سندس فاؤنڈیشن کوکراچی اور پشاور میں بھی فعال کریں گے، یاسین خان

  سندس فاؤنڈیشن کوکراچی اور پشاور میں بھی فعال کریں گے، یاسین خان

  

لاہور(سٹی رپورٹر)محمد یاسین خان نے 1998ء میں گوجرانوالہ میں سُندس فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ سُندس فاؤنڈیشن ایک فلاحی اِدارہ ہے جہاں تھیلے سیمیا،ہیمو فیلیا اور خون کے دیگر امراض میں مبتلا بلامعاوضہ علاج معالجہ حاصل کرتے ہیں۔ سُندس درا صل اِس اِدارہ کی پہلی مریضہ تھی جس کے نام پراِدارہ فعال ہو ا۔ سُندس فاؤنڈیشن کاکام دیکھتے ہو ئے اور اِدارہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی خدمات کو سراہتے ہو ئے منیر احمد قریشی ”منوبھائی“ بھی اِس قافلہ میں شامل ہو گئے اور بطور چیئرمین سُندس فاؤنڈیشن تاحیات خدمات سر انجام دیں یہ یاسین خان کی انتھک محنت تھی کہ سُندس فاؤنڈیشن آج پاکستان کے 6شہروں (لاہور، گوجرانوالہ،سیالکوٹ،گجرات، فیصل آباد، اسلام آباد) میں تقریباً 6000 بچوں کو بلا معاوضہ سروسز فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تھیلے سیمیا خون کی ایک مورو ثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ دو تھیلے سیمیا کیریئر آپس میں شادی کر لیں تو 25 فیصد امکان ہے کہ آنے والا بچہ یا بچی تھیلے سیمیا کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہیمو فیلیا خون کی ایسی بیماری جس میں انسانی جسم میں خون کا انجماد صحیح طریقے سے نہیں ہو پاتا نتیجتاً کہیں بھی قسم کی چوٹ یا زخم آنے پر خون بہنا شروع ہو جاتا ہے اور اُس وقت تک نہیں رکتا جب تک اُسے خون کا ایک خاص جزو FFPیا CPکا انتقال نہ کر دیا جائے۔اِس طرح خون کی دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو بھی سُندس فاؤنڈیشن بلا معاوضہ علاج معالجہ فراہم کر رہا ہے۔انہوں مزید بات کر تے ہو ئے کہا کہ اِدارہ کی خدمات کو دیکھتے ہوئے سہیل وڑا ئچ،سہیل احمد عزیزی، خالد عباس ڈار اور مختلف سماجی شخصیات سے بھی سُندس فاؤنڈیشن میں بطور ڈائر یکٹرز شمولیت اختیار کی۔ سُندس فاؤندیشن تھیلے سیمیا کے مریضوں کے لیے یہ ایک سائبان ہے اور عوام کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے سُندس فاؤنڈیشن کراچی اور پشاور میں بھی اپنی شاخیں فعال کرنے جارہا ہے۔

۔منوبھائی نے سُندس فاؤنڈیشن کی سرپرستی کرتے ہو ئے عزم کیاتھا کہ وہ ایک ایسا ہسپتال بنائیں گے جہاں تھیلے سیمیا کے مریض کو کسی بھی قسم کی تکلیف کے لیے کسی دوسرے ہسپتال میں جانے کی ضرورت نہ پڑے گی اِس مقصد کو پورا کرتے ہو ئے سُندس فاؤنڈیشن نے ایک جگہ خریدی اور اسی کی بنیاد ان شاء اللہ اِس سال رکھ دی جائے گی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -