چائلڈ پورنوگرافی کے مجرم کی اپیل مسترد، عبوری ضمانت بھی منسوخ

  چائلڈ پورنوگرافی کے مجرم کی اپیل مسترد، عبوری ضمانت بھی منسوخ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس فاروق حیدر نے بچوں کی فحش فلمیں اورتصاویر بنانے کے مجرم سعادت امین کی اپیل مسترد کردی جس کے باعث مجرم کی ضمانت پر رہائی کا عبوری عدالتی حکم بھی منسوخ ہوگیاہے۔عدالت عالیہ نے 14مئی کو سعادت امین کی درخواست پر ماتحت عدالت سے ملنے والی 7سال قید بامشقت کی سزا معطل کرتے ہوئے اسے 2لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کاعبوری حکم دیاتھاتاہم مجرم کی رہائی کی روبکار جاری ہونے سے قبل ہی اس کی بنیادی اپیل بھی سماعت کے لئے مقررہو گئی۔ گزشتہ روز فاضل جج نے فریقین کا موقف سننے کے بعد مجرم کی اپیل مستردکردی جس کے باعث اس کی ضمانت پر رہائی کا حکم بھی منسوخ ہوگیا۔اپیل کنندہ کے وکیل رانا ندیم نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نارویجن پولیس کے لائزون آفیسر رائے لینڈوت کی درخواست پر سعادت امین کومقدمہ میں بے بنیاد ملوث کیا گیا،اس پر کمسن بچوں کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز نارویجن شہری کو بھجوانے کا الزام ہے جو ٹرائل کورٹ میں ثابت نہیں ہوسکا،مجرم کے خلاف فحش ویڈیوز بنانے کے شواہدموجود نہیں،ٹرائل کورٹ نے ناکافی شواہد کے باوجود درخواست گزار کو 7 برس قیدکی سزا سنائی، وہ2017ء سے جیل میں قید ہے۔حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم نہیں ہے،عدالت نے شہادتوں کی بنیاد پر قانون کے مطابق مجرم کو سزا سنائی،مجرم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، مجرم ایک بین الاقوامی چائلڈ پورنو گرافی گینگ کا حصہ ہے، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ حقائق کے عین مطابق ہے،اپیل خارج کی جائے۔فاضل جج نے فریقین کا موقف سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد مجرم کی اپیل مسترد کردی۔ 14 مئی کو فاضل جج نے مجرم کی درخواست ضمانت اس بنیاد پر منظور کی تھی کہ 2018ء سے سزا کے خلاف ہائیکورٹ میں دائر اپیل پر سماعت ہی نہیں کی گئی جبکہ مجرم اپنی 7 سال میں سے 4 برس قید اپیل کے حتمی فیصلے سے پہلے ہی کاٹ چکا ہے۔اب جبکہ مجرم کی اپیل کی سماعت مکمل ہونے کے بعداسے مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کردیاگیاہے تو اس کی ضمانت پر رہائی کا عبوری فیصلہ از خود منسوخ ہوگیاہے۔

اپیل مسترد

مزید :

صفحہ آخر -