خبر نہیں)

خواجہ حافظ کی جس غزل کا مقطع اوپر درج کیا ہے،اسی کا ایک اور شعر بھی حسب ِ حال ہے:

جریدہ رو کہ گزر گاہِ عافیت تنگ است

پیالہ گیر کہ عمرِ عزیز بے بدل است

(اکیلا چل کہ عافیت کا راستہ تنگ ہے۔ شراب کا پیالہ تھام کہ عمر ِ عزیز پھر لوٹ کر نہیں آئے گی)

حافظ، میر تقی میر اور غالب کے علاوہ بہت سے شاعروں نے اس کیفیت کی منظر کشی کی ہے جس میں آج پاکستان ہی نہیں دنیا کی غالب آبادی گرفتار ہے۔ ان شعرا کے افکار کو پڑھ کر کورونا کے یہ ایامِ اسیری گوارا کئے جا سکتے ہیں …… اور ہاں جن حضرات اور خواتین نے قرآن حکیم کا باترجمہ و تفسیر مطالعہ نہیں کیا،ان کے لئے یہ وقفہ ئ تنہائی غنیمت ہے بالخصوص ان سورتوں کا ترجمہ دیکھئے جو مکی دور میں آنحضورؐ پر نازل ہوئیں اور جن میں قیامت کی نشانیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔یہ سارا نقشہ وہی ہے جس کی ابتدا کورونا وبا کے اِس دور میں ہو چکی ہے۔…… جی چاہتا ہے اس کا ذکر بھی کسی کالم میں کروں۔ اگرچہ مجھے مذہب کی وہ تفہیم حاصل نہیں جو علمائے دین کو ہے پھر بھی میں نے اب تک جو کچھ سمجھا ہے اس کو قارئین کے سامنے رکھنے کی آرزو ہے!

مزید :

رائے -کالم -