کرونا جُون میں بھی کچھ نہ کر سکے گا

کرونا جُون میں بھی کچھ نہ کر سکے گا
 کرونا جُون میں بھی کچھ نہ کر سکے گا

  

کرونا وائرس پر تاجروں نے اپنی منوالی، اب ٹرانسپورٹر حضرات تلے ہوئے ہیں، شیخ رشید کی تو بات ہی الگ ہے، انہوں نے تو سیدھا بتادیا کہ ان کا محکمہ وزیر اعظم کے انڈر ہے اور وہ ان سے ملاقات میں 21کروڑ کے ملک میں 24کروڑ مسافروں کے کراچی سے لاہور سفر کے لئے ٹرین کی منظوری کروالیں گے۔

سپریم کورٹ علیحدہ سے حکومت کے لتے لیتی نظر آئی اور حکومت بقول پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان کے ارطغرل ڈرامہ دیکھنے میں مصروف ہے۔ یہاں پر بھی شیخ رشید ہی وزیر اعظم عمران خان کے کام آئے جنھوں نے عید کے بعد ٹارزن کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے نیب کی خفیہ سرگرمیوں کا کھاتہ کھول لیا ہے اور عوام کو اپوزیشن کے پیچھے لگادیا ہے۔ حیرت کی بات البتہ یہ ہے کہ ابھی تک کسی نے بھی شیخ رشید سے نہیں پوچھا کہ آیا وہ بھی ارطغرل ڈرامہ دیکھ رہے ہیں یا نہیں!

کرونا وائرس، ملک بھر میں لاک ڈاؤن، تاجروں کی ہاہا کار، وفاق او رسندھ کی تو تو میں میں اور پارلیمنٹ کا پھسپھسا سا اجلاس، گزشتہ چند دنوں میں کیا کچھ نہیں ہوگیا مگر اس کے باوجود ملک کے سیاسی منظر نامے پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ناک ڈاؤن ہوچکا ہے اور کہیں بھی بہار کے امکانات روشن ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہونے کی توقع ہے جو نہیں ہو پا رہا ہے۔ حکومت کی تبدیلی یا کاروباری سرگرمیوں کا آغاز، عوام ایک ایسے دوراہے پر آن کھڑ ے ہوئے ہیں کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ وہ دونوں میں سے کیا چاہیں گے تو ان کا جواب ہوگا کہ وہ کاروباری سرگرمیوں کا آغاز چاہتے ہیں۔ چاہتے تو عمران خان بھی یہی ہیں لیکن کچھ حلقے ایسے ضرور ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اگر عوام نے دوبارہ سے پیٹ بھر کھانا شروع کردیا تو حکومت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہو جائیں گے اس لئے بہتر یہی ہے کہ عوام کو لاک ڈاؤن میں ہی رکھا جائے۔

ہمارے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ اب لاک ڈاؤن آہستہ آہستہ کھل جائے گا کیونکہ حکومت کو جہاں جہاں سے امداد ملنے کی توقع تھی، مل چکی۔ اب اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ملنے کا!.... یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کی ٹائیگر فورس کا غلغلہ بھی مدھم پڑگیا ہے اور عید کی خریدوفروخت کے جوش و جذبے کے سامنے کرونا وائرس کا خوف ماند پڑگیا ہے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ خود کرونا بھی یہ سوچ کر کہیں اور نکل گیا ہو کہ یہ قوم عید کے موقع کو ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں ہے، خواہ وہ کتنی ہی انسانی جانیں کیوں نہ لے لے، اس لئے یہاں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خیر دیکھئے اب جون کے مہینے میں کیا بنتا ہے جس میں کرونا کی وبا کے پھیلنے کی خبر وفاقی وزیر فوا د چودھری نے دی ہے کیونکہ مئی کے مہینے میں تو کرونا کو عید کی شاپنگ کے جذبے نے شکست دے دی ہے، حالانکہ وزیر اعظم کا خیال تھا کہ مئی کے مہینے میں کرونا عروج پر ہوگا۔ البتہ ہوا اس کے بالکل برعکس ہے اور مئی کے مہینے میں عید کی خریداری عروج پر ہے!

اب اگر جون میں کرونا نے اپنا آپ دکھانا ہے تو ہمیں نہیں لگتا کہ کچھ خاص فرق پڑے گا کیونکہ جون میں تو مئی سے بھی زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ ہورہا ہوگا کیونکہ جون کے مہینے میں حکومت نے اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کرنا ہے۔ اس سال بجٹ میں عوام کا دل ہے کہ حکومت سے ہر طرح کی رعائت لے لے، بلکہ وہ رعائت بھی لے لے جو ابھی بجٹ بنانے والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکی ہے۔ چنانچہ جون کے مہینے میں تو اس سے بھی بڑھ کر مارا ماری ہورہی ہوگی، اس مہینے میں کہاں کسی کو کرونا کا ہوش ہوگا، جس طرح کہ اب عید کی شاپنگ کے جوش میں لوگ کرونا کو دو ٹکے کا کرچکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر چونکہ شیخ رشید کے بقول عید کے بعد دونوں طرف سے پکڑ دھکڑ شروع ہونی ہے، اس لئے تب تو بالکل ہی کرونا کا ناس پھرجائے گا اور سُنجی گلیوں میں نیب گھوم رہی ہوگی!

مزید :

رائے -کالم -