حملے کے کچھ عرصہ کو چھوڑ کر افغانستان میں ہمارا کردار فوجی نہیں پولیس جیسا رہا ہے:صدر ٹرمپ

حملے کے کچھ عرصہ کو چھوڑ کر افغانستان میں ہمارا کردار فوجی نہیں پولیس جیسا ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان،بیورو چیف) امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ہمارا افغانستان میں فوجی کی بجائے پولیس فورس جیسا کردار رہا ہے اور وہاں حملے کے بعد ا بتد ا ئی عرصے کو چھوڑ کر امریکہ نے جتنی بھی کارروائیں کیں ان کا مقصد جنگ جیتنا نہیں تھا۔ انہو ں نے اپنی اس رائے کا اظہار وال سٹریٹ جرنل کے ایک ایڈیٹوریل کے جوا ب میں اپنے ردعمل میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اخبا ر چا ہتا ہے کہ میں افغانستان میں عجلت سے فیصلے نہ کروں۔ کوئی اس اخبار کے ایڈیٹوریل بورڈ کو سمجھائے کہ ہم وہاں انیس سال سے موجود ہیں،جہاں ہم نے اپنی فوج کی تعداد بہت زیادہ گھٹا دی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ سب کچھ عجلت میں بغیر سوچے سمجھے کیا گیا ہے؟ اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے طالبان کا ذکر کرتے ہوئے کہا ان کی افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بارے میں دو رائے ہیں ایک طرف طالبان امریکی فوج کے انخلاء کے خواہشمند ہیں اور دوسری طرف وہ چاہتے ہیں کہ یہ فوج کچھ عرصہ مزید رہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈالر سمیٹے جاسکیں۔ صدر ٹرمپ نے افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک عظیم فوجی طاقت ہونے کے باوجود امریکہ نے وہاں صرف پولیس فورس کا کردار ادا کیا۔ افغانستان میں امریکی فوج کی آمد کے وقت حالات کچھ اور ہوسکتے ہیں، لیکن ابتدائی مختصر عرصے کو چھوڑ کر امریکہ نے وہاں کارروائیں جنگ جیتنے کیلئے نہیں کیں۔ صدر ٹرمپ در اصل یہ کہنا چاہتے تھے کہ انہوں نے کابل انتظا میہ اور عام شہریوں کو جنگجووں سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے۔ صدر ٹرمپ کے اس تبصرے کا سبب اتوار کو ”افغانستان سے حوصلہ افزا خبر“ کے عنوان سے چھپنے والا اداریہ تھا۔ اداریئے میں کہا گیا تھا کہ طالبان جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ صدارتی انتخاب سے قبل افغانستان سے اپنی فوج کے انخلاء کیلئے بہت بے چین ہیں کیونکہ وہ اس اقدا م کو اپنی سفارتی فتح قرار دے کر انتخابات میں اس کا فائدہ حاصل کرسکیں۔ اداریئے میں اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا کہ طالبان اس سلسلے میں صدر ٹرمپ کی بے چینی کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور وہ مصالحتی معاملے کو کچھ طول دے کر اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کریں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بالاخر امریکہ افغانستان سے انخلا کرنیوالا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان کی طویل جنگ کے خاتمے کیلئے فروری 2020ء میں طالبان کیساتھ طویل مذاکرات کے بعد قطر میں ایک امن معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معا ہد ے کے تحت غیرملکی فور س انخلاء کی پابند ہیں۔ دوسری طرف طالبان اور کابل انتظامیہ پر انٹرا افغان مذاکرات کے ذریعے سیاسی افہام و تفہیم کے جذبے کے تحت تمام فریقوں کیلئے یکساں طور پر قابل قبول حکومتی نظام قائم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، تاہم اسوقت صورتحال یہ ہے کہ معا ہدے کے ابتدائی نکات پر تھوڑا عملدرآمد ہوا ہے لیکن سا تھ ہی افغانستان میں ایک مرتبہ پھر دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہاہے۔

صدر ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -