پنجاب، سندھ میں شاپنگ مالز، پلازے کھولنے کی اجازت، ماسک پہننا لازمی قرار، پنجاب حکومت ٹرانسپورٹرز میں ڈیڈ لاک بدستور برقرار

پنجاب، سندھ میں شاپنگ مالز، پلازے کھولنے کی اجازت، ماسک پہننا لازمی قرار، ...

  

لاہور،کراچی،کوئٹہ(سٹاف رپورٹرز، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پروزیراعلیٰ آفس میں کابینہ کمیٹی برائے کورونا کنٹرول کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پنجاب میں شاپنگ مال اور پلازے صبح 9 بجے تا شام 5 بجے تک کھولنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ فوڈکورٹ، سٹال، ریسٹورنٹ، پلے رائڈ وغیرہ بند رہیں گی جبکہ ریسٹورنٹ عید کے بعد کھلیں گے، دن اور اوقات کا تعین بعد میں ہوگا۔ دکانیں، کاروبار اور مارکیٹیں بھی صبح 9 بجے تا شام5 تک کھولی جائیں گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کورونا کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کو دوران بیماری خصوصی الاؤنس ملے گا جبکہ کورونا سے شہید ہونیوالے پولیس اہلکاروں کو شہداء پیکج ملے گا۔ پرہجوم مقامات پر منہ اور ناک ڈھانپنا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ کورونا ڈیوٹی کرنیوالے ڈاکٹروں اور ہیلتھ پروفیشنلز کا تعین کرنے کیلئے 5 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ ہر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی کی تصدیق پر کورونا ڈیوٹی کرنیوالے ہیلتھ پروفیشنلز کو اضافی تنخواہ دی جائیگی۔کورونا سے برسرپیکار ڈاکٹروں اور ہیلتھ پروفیشنلزکی مصدقہ لسٹ موصول ہو نے پر الاؤنس کی عید سے پہلے ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔ سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا پنجاب میں ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد کورونا ٹیسٹ ہو چکے ہیں اور 28 فیصد سے زائد مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔ لیبارٹریز میں کام کرنیوالے سٹاف کو عید کے دنوں میں شفٹوں میں بلایا جائیگا۔ صوبائی وزراء راجہ بشارت، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں اسلم اقبال، فیاض الحسن چوہان، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، سیکرٹریز سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن، پرائمری اینڈ سیکرٹری ہیلتھ کیئر، خزانہ، اطلاعات، کمشنر لاہور ڈویژن نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، ڈی جی پی ڈی ایم اے،چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی،دیگر متعلقہ افسران اور 4 کور ہیڈکوارٹر سے اعلیٰ عسکری حکام ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔دوسری طرف پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز میں ڈیڈلاک برقرار ہونے سے ٹرانسپورٹ کا پہیہ نہ چل سکا، لاہور سمیت مختلف شہروں میں بس ٹرمینلز خالی ہونے سے مسافر خوار ہوتے رہے۔اسلام آباد کا فیض آباد بس اڈہ بھی بندرہا،تاہم پشاور میں ڈیڑھ ماہ سے بند پبلک ٹرانسپورٹ بحال ہوگئی ہے، ٹرانسپورٹرز کی من مانیاں جاری ہیں، پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے باوجود کرائے کم نہیں کیے گئے۔ادھر سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے سندھ حکومت نے بھی شاپنگ مالز کھولنے کی اجازت دیدی۔سندھ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شاپنگ مالز کھولنا ضابطہ کار (ایس او پیز) پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق شاپنگ مالز میں موجود بیوٹی پارلر،سیلون، پلے ایریا اور فوڈ کورٹ بند رہیں گے۔سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق دکانیں جمعہ، ہفتہ اتوار کو بھی کھلی رہیں گی اور دکانوں اور کاروباری مراکز کھلنے کا وقت صبح 8 سے شام 5بجے تک ہوگا۔دوسری طرفکوئٹہ میں حالات کے پیش نظر صوبائی حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ نا کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایس اوپیز کے بغیر ٹرانسپورٹ کھولنے سے کورونا دیہاتوں تک پھیل سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان حکومت نے ایک بار پھر پبلک ٹرانسپورٹ اور ریل ٹرانسپورٹ کو کھولنے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے صوبے میں فوری طور پر پبلک ٹرانسپو رٹ نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں کورونا وائرس سے متعلق امور اورہسپتالوں کی کورونا وائرس کے طبی آلات کی ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا۔بلوچستان کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے اجلاس کو مجموعی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے میں کورناوائرس کا مقامی پھیلاؤ 94 فیصد اور باہر سے آنیوالوں کی وجہ سے 6 فیصد ہے۔اجلاس میں روڈ ٹرانسپورٹ اور ریل ٹرانسپورٹ کو کھولنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ایس او پیز کے بغیر ٹرانسپور ٹ کھلنے سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ دیہاتوں تک پھیل سکتا ہے اسلئے کوئٹہ کے لو گ شہر سے باہر نہ جائیں اور باہر والے کوئٹہ نہ آئیں کیونکہ وائرس کے اثرات کوئٹہ میں زیادہ ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عید میلوں پر مکمل پابندی ہو گی جبکہ عید گاہوں کی تعداد میں اضافہ کر کے رش کو کم کیا جائیگا۔اجلاس میں گندم کی خریداری کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ گندم ذخیرہ کرنیوالوں کیخلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

پنجاب،بلوچستان

مزید :

صفحہ اول -